مسلم لیگ( ن) اور سنی اتحاد کونسل میں ڈیڈلاک برقرار، ارکان واپس لابی میں چلے گئے 

مسلم لیگ( ن) اور سنی اتحاد کونسل میں ڈیڈلاک برقرار، ارکان واپس لابی میں چلے ...
مسلم لیگ( ن) اور سنی اتحاد کونسل میں ڈیڈلاک برقرار، ارکان واپس لابی میں چلے گئے 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)مسلم لیگ (ن) اور سنی اتحاد کونسل میں ڈیڈلاک برقرارہے،ایوان میں آنے کے بعد سنی اتحاد کونسل کے ارکان واپس لابی میں چلے گئے ۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے سپیکر ملک احمد خان کی زیرصدارت اسمبلی کا اجلاس جاری  ہے ،وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے( ن) لیگ کی مریم نواز اور سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب مدمقابل ہیں،پنجاب اسمبلی کا ایوان اس وقت 327ارکان پر مشتمل ہے،مسلم لیگ(ن) کو اس وقت پنجاب اسمبلی میں 224ارکان کی حمایت حاصل ہے ،سنی اتحاد کونسل کے پاس پنجاب اسمبلی میں 103ارکان ہیں،قائد ایوان کیلئے 186ارکان کی اکثریت حاصل کرنا ضروری ہے۔

رانا آفتاب احمد خان نے پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کی اجازت طلب کی،سپیکر ملک احمد خان نے رانا آفتاب کو بولنے سے منع کردیا،سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ آج کے اجلاس میں صرف وزیراعلیٰ کا چناؤ ہونا ہے،آپ آج کے اجلاس میں نہیں بول سکتے۔جس پر پنجاب اسمبلی میں اراکین نے شور شراباکیا،سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے بات کرنے کی اجازت نہ دینے پر احتجاج اور واک آؤٹ کیا،سپیکر پنجاب اسمبلی نے ہدایت کی کہ گیلریز میں نظم و ضبط قائم رکھیں، سپیکر پنجاب اسمبلی نےسنی اتحاد کونسل کے ارکان کو منانے کیلئے 4رکنی کمیٹی قائم کردی ۔

مسلم لیگ (ن) اور سنی اتحاد کونسل میں ڈیڈلاک برقرارہے،ایوان میں آنے کے بعد سنی اتحاد کونسل کے ارکان واپس لابی میں چلے گئے ۔