ایک ہفتے میں کم از کم 10 گھنٹے اسی سوچ بچار اور غور و فکر میں مبتلا رہتا ہوں کہ اخراجات کیسے کم کروں اور اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کیسے کروں 

 ایک ہفتے میں کم از کم 10 گھنٹے اسی سوچ بچار اور غور و فکر میں مبتلا رہتا ہوں کہ ...
 ایک ہفتے میں کم از کم 10 گھنٹے اسی سوچ بچار اور غور و فکر میں مبتلا رہتا ہوں کہ اخراجات کیسے کم کروں اور اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کیسے کروں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
ترجمہ:ریاض محمود انجم
 قسط:12
ان میں سے کسی کتابچے میں کوئی ایسا طریقہ نہیں بتایا گیا کہ بجٹ کو متوازن بنانے، بجٹ کے متعلقہ مسائل حل کرنے اور مالی معاملات میں آزادی و خود مختاری حاصل کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دولت کس طرح حاصل کی جاسکتی ہے۔
کچھ بڑے تجارتی اداروں کے سربراہ ”بل اور جین“ کے اپنائے گئے طریقے کے مطابق ہی اپنا طرز عمل اختیار کرتے ہیں۔ مثلاً: 
صدر: اگلے سال کی متوقع آمدنی 20 فیصد کم ہے، اب ہم اپنے بجٹ کو متوازن بنانے کے لیے اپنے اخراجات اور لاگتیں کیونکر کم کرسکتے ہیں؟“
سکویکی: ”جناب، ہم اپنے ملازمین کے لیے شروع کئے گئے تربیتی پروگرام کو ختم کر سکتے ہیں کیونکہ کم از کم آئندہ 2سال تک یہ ہمارے کسی کام کا نہیں۔“
مائنور: اور پھر ہم اپنی نئی مصنوعات کے متعلق تیاری اور تحقیق کے حوالے سے مختص رقم کو کم یا یکسر ختم کر سکتے ہیں کیونکہ ہم میں سے کسی کو بھی نہیں معلوم کہ ہماری کوئی بھی متوقع اور نئی مصنوعہ ہمارے لیے قابل قدر اور اضافی آمدنی کا باعث ہوگی۔
ٹائٹ ورڈ:ہمیں اس سال ملازمین کو بونس ادا نہیں کرنا چاہییئ کیونکہ بہرحال، ہم اپنے ملازمین کو بہتر اور مناسب تنخواہیں ادا کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنے ملازمین کو زیادہ رقم اور معاوضہ ادا کریں گے تو کیا وہ کام چور نہیں ہو جائیں گے؟
اور اب، جو کمپنی کامیابی اور ترقی حاصل کرنے کی متمنی اور خواہشمند ہے، زیادہ سے زیادہ ایسے طریقے اور تراکیب ڈھونڈے گی جن کے ذریعے آمدنی میں اضافہ ہو جائے، بجٹ متوازن ہو جائے اور پھر منافع بخش نتائج سامنے آئیں۔
آپ اس خیال میں نہ رہیں کہ آپ کی محدود آمدنی، آپ کی ضروریات و خواہشات کی تکمیل کے لیے کافی نہیں ہے، بلکہ ہمیشہ اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے غور و فکر اور سوچ بچار کرتے رہیں۔
میرے ایک ساتھی نے اپنے بجٹ سے متعلقہ مسائل کے متعلق مجھے اس طرح بتایا: اس نے کہا ”میں ایک ہفتے میں کم از کم 10 گھنٹے اسی سوچ بچار اور غور و فکر میں مبتلا رہتا ہوں کہ اپنے اخراجات کیسے کم کروں، کنجوسی سے خرچ کیسے کروں اور اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کیسے کروں۔ اور ہر رات بستر پر لیٹے ہوئے2گھنٹے میں یہ سوچنے میں ضائع کر دیتا ہوں کہ میری حالت کتنی بری ہے اور آئندہ میں اور میرا خاندان کس طرح زندگی گزاریں گے۔
اور پھر میں نے اپنے ماضی کے حالات سے صرفِ نظر کرکے اپنے مستقبل کی طرف توجہ کی۔ میں نے ایک جز وقتی ملازمت حاصل کر لی اور اب اس جز وقتی، ملازمت کی تنخواہ، میری کل وقتی، ملازمت کی تنخواہ کے تقریباً برابر ہے۔ 6 ماہ کے اندر اندر میں میری تنخواہ دوگنی ہوگئی ہے اور اب میں ہر لحاظ سے خوش ہوں اور ایک نہایت ہی بہترین اور خوشحال زندگی سے لطف اندوز ہو رہا ہوں۔“(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -