قسمت اچھی تھی کہ بچ گیا ورنہ سیٹھ اپنے افسروں کی ہر کمزوری برداشت کر لیتے تھے لیکن عیاشی اور شراب نوشی ان کی کتابوں میں ناقابل معافی جرم تھا

قسمت اچھی تھی کہ بچ گیا ورنہ سیٹھ اپنے افسروں کی ہر کمزوری برداشت کر لیتے تھے ...
قسمت اچھی تھی کہ بچ گیا ورنہ سیٹھ اپنے افسروں کی ہر کمزوری برداشت کر لیتے تھے لیکن عیاشی اور شراب نوشی ان کی کتابوں میں ناقابل معافی جرم تھا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:194
 ہم ٹھیک 1 بجے بینک عوام کے لیے بند کر دیا کرتے تھے، تاہم اندر کام معمول کے مطابق ہوتا رہتا تھا۔ دروازہ پر ایک چوکیدار کھڑا کر دیا جاتا تھا جو اندر والوں کو تو باہر تو جانے دیتا لیکن باہرسے کسی کو اندر نہیں گھسنے دیتا تھا۔ اس روز جعفری حسب معمول بینک سے باہر نکلا ہوا تھا اور میں اس کی جگہ اس کی میز پر بیٹھا تھا جو بالکل کھڑکی کے ساتھ ہی ایک کھلے کیبن میں لگا ہوا تھا۔ سامنے وہی تینوں ماں بیٹیاں بیٹھی کراچی سے ٹیلیفونک ٹرانسفر کی تصدیق ہونے کا انتظار کر رہی تھیں۔ جعفری کی ذاتی مہمان ہونے کی وجہ سے وہ خصوصی سلوک کی حق دار ٹھہری تھیں اور ان کو چائے اور  بسکٹ پیش کر دیئے گئے تھے۔
اچانک بینک کا دروازہ زور زور سے بجنے لگا، چوکیدار نے ذرا سا کھول کر دیکھا تو کوئی صاحب اندر آنے کی کوشش کر رہے تھے اور چوکیدار ایسا ہونے نہیں دے رہا تھا۔ اس نے ان کی ایک نہ سنی اور ان کو باہر دھکیل کر دروازہ اندر سے بند کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد میرے ساتھ والی کھڑکی زور سے بجی اور ہیلو ہیلو کی آواز سنائی دی، پہلے تو میں نے توجہ ہی نہیں دی جب دوبارہ یہی کچھ ہوا تو میں نے اٹھ کر ذرا سا پردہ سرکا کر باہر جھانکا تو ساتھ ہی میرا رنگ فق ہوگیا، باہر چھوٹے سیٹھ بہ نفسِ نفیس کھڑے کھڑکی بجا رہے تھے، میں نے جلدی سے سب کو متنبہ کیا کہ سیٹھ آگئے ہیں، سب سنبھل کر بیٹھ گئے میں دروازے کی طرف بھاگا اور ان کو عزت اور احترام سے اندر لے آیا۔ چوکیدار کو اپنی مہلک غلطی کا احساس ہو گیا تھا۔ غریب آدمی تھا، سیٹھ کے گھٹنوں کو ہاتھ لگا کر ہچکیاں لے کر رونے لگا کہ مائی باپ مجھے پتہ نہیں تھا کہ یہ آپ ہیں، مجھے معاف کردیں۔ سیٹھ کی عظمت تھی کہ اس نے نہ صرف یہ کہ اس کو اُٹھا کر گلے سے لگایا بلکہ اپنی جیب سے 100روپے انعام بھی دیا اور کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں ہے تم اپنی ڈیوٹی کر رہے تھے۔
سیٹھ میرے ساتھ ہی سیدھے جعفری کے کیبن میں آکر بیٹھ گئے۔ پوچھا کہ جعفری کہاں ہے میں نے بتایا کہ کسی پارٹی سے ملنے گئے ہیں ابھی کچھ دیر میں آجائیں گے۔ سیٹھ صاحب نے ساتھ بیٹھی ہوئی خواتین کو دیکھا تو مجھ سے پوچھا ان کا کیا مسئلہ ہے میں نے بتایا کہ ان کے پیسے کینڈا سے چلے ہوئے ہیں لیکن ہفتہ بھر گزرنے کے باوجود ابھی تک یہاں نہیں پہنچے ان کے لیے کراچی ہیڈ آفس کے لیے کال بک کی ہوئی ہے۔ سیٹھ نے خواتین کو اپنا تعارف کروایا اور کہنے لگے کہ ”میں پتہ کرواتا ہوں اگر ہمارے بینک کی غلطی یا کوتاہی پائی گئی تو نہ صرف یہ کہ آپ کی رقم کی فوری ادا ئیگی ہوگی،بلکہ آپ کے نقصان کی تلافی بھی کی جائے گی اور اعلیٰ انتظامیہ آپ سے معذرت بھی طلب کرے گی۔“
اس زمانے کا مواصلاتی نظام کچھ ایسا ہی تھا کہ کراچی کی کال ملنے میں 2گھنٹے لگ جانا معمولی بات تھی۔ اسی دوران جب کال ملنے کا انتظار ہو رہا تھا تو سیٹھ صاحب نے اچانک ہی خواتین سے پوچھ لیا کہ”آپ لوگ کہاں ٹھہری ہوئی ہیں“، انھوں نے بغیر سوچے سمجھے منہ پھاڑ کے کہہ دیا کہ”ہم جعفری کے گھر میں رہتی ہیں“۔ سیٹھ کے کان کھڑے ہوئے پوچھا ”کیا جعفری آپ کا کوئی عزیز ہے؟؟“انھوں نے کہا ”نہیں جی ہم تو ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے انھوں نے ہمیں اپنے گھر میں رہنے کی دعوت دی تو ہم وہاں چلے گئے۔“سیٹھ خاموش ہو گئے لیکن اصل بات کی تہہ تک پہنچ گئے تھے۔ بہر حال کراچی سے فون آگیا اور خواتین کا مسئلہ حل ہو گیا اور وہ اٹھ کر چلی گئیں۔
میں نے دیکھا سیٹھ کا مزاج واضح طور پربرہم ہو گیا تھا، انھوں نے چائے بھی نہیں پی تھی اور اٹھ کر جانے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ مجھے کہنے لگے کہ جعفری آئے تو اسے کہنا کہ ذرا مجھ سے مل لے۔ میں اورہمدانی سمجھ گئے تھے کہ معاملہ بہت بگڑ گیا ہے۔کچھ ہی دیر بعد جعفری اپنے خاص انداز میں سیٹی بجاتا اور مسکراتا ہوا داخل ہوا تو اسے بتایا گیا کہ سیٹھ صاحب آپ کو ملنا چاہ رہے ہیں۔ وہ انہی قدموں سے واپس ہو ا اور بڑا خوش خوش ان کے ہوٹل کی طرف روانہ ہوا کیونکہ بینک کے مالکان کی خدمت کرنے سے آگے ترقی کے دروازے کھلتے جاتے تھے۔
آدھے گھنٹے بعد جب وہ واپس آیا تو اس کا چہرہ لال بھبھوکا ہو رہا تھا، آتے ہی مجھے کہنے لگا کہ ”بھلا آپ کو کیا ضرورت تھی یہ سب کچھ ان کو بتانے کی کہ وہ میرے ساتھ ٹھہری ہوئی ہیں“،میں نے بتایا کہ ”جناب یہ اطلاع میں نے نہیں بلکہ آپ کی ان مہمانوں نے ہی براہ راست ان کو دی تھی“۔ جب ساری بات کا علم ہوا تو بڑا جُزبُز ہوا اور اسی وقت گھر فون کر کے اپنے ملازم کو کہا کہ فوراً ان لوگوں کا سامان اٹھا کر باہر پھینک دو۔ قسمت اچھی تھی یا سیٹھ کا موڈ بہتر تھا کہ وہ بچ گیا ورنہ سیٹھ اپنے منیجروں اور آفیسروں کی ہر کمزوری برداشت کر لیتے تھے لیکن عیاشی اور شراب نوشی ان کی کتابوں میں ناقابل معافی جرم تھا۔ وہ اپنے آفیسروں کو کسی بھی سکینڈل میں ملوث دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔اور یہ بات سب کو اچھی طرح باور کروا دی گئی تھی۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -