شادی کا لڈو

شادی کا لڈو
شادی کا لڈو

  

کسی بھی کنوارے کی خوش قسمتی یہ ہوتی ہے،کہ ہر ایک کو اُس کی شادی کی فکر رہتی ہے، والدین کے علاوہ یار دوست بھی رشتے کی تلاش میں مصروف ہو جاتے ہیں، مگر کنوارے کے نخرے بھی دیکھنے والے ہوتے ہیں، والدین یا یار دوست شادی کی بات کریں تو وہ ایک ہی جواب دیتا ہے، کہ ’’نہ بھئی نہ ابھی شادی کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘‘ بعض سیانے والدین اور کنوارے شخص کے دوست اس کی ’’نہ نہ‘‘ سے اندازہ لگا لیتے ہیں، لڑکے کی ’’نہ نہ‘‘ کے اندر ’’ہاں ہاں‘‘ موجود ہے، سو کوئی نہ کوئی رشتہ ڈھونڈ کے لڑکے کے سر پر سہرا باندھ ہی دیتے ہیں، مگر شیخ رشید جیسے کنوارے اسی ’’ نہ نہ‘‘ میں ساری عمر گزار دیتے ہیں، شروع میں شیخ رشید جیسے کنوارے ’’نہ نہ‘‘ بمعنی ہاں ہاں ہی کرتے ہیں، مگر جب وہ دیکھتے ہیں کہ والدین اور یار دوستوں نے ان کی ’’نہ نہ‘‘ کو ’’نہ‘‘ ہی سمجھ لیا تو پھر وہ اپنی اَنا کو تسلی دینے کے لئے ’’نہ نہ‘‘ کو اپنا ’’وظیفہ‘‘ بنا لیتے ہیں، سو یہ وظیفہ اپنا اثر دکھاتا ہے اور وہ شادی کے لڈو سے محروم زندگی گزارتے ہیں۔ کنوارے خوش قسمت ہوتے ہیں کہ ہر کوئی ان کی شادی کرانے کے لئے بے چین ہوتا ہے، مگر ’’طلاق یافتہ‘‘ کا معاملہ خاصا پیچیدہ ہوتا ہے۔

طلاق یافتہ خاتون ہو یا مرد، دوسری شادی کے لئے اسے خاصے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، بعض خوش نصیب عمران خان اور ریحام خان کی طرح کے بھی ہوتے ہیں، جو اچانک ملتے ہیں، اچانک محبت ہو جاتی ہے، پھر اچانک شادی بھی کر لیتے ہیں، مگر ہر طلاق یافتہ کے ایسے نصیب کہاں؟ طلاق یافتہ کو دوسری شادی کے لئے اچھے بھلے امتحان سے گزرنا پڑتا ہے، لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ پہلی بیوی یا پہلے شوہر نے طلاق کیوں دی، لڑکے کا کریکٹر کیسا ہے، رات کو وقت پر گھر آتا ہے کہ نہیں، کام کاج کرتا ہے کہ نہیں اور پھر بچے کس کے پاس ہیں۔ کیا اب پھر طلاق تو نہیں دے دے گا، یہی صورت حال طلاق یافتہ خاتون کو بھی پیش آتی ہے،مگر دونوں کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ ’’سماج‘‘ ہوتا ہے، سو اس دیوار کو ڈھانے میں خاصا وقت لگ جاتا ہے، مگر طلاق یافتہ بھی ایک سے دوسری بار نکاح کے بندھن میں بندھ ہی جاتا ہے۔ بعض سر پھرے تو دو کا عدد کراس کرتے ہوئے، تیسری، چوتھی شادی کر لیتے ہیں، مگر سب سے دُکھی اور غمگین واقعات ’’رنڈوے‘‘ یا ’’بیوہ‘‘ کے ہوتے ہیں اور اگر دونوں کے بچے بھی جوان ہوں تو معاملہ خاصا گڑ بڑ ہو جاتا ہے۔

دونوں ’’رنڈوا‘‘ اور ’’بیوہ‘‘ اگر شادی کا لڈو کھانے پر آمادہ ہو بھی جائیں، تو بڑے بڑے مسائل ان کے راستے میں کھڑے ہو جاتے ہیں، مثال کے طور پر ’’رنڈوے‘‘ یا ’’بیوہ‘‘ کی سب سے بڑی بیٹی کو جونہی خبر ملتی ہے کہ اماں یا ابا ایک بار پھر شادی رچانے کے موڈ میں ہیں تو وہ بیٹی اپنے آدھے درجن بچوں کے ساتھ ماں باپ کے آنگن میں ڈیرہ ڈال لیتی ہے، اس کی ایک ہی فریاد ہوتی ہے کہ ہمارے ابا یا اماں تم نے شادی کا فیصلہ کر لیا ہے، کتنے افسوس کی بات ہے کہ آپ کو ہم ’’یتیموں‘‘ کا بھی کوئی فکر نہیں ہے۔ اللہ بخشے اماں کو انہوں نے مرتے وقت مجھے بتا دیا تھا کہ، بیٹی مجھے اس وقت سے ڈر آتا ہے جب میرے دنیا سے جانے کے بعد تمہارے ابا نے دوسری شادی کر لینی ہے۔ یہی سوچ کے مجھے مرنے سے ڈر لگتا ہے کہ اگر مَیں مر گئی، تو تم ’’یتیموں‘‘ کا کیا ہو گا، کون تمہارے سر پر ہاتھ رکھے گا۔ بس بیٹا جونہی تمہارے ابا دوسری شادی کا پروگرام بنائیں، تم اپنے میاں اور بچوں کے ساتھ آ جانا اور کوشش کرنا کہ تمہارے ابا شادی کے بجائے ’’میرے پاس‘‘ آ جائیں۔

سو بیٹی ایسے حالات پیدا کر دیتی ہے کہ بے چارہ ’’ابا‘‘ چند دنوں میں ہی شوگر، بلڈ پریشر اور اس طرح کی دیگر بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے اور یوں شادی کا پلان دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے، مگر چند ’’رنڈوے‘‘ ایسے بھی ہوتے ہیں، جو سب سے پہلے ان مسائل کے حل کا بندوبست کرتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں اور شادی کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری واقعی ’’ایک زرداری سب پہ بھاری‘‘ ہیں۔ تمام اخبارات نے نمایاں طور پر خبر شائع کی ہے آصف علی زرداری نے دوسری شادی کر لی ہے اور اخبارات نے یہ بھی بتایا ہے کہ ان کی شادی تین سال پہلے ہوئی ہے اور ماشا اللہ ان کا دو سال کا ایک بیٹا سجاول زرداری بھی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اپنے والد کی دوسری شادی پر بلاول بھٹو زرداری اپنے باپ سے ناراض ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان واپس نہیں آنا چاہتے۔ البتہ آصف علی زرداری کی بیٹیوں کے بارے میں اطلاع دی گئی ہے کہ وہ اپنے والد کی شادی پر خوش ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کے حوالے سے بھی مجھے خبر کی صداقت پر یقین نہیں ہے، کیونکہ بلاول بھٹو زرداری نے جس معاشرے میں پرورش پائی ہے وہاں باپ کی دوسری یا تیسری شادی پر اختلافی بحث نہیں ہوتی، وہاں کے معاشرے میں شادی، طلاق، پھر شادی، پھر طلاق جیسے معاملات کو اتنا زیادہ سنجید معاملہ نہیں سمجھا جاتا۔انسان جس معاشرے میں رہتا ہے۔ وہاں کے کچھ نہ کچھ اثرات تو انسان کا ذہن قبول ضرور کرتا ہے، سو بلاول بھٹو زرداری کے حوالے سے شادی کی مخالفت کی بات سمجھ سے باہر ہے۔ البتہ دونوں کے درمیان اس بات پر اختلافات ہو سکتے ہیں کہ چونکہ ان کا چھوٹا بھائی ماں کی طرف سے سوتیلا ہے۔ اس لئے ماں کی طرف سے ملنے والی جائیداد(بلاول کو) نام اور شہرت میں اس کا حصہ نہیں ہونا چاہئے۔

ممکن ہے کہ ان کا مطالبہ ہو کہ ان کے سوتیلے بھائی کا نام ’’سجاول زرداری‘‘ تک محدود ہونا چاہئے اور ان کے نام کے ساتھ ’’بھٹو‘‘ لکھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے،مگر میرا یہ خیال غلط بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ بلاول بھٹو زرداری اس وقت ’’بھٹو قبیلے‘‘ کی نمائندگی کر رہا ہے اور حقیقی طور پر اگر دیکھا جائے تو حاکم علی زرداری کے قبیلے کی سرداری آصف علی زرداری کے بعد اگر کسی کے پاس ہو سکتی ہے تو وہ ان کا کوئی بیٹا ہی ہو سکتا ہے، مگر بیٹے کے پاس تو بھٹو قبیلہ کی ’’نمائندگی‘‘ ہے اور ظاہر ہے کہ ’’بھٹو قبیلہ‘‘ کے اثرات تو پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں، جبکہ ’’زرداری قبلہ‘‘ تو ایک خطّے تک محدود ہے۔میرا خیال ہے کہ دونوں کے درمیان اسی بات پر ’’تنازع‘‘ ہو سکتا ہے، جس کی کوئی زیادہ اہمیت نہیں ہے۔

دونوں باپ بیٹے کے درمیان اس بات پر کسی بھی وقت کوئی معاہدہ ہو سکتا ہے۔اس لئے ہمیں آصف علی زرداری کی شادی پر انہیں مبارک باد دینی چاہئے۔ انہوں نے شادی کر کے بہت اچھا کیا ہے، انہیں شادی بہت پہلے کر لینی چاہئے تھی، کیونکہ عمر کے جس حصے میں وہ ہیں ، اس حصے میں ایک بیوی کی رفاقت اور ساتھ بہت ضروری ہوتا ہے۔ انسان کے ساتھ ہزارہا پریشانیاں، تکالیف اور مسائل ہوتے ہیں، جن کے لئے ایک رفیق کی ضرورت بھی ہوتی ہے اور اگر آصف علی زرداری نے ان مسائل کا حل شادی میں تلاش کیا ہے تو پھر اس پر بلاول بھٹو سمیت کسی کو بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ گھر بسانا بہت اچھی بات ہے، انہوں نے شادی کر کے کوئی جرم نہیں کیا۔ البتہ شادی کو چھپائے رکھنا، نہ صرف یہ کہ غیر اسلامی ہے، بلکہ غیر اخلاقی ہے۔ آصف علی زرداری کو چاہئے کہ وہ مردانہ آواز میں شادی کے بارے میں اعلان کریں، وہ ’’مرد حُر‘‘ ہیں۔ انہوں نے تو کئی سال جیل کاٹی ہے۔اب دوسری شادی بھی جیل کی طرح ہوتی ہے، وہ اعلان کریں کہ انہوں نے دوسری شادی کی جیل قبول کر لی ہے وہ مُلک کے چاروں صوبوں میں ’’دعوتِ ولیمہ‘‘ کا بھی اہتمام کریں، کیونکہ شادی کو چھپائے رکھنے سے جہاں شادی کی ’’برکت‘‘ سے محروم رہنا پڑتا ہے۔ وہاں روزانہ کی بنیاد پر کالم، خبریں اور تبصرے بھی سننے پڑتے ہیں، ویسے عجیب بات ہے کہ عمران خان اور ریحام خان کی شادی پر تو سبھی ’’چینلوں‘‘ نے سہرے گائے،مگر آصف علی زرداری کی شادی پر بالکل خاموش ہیں، کیا بات ہے۔ نیوز چینل والوں کے پاس ’’سہرے‘‘ کے گانے ختم ہو گئے ہیں کیا؟

مزید : کالم