انجنیئرنگ کالج والوں کا باوا آدم ہی نرالا تھا،میس میں ناشتہ ہوتا ہی نہیں تھا ہمیں ملازمین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ، جس کو جو  کھانا ہوتا بنوا لیتا یا منگوا لیتا

 انجنیئرنگ کالج والوں کا باوا آدم ہی نرالا تھا،میس میں ناشتہ ہوتا ہی نہیں ...
 انجنیئرنگ کالج والوں کا باوا آدم ہی نرالا تھا،میس میں ناشتہ ہوتا ہی نہیں تھا ہمیں ملازمین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ، جس کو جو  کھانا ہوتا بنوا لیتا یا منگوا لیتا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:25
میں نے بھی کچھ دن واپڈا میں کام کیا لیکن کچھ عرصے بعد میں نے اس وقت اپنا شعبہ سول انجنیئرنگ بدلنے کا فیصلہ کیا جب  مجھے امریکہ کی طرف سے ایک وظیفے کی پیشکش ہوئی تھی جہاں سے میں نے شعبہ شہری منصوبہ بندی میں پوسٹ گریجویشن کیا اور اس کے بعد ویسٹ پاکستان ڈپارٹمنٹ آف کمیونیکشن اینڈ ورکس میں ڈپٹی ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ کی نشست سنبھالی اور پاکستان میں مختلف عہدوں پر خدمات انجام دینے کے بعد بالآخر میں نے اقوام متحدہ میں اربن اور ریجنل پلاننگ میں مشیر کی حیثیت سے کام شرو ع کردیا، اب آپ نے محسوس کر لیا  ہوگا کہ ہم تینوں جگری دوست، جن کو انجنیئرنگ کالج میں رول نمبر 1، 2 اور 3 ملے تھے کس طرح ممتاز اور پُروقار عہدوں تک جاپہنچے تھے۔
 ہم پھر انجنیئرنگ کالج کی طرف واپس آتے ہیں، یہاں کے ہوسٹل کا نظام اتنا مؤثر نہیں تھا جتنا ہم گورنمنٹ کالج میں دیکھ آئے تھے۔ وہاں ڈاکٹر عظیم تھے جو طلبہ کو انتہائی مؤثر انداز اور مناسب قیمت میں بہترین سہولتیں فراہم کرتے تھے۔ وہاں ایک باقاعدہ ناشتے کا اہتمام ہوتا تھا جس میں متعدد انواع و اقسام کی اشیاء ہوتی تھیں جن کو ایک سلیقے سے کھانے کی میز پر پیش کیا جاتا تھا۔ لیکن یہاں انجنیئرنگ کالج والوں کا تو باوا آدم ہی نرالا تھا۔ یہاں میس میں ناشتہ ہوتا ہی نہیں تھا۔ بلکہ ہمیں ان ملازمین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تھا جو ہمارے حصے میں آئے تھے۔ یہاں جس کو جو کچھ بھی کھانا ہوتا ان سے بنوا لیتا یا منگوا لیتا تھا۔ میں تو اکثر ناشتے میں ایک بن کے ساتھ لسی کا ایک گلاس یا پھر کبھی کبھار چائے کا ایک کپ لیتا تھا۔ دوپہر کا اور رات کا کھانا ڈائیننگ روم میں دیا جاتا تھا۔ ہر چند کہ یہاں کھانے کا معیار اچھا تھا مگر اس میں وہ مزہ نہیں تھا جو گورنمنٹ کالج کے کواڈرینگل ہوسٹل کے لذیز کھانوں میں ہوتا تھا۔
انجنیئرنگ کالج تعلیمی لحاظ سے پنجاب یونیورسٹی کے ساتھ وابستہ تھا اور ہمارے سال اول اور دوم کے امتحان بھی اسی یونیورسٹی  کے زیر اہتمام منعقد ہوئے تھے۔ لیکن آخری سال یعنی سال 1962۔ 1961 میں اس انجنیئرنگ کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دے کر اس کا نام یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی رکھ دیا گیا۔ عام زبان میں اسے یو ای ٹی ہی کہتے تھے۔ جناب انعام اللہ خان جو کمیونیکیشن اور ورکس ڈیپارٹمنٹ میں چیف انجنیئر تھے، اس یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر بنے تھے۔ ہم اپنی تعلیم کے آخری سال میں تھے جہاں ہمارے اساتذہ میں دو  عظیم استاد بھی شامل تھے۔ ایک تو ڈاکٹر مبشر حسن تھے جو بعد میں بھٹو حکومت میں وزیر خزانہ رہے، اور دوسرے رشید خان۔ ایک دن صبح صبح ہمیں یہ اطلاع ملی کہ ان دونوں کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے۔یہ خبر ہم سب کے لیے انتہائی حیرت اور صدمے کا باعث بنی تھی۔ لہٰذا فیصلہ کیا گیا کہ ہم ہڑتال کریں گے اور جلوس نکالیں گے۔ یہ بڑی انوکھی ہڑتال تھی جس کی قیادت مختلف شعبوں کے با صلاحیت طلبہ کر رہے تھے۔ ہم نے دونوں اساتذہ کرام کو عزت اور احترام سے واپس ان کی جگہ تعینات کئے جانے کا مطالبہ کیا اور بعد میں اپنی مانگوں میں ہم نے نئے وائس چانسلر کی بر طرفی کا تقاضابھی کر ڈالا۔ یہ ہڑتال کئی روز تک جاری رہی۔ اس وقت ہمیں علم ہی نہ تھا کہ ڈاکٹر مبشر حسن اندر سے ایک سیاسی شخصیت تھے اور وہ در حقیقت ہمیں اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ لیکن ہم بھی ہڑتال کو اس وقت تک جاری رکھنے پر بضد تھے جب تک کہ ہمارے تمام مطالبات تسلیم نہیں کر لیے جاتے۔ یہ مطالبات ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے ہی چلے گئے یہاں تک کہ ان کی تعداد 28 تک پہنچ گئی۔ یہ صدر ایوب خان کی حکومت کا دور تھا اور پورے مغربی پاکستان پر نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان کی حکومت تھی۔ کیوں کہ اس وقت ون یونٹ تھا اس لیے وہ سارے مغربی پاکستان  کے گورنر تھے۔ ان کے بارے میں سب کو ہی علم تھا کہ وہ ایک سخت مزاج اور بے رحم گورنر تھے۔ ہمیں علم ہوا کہ ہمارے نام خفیہ ایجنسی یعنی سی آئی ڈی کی بنائی گئی اُن لسٹوں میں شامل کر دئیے گئے ہیں جن کو یونیورسٹی سے نکالنا مقصود تھا۔ جب ہڑتالوں اور جلسے جلوسوں کا یہ سلسہ بے قابو ہوا تو یونیورسٹی کو بند کرنے کا حکم آگیا اور ساتھ ہی طلبہ کو فوری طور پر ہوسٹل خالی کرنے کابھی کہہ دیا گیا۔ اب جب ہمیں حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوا تو ہم پریشان ہوگئے کہ آیا ہم لوگ اپنی انجنیئرنگ کی تعلیم کو مکمل بھی کرسکیں گے۔ شریف بھٹی اوکاڑہ میں کپڑوں کے تاجر خاندان سے آیا تھا۔ اس نے رائے دی کہ اگر ایسا ہوا تو ہم انار کلی بازار میں کپڑوں کی ایک دکان کھول لیں گے۔ بہرحال حالات کچھ سنبھلے تو سب کو معاف کردیا گیا اور ہم سب نے اپنا آخری سال مکمل کرلیا اور یوں ہم یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے پہلے گروپ میں شامل تھے جنہوں نے یہاں سے گریجویشن مکمل کی تھی۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -