سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کیس کاٹرائل دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا،سابق اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کے دلائل

سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کیس کاٹرائل دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا،سابق ...
سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کیس کاٹرائل دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا،سابق اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کے دلائل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس کیس عدالتی معاون سابق اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کیس کا ٹرائل شفاف انداز میں نہیں چلایا گیا،سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کیس کاٹرائل دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا،سپریم کورٹ اس حد تک ضرور قرار دے سکتی ہے کہ بھٹو کیس غلط طریقے سے چلایا گیا۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں 9رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی بنچ میں شامل  ہیں،جسٹس امین الدین ، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر،جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی بھی 9رکنی لارجر بنچ کا حصہ ہیں،کیس کی کارروائی سپریم کورٹ کے یوٹیوب چینل پر براہ راست نشر کی گئی ،عدالتی معاون سابق اٹارنی جنرل خالد جاوید خان  عدالت پیش ہوئے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آپ دیگر معاونین کے برعکس کچھ کہنا چاہتے ہیں تو بتا دیں،عدالتی معاون خالد جاوید خان نے کہاکہ میں نے تحریری طور پر بھی معروضات پیش کی ہیں،سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کسی کا ٹرائل شفاف انداز میں نہیں چلایا گیا۔

خالد جاوید خان نے کہاکہ سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کیس کاٹرائل دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا،سپریم کورٹ اس حد تک ضرور قرار دے سکتی ہے کہ بھٹو کیس غلط طریقے سے چلایا گیا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ سپریم کورٹ بھٹو کیس کے میرتس پر نہیں جا سکتی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ سپریم کورٹ صدارتی ریفرنس پر رائے دینے کا پابند ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ میرے خیال میں عدالت بھٹو کیس میں صرف ٹرائل شفاف ہونے کی حد تک دیکھ سکتی ہے،خالد جاوید خان نے کہاکہ عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا پوری ریاستی مشینری آمر ضیا الحق کے کنٹرول میں تھی،لاہور ہائیکورٹ کے جج آفتاب احمد نے کہاتھا کہ ذوالفقار بھٹو اچھے مسلمان نہیں،ہائیکورٹ جج کو کسی کے اچھے مسلمان ہونے پر بات کرنے کی کیا ضرورت تھی،اچھا مسلمان نہ ہونے کی بات بھی سپریم کورٹ کے نوٹس میں آئی،سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے جج کی آبزرویشن کی نفی نہیں کی،سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے کی بات کو غلط نہیں کہا،سیاسی مقاصد کے علاوہ دیگر معاملات پر عدالت رائے دینے کی پابند ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیاکہ کیا لاہور ہائیکورٹ کے جج نے ایسی بات کی تھی؟عدالتی معاون نے کہاکہ سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ ہے جس میں ہائیکورٹ کے جج کی آبزرویشن کا ذکر ہے،ذوالفقار علی بھٹو  کیس تاریخ کا واحد فوجداری فیصلہ ہے جو 935صفحات کا ہے،کبھی ایسا طویل فوجداری فیصلہ لکھا گیا ہے تو بتائیں،جسٹس مندوخیل نے کہاکہ تفصیلی سے لگتا ہے جن ججز نے فیصلہ دیا وہ خود بھی متفق نہیں تھے،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ ذوالفقار علی بھٹو کیس کا ٹرائل دوبارہ کیسے دیکھ سکتی ہے؟انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے تو سپریم کورٹ اب دوبارہ کیسے جائزہ لے؟

چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے کہاکہ سپریم کورٹ کسی بھی عدالت کے فیصلے کا جائزہ لے سکتی ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ بھٹو کیس میں ٹرائل کی شفافیت دیکھی جا سکتی ہے مگر طریقہ کار کا بتایا جائے،ایک صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ فوجداری کا ٹرائل کیسے دوبارہ کھولے،عدالتی معاون خالد جاوید نے کہاکہ مارشل لا دور میں ججز آزاد نہیں تھے۔

رضا ربانی نے کہا کہ جب جسٹس وحید الدین بیمار ہوئے تو یہ معاملہ عدالت میں رکھا گیا،اس وقت ایک ایڈہاک  جج 9ممبر بنچ میں شامل ہوئے،اس کیس میں قیصر خان ایڈہاک جج تھے،عدالتی معاون نے کہاکہ عدلیہ آزاد ہوتی تو ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی نہ ہوتی،بھٹو اپیل پر سپریم کورٹ میں جس عدالتی بنچ نے کیس سنا اس میں ایڈہاک ججز بھی تھے،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہاکہ بھٹو کیس 9رکنی بنچ نے سنا بعد میں 7رہ گئے، جسٹس امین الدین خان نے کہاکہ نسیم شاہ ایڈہاک جج کے طور پر کیس کیسے سن سکتے تھے۔