اقبال محمود اعوان مرحوم ایڈووکیٹ

اقبال محمود اعوان مرحوم ایڈووکیٹ

دنیا بے شک جہانِ فانی ہے اور بحیثیت مسلمان ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور ہمیں قیامت کے بعد دوسری، یعنی ابدی زندگی میسر آئے گی جو کہ نیک اعمال اور صالح زندگی بسر کرنے والوں کے لئے جنت کی صورت میں ہوگی۔ بہت کم انسان ایسے ہوتے ہیں جو لوگوں کے دلوں میں بس جاتے ہیں اور ان کی موت کا یقین نہیں آتا اور ایسے لگتا ہے کہ وہ زندہ ہیں اور ابھی سامنے آ جائیں گے ،لیکن پھر یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ موت ایک حقیقت ہے، اس سے فرار ممکن نہیں ہے۔ ایسے ہی انسانوں میں اقبال اعوان کا شمار ہوتا ہے۔

اقبال محمود اعوان مرحوم 25ستمبر 1955ء کو بھیرہ ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئے اور 59سال کی عمر میں 23جنوری 2014ء کو مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ 23جنوری 2015ء بروز جمعتہ المبارک ان کی پہلی برسی منائی جا رہی ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی بچپن سے لے کر آخری عمر تک بری متحرک گزاری۔ سینٹرل ماڈل سکول لوئر مال لاہور سے جی این بٹ مرحوم جب ہیڈ ماسٹر تھے، ان کے دور میں میٹرک کیا، پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ آپ کو سکول کے زمانے ہی سے لکھنے لکھانے کا شوق تھا اور تقریری مقابلوں میں بھرپور حصہ لیا جو ان کے والد مرحوم ملک غلام علی اعوان کی خواہش اور محنت و لگن کا نتیجہ تھا۔ انہیں اس وقت کے گورنر پنجاب جنرل محمد موسیٰ اور ائر مارشل نور خان نے خصوصی ایوارڈز سے بھی نوازا۔ اس وقت کے اخبارات نے ان کے بارے میں لکھا کہ اقبال محمود اعوان کے جیتے ہوئے انعامات کا وزن ان کے اپنے وزن سے زیادہ ہے۔

انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور میں سٹوڈنٹس یونین کا الیکشن بھی لڑا، 1972-73ء کے سیشن میں ’’اکیڈمک رول آف آنر‘‘کا اعزاز حاصل کیا۔ آپ بہت اچھے ڈبیٹر تھے۔ گورنمنٹ کالج اور بعدازاں پنجاب یونیورسٹی لاء کالج سے پورے پنجاب میں 1975-76 کے سیشن میں قانون کے امتحان ایل ایل بی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔گورنمنٹ کالج لاہور میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے لاہور میں جب اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کی تو گورنمنٹ کالج گزٹ کا چھ غیر ملکی زبانوں میں خصوصی شمارہ ’’اتحاد بین الامسلمین‘‘ اسلامک سمٹ 1974ء کے موقع پر شائع کیا۔گورنمنٹ کالج لاہور میں دوران تعلیم تقریری مقابلوں اور مباحثوں میں 12گولڈ میڈل اور 87 ٹرافیاں جیتیں، جبکہ پنجاب یونیورسٹی لاء کالج کے لئے ایک ہفتے میں 6ٹرافیاں جیت کر ڈبیٹنگ میں ’’نیاریکارڈ‘‘ قائم کیا۔ آپ کے 2500سے زائد مضامین مختلف قومی و بین الاقوامی موضوعات پر پاکستان کے قومی اخبارات و جرائد میں شائع ہوئے۔ آپ قانون کے حوالے سے 10سے زائد مختلف کتابوں کے مصنف ہیں۔ اس کے علاوہ لاء کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور کے وزیٹنگ لیکچرار رہے اور انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس لاہور کے مختلف پیپرز کے لئے ایگزامینر بھی رہے۔

آپ نے ایمبسٹرڈیم(ہالینڈ، بنکاک (تھائی لینڈ) ،بلفاسٹ(آئر لینڈ) ، برلن (جرمنی)، بوسٹن(امریکہ)، قاہرہ (مصر) ، دبئی اور شارجہ(یو اے ای)، پرتھ(اسکاٹ لینڈ)، تاشقند (ازبکستان) اور وینکور(کینیڈا) میں قانون کے حوالے سے مختلف سیمینار میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ آپ متعدد سماجی و فلاحی تنظیموں کے عہدیدار بھی رہے۔ جن میں پاکستان یوتھ ٹیلنٹ کونسل کے سرپرست، اینٹی نارکوٹکس آرگنائزیشن آف پاکستان کے ایڈوائزر، میڈیکولیگل سوسائٹی آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری، نیشنل یوتھ کونسل کے صدر اور ایمرجنگ لائرز فورم کے جنرل سیکرٹری کے عہدے شامل ہیں۔ اقبال محمود اعوان ملک کی قومی سیاست میں بھی بڑے متحرک رہے۔ تحریک نظام مصطفی ؐ 1977ء میں پاکستان قومی اتحاد اور جمعیت علمائے پاکستان (مولانا شاہ احمد نورانی گروپ) سے وابستہ رہے۔ آپ قومی اتحاد کے جلسوں میں صف اول کے مقررین میں شامل تھے اور رفیق باجوہ ایڈووکیٹ مرحوم سیکرٹری جنرل قومی اتحاد کی تقریر کے بعد آپ تقریر کرتے تھے۔

اقبال محمود اعوان راقم الحروف کے ہمراہ اس دوران ڈی پی آر (ڈیفنس آف پاکستان کے رولز) کے تحت بھٹو دور میں گرفتار بھی رہے اور جب جنرل ضیاء الحق مرحوم نے اقتدار سنبھالا تو پھر ہمیں رہائی ملی۔ آپ پاکستان عوامی تحریک (ڈاکٹر طاہر القادری) کے ساتھ بھی منسلک رہے اور ان کے وکیل بھی تھے۔ ان کی پارٹی کے پنجاب کے صدر رہے اور 2002ء کے الیکشن میں بھی حصہ لیا۔ بعدازاں ذاتی اختلافات کی بناء پر ان کے پورے گروپ نے، جس میں منصور آفریدی ایڈووکیٹ، میجر انوار علوی اور دیگر ساتھی شامل تھے۔ڈاکٹر طاہر القادری کو چھوڑ کر دبئی میں بے نظیر بھٹو شہید سے ملاقات کرکے پاکستان پیپلزپارٹی جوائن کرلی، انہیں پنجاب پیپلزپارٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی کارکن منتخب کیا گیا۔ اپنے آخری وقت تک وہ اسی جماعت سے وابستہ رہے۔گورنمنٹ کالج لاہور میں ان کے کلاس فیلوز میں متعدد جج صاحبان، جبکہ موجودہ سینٹ پاکستان کے چیئرمین سینیٹر نیئر حسین بخاری اور وزیر مملکت برائے مذہبی امور پیر سید امین الحسنات شاہ بھی شامل ہیں۔

ان کے گھر واقع شادمان کالونی میں متعدد سیاست دان آتے رہے جن میں مولانا شاہ احمد نورانی (مرحوم)، مولانا عبدالستار خان نیازی(مرحوم)، ڈاکٹر طاہر القادری، رفیق باجوہ (مرحوم) ،جسٹس پیر کرم شاہ الازہری( مرحوم)، جنرل سرفراز خان(مرحوم) جنرل اے کے نیازی (مرحوم)، جہانگیر بدر، قاسم ضیاء نوید چودھری وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی بھرپور انداز سے گزاری۔ بہت خوش مزاج تھے۔ مختلف لطائف اور قصے سناکر محفل کو گرما دیتے۔ آپ نے جب عمرہ اور حج کی سعادت حاصل کی تو اپنے رب تعالیٰ سے وعدہ کیا کہ وہ پھر ساری عمر سگریٹ نوشی نہیں کریں گے، چنانچہ وہ آخری دن تک اس وعدے پر قائم رہے۔انہوں نے اپنی زندگی کے آخری حصے میں مختلف بیماریوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ ان کے ہارٹ کابائی پاس، برین ہیمرج سے زبان کی لکنت کا مسئلہ، پھر گردے کا ٹرانسپلانٹ ہوا جو کہ ان کے چھوٹے بیٹے سفیر اقبال عوان نے انہیں عطیہ کیا۔ وہ آخری دن تک اپنے دفتر ایوان اوقاف جاتے رہے اور پریکٹس کرتے رہے۔ اب ان کے بڑے صاحبزادے سمیر اقبال اعوان نے ان کا پیشہ وکالت اور دفتر سنبھالا ہے۔ انہوں نے اپنے پیچھے ایک اہلیہ کے علاوہ چار بیٹے سوگواران میں چھوڑے ہیں۔ راقم الحروف ان کا چھوٹا بھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور وہ اپنے دوستوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں۔(آمین)

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...