خدشات بے جا نہیں

خدشات بے جا نہیں
خدشات بے جا نہیں

مدارس کے حوالے سے دینی حلقوں کے خدشات بے جا ہیں نہ ہی سیکولر لابی کی ہاہاکار۔۔۔سازش موجود ہی نہیں، بلکہ اس پر عملدرآمد بھی جاری ہے۔ 21ویں آئینی ترمیم کے بعد لندن میں بیٹھے ایم کیو ایم کے خودساختہ جلاوطن سربراہ نے جو طرزعمل اختیار کیا وہ طے شدہ منصوبے کے عین مطابق ہے۔ الطاف حسین ایک طویل عرصے سے مدارس پر برس رہے ہیں۔ ایک مرتبہ تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ عوام (ایم کیو ایم کے کارکن) مدارس کی چیکنگ خود کر کے اس حوالے سے فیصلے کریں گے۔ سخت ردعمل سامنے آیا تو وقتی طور پر پسپائی اختیار کر لی۔ یہ سب پشاور سکول حملے سے بہت پہلے کی بات ہے۔ اس کے بعد تو سیکولرلابی کی گویا مراد برآئی ہے، جس کا جی چاہتا ہے منہ اٹھا کر مدارس اور ان کے ذمہ داروں پر لعن طعن شروع کر دیتا ہے۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے اس ایجنڈے کو آگے بڑھانا آخر اس کے مقامی ایجنٹوں کی ہی تو ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں چوں چراں کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔ امریکی وزیرخارجہ جان کیری کا حکم پاتے ہی جماعت الدعوۃ کے فنڈز منجمد کرنے اور حافظ سعید کے بیرون ملک سفر پر پابندی کے اقدامات اس ’’سعادت مندی‘‘ کا تازہ ترین عملی ثبوت ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جماعت الدعوۃ کے کوئی خاص اکاؤنٹ نہیں اور نو سال سے حافظ صاحب کے پاس پاسپورٹ نہیں۔

یہ بات کوئی راز تو نہیں پھر بھی مولانا فضل الرحمن کی زبانی سن کر ’’تجدید ایمان‘‘ ہو گئی کہ پاکستان ابھی تک غلامی سے نجات حاصل نہیں کر پایا۔ لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ نے بتایا کہ سابق فوجی آمر جنرل مشرف نے انہیں دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ ’’ہم امریکہ کے غلام ہیں، آپ تسلیم کیوں نہیں کرتے‘‘ یہ سوچ پاکستان کی مسلح افواج کے اس سربراہ کی تھی جو ہر لحاظ سے ملک کا مختارکُل تھا۔ صدر اور آرمی چیف تو تھا ہی اسے وزیراعظم کے اختیارات بھی حاصل تھے۔ عدلیہ کا کنٹرول بھی سنبھال رکھا تھا اور سارے ’’زمانے‘‘ کو اپنے اشاروں پر چلانے والی خفیہ ایجنسیاں بھی اس کے سامنے باندیاں بن کر کھڑی تھیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ مشرف نے امریکہ کے متعلق اپنے قول کو محض زبانی کلامی گفتگو کی سطح پر ہی نہیں رکھا، بلکہ اسے سچ ثابت کرنے کے لئے سردھڑ کی بازی لگا دی۔ سچ تو یہ ہے کہ پورا ملک داؤ پر لگا دیا۔ امن و امان کی بربادی سے لے کر بدترین اقتصادی بدحالی تک آج ہمیں، جن حالات کا سامنا ہے اس کی پاتال جتنی گہری بنیادیں مشرف دور میں ہی کھودی گئی تھیں۔ زرداری اور نوازشریف کی حکومتوں کی نااہلی اپنی جگہ، لیکن اس بات کو جھٹلانا ممکن نہیں کہ ڈکٹیٹر مشرف کو جس قدر اختیارات حاصل تھے اور پھر افغان جنگ کے باعث امریکہ اور مغرب نے جتنے بے بہا وسائل، مال و دولت سے نوازا اس آمر کے لئے انتہائی آسان تھا کہ وہ نہ صرف ملک کی اقتصادی صورت حال کو بہتر بناتا، بلکہ عوام کے لئے بھی آسانیاں پیدا کرتا۔ معاشی ترقی کے حوالے سے ملک کی سمت درست کرنے کا سنہری موقع، مگر گنوا دیا گیا۔ کاش جنرل مشرف کی جگہ اس وقت کوئی محب وطن اور صاحب بصیرت حکمران موجود ہوتا۔۔۔کاش۔

ایک سینئر تجزیہ کار نے جنرل مشرف کی کارکردگی کے حوالے سے حقائق اس طرح سے آشکار کئے کہ گویا کوزے میں دریا بند کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’جنرل مشرف کے دور میں بظاہر یہ محسوس ہوتا تھا کہ ملک کا نظام ٹھیک چل رہا ہے، لیکن حقیقت یہ تھی کہ اس دور میں کلیدی مسائل کے حل کے لئے کوئی مربوط اور مؤثر حکمت عملی نہیں اپنائی گئی۔ شوکت عزیز اس دور میں حکومت کے معاشی دماغ تھے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے بینکر تھے۔ پاکستان کے معاشی مسائل کا ادراک کر کے ان کا حل تلاش کرنا ان کے بس کی بات نہیں تھی۔ موصوف نے پاکستان کو ایک کنزیومر سوسائٹی بنانے کی کوشش کی۔ لوگوں کو موبائل فونز اور کاروں کی طرف لگا دیا۔ بینکوں کو کہا گیا کہ وہ کاریں خریدنے والوں کو قرضے دیں۔ اس طرح ٹیلی کام اور کارساز کمپنیوں کے وارے نیارے ہو گئے۔ اس دور میں توانائی، انفراسٹرکچر اور صنعتوں کے قیام کو نظرانداز کیا گیا۔ جنرل مشرف نے اپنے دور میں کچھ عرصہ کے لئے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی مہم شروع کی پھر اچانک قطع تعلق کر کے ایک طرف ہو گئے۔ اس دوران توانائی پیدا کرنے کا کوئی قابل ذکر منصوبہ شروع نہ کیا جا سکا۔ دوسری طرف بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث جہاں گھریلو سطح پر توانائی کی ضروریات بڑھ رہی تھیں وہیں صنعتوں کو بھی اس کی اشد ضرورت تھی، لیکن کچھ نہ کیا گیا۔ اقتدار کے آخری سالوں میں جب تیل کی قیمتیں 40، 50 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 140 ڈالر تک پہنچ گئیں تو بھی بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا، کیونکہ جنرل مشرف ایک مرتبہ پھر صدارتی الیکشن لڑنا چاہتے تھے۔ یہی وہ دور تھا کہ جب آئی پی پیز کو بجلی پیدا کرنے کے لئے بینکوں سے قرضے لینے کا مشورہ دیا گیا، جو کھربوں تک جا پہنچا۔ یہی قرضہ بعد میں آنے والی حکومتوں کو ورثے میں منتقل ہوتا گیا۔‘‘

مشرف دور میں لوٹ مار بھی خوب کی گئی۔ یہ الگ بات ہے کہ فوجی ادوار کی کرپشن کے حوالے سے بڑے بڑے جغادری صحافیوں کو بھی سانپ سونگھ جاتا ہے۔ جمہوری حکومتیں آئیں تو حکمران تو کیا ان کے گھر والوں کے بھی لتے لئے جاتے ہیں۔ دہشت گردی کے جس عفریت سے آج پوری قوم اور پاک فوج نبردآزما ہے اس کا راستہ بھی جنرل مشرف نے ہی کھولا تھا۔ مولانا فضل الرحمن والی بات، مگر درست ہے کہ سابق فوجی آمر نے امریکی غلامی کی پوری طرح سے لاج رکھی۔ مشرف اقتدار سے بے دخل ہوئے، واپس آئے، احتساب کی خواہش رکھنے والوں کو نمونہ عبرت بنوایا اور آج حالت یہ ہے کہ فلمی اداکاروں کے جھرمٹ میں کھڑے ہو کر تصاویر بنوا رہے ہیں۔ ان کی تباہ کن پالیسیوں کے نتائج آج بھی پوری قوم بھگت رہی ہے۔ آپریشن ضرب عضب طویل سے طویل تر ہوتا جا رہا ہے۔ اتنے ماہ گزر جانے کے باوجود امریکی ڈرون حملے بھی جاری ہیں اور جنگی علاقے میں جھڑپیں بھی۔ ابھی چند ہی روز قبل باجوڑ میں لڑائی کے دوران کیپٹن اور تین جوان شہید ہو گئے۔ اب یہ اعلان کیا جا رہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب ٹو شہروں کے اندر کیا جائے گا، جس کے دوران دہشت گردوں کے ہمدردوں کو بھی پکڑا جائے گا۔ بلاشبہ یہ اچھی حکمت عملی ہے، مگر اس کی آڑ میں سیکولرلابی، جو کھیل کھیلنا چاہ رہی ہے وہ کسی بھی حوالے سے ملکی استحکام کے لئے سود مند نہیں۔

دینی جماعتیں یہ محسوس کر رہی ہیں کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ نے مدارس کو نشانہ بنانے کے لئے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ اس تاثر کو اس سے بھی تقویت ملتی ہے کہ بیرونی طاقتوں کے گماشتے گلے پھاڑ پھاڑ کر مساجد اور مدارس کے گھیراؤ کی باتیں کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کو مذہب اور مسلک سے جوڑنا دراصل اِسی چال کا ایک حصہ ہے، جس کا اصل ہدف پاکستانی معاشرے کو سیکولر بنانا ہے۔ دین بیزار لابی ان دنوں کھلی آنکھوں سے یہ خواب دیکھ رہی ہے کہ مصر کی طرح پاکستان میں بھی ہر داڑھی والا پنجروں میں قید کر کے عدالتوں میں پیش کیا جا رہا ہے۔ انشا اللہ اوّل تو ایسا ہو گا نہیں اور اگر کسی نے لادینی عناصر کے ناپاک ارادے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی تو پوری قوم کو اپنے مقابل سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑا پائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض عالمی طاقتیں اور چند پڑوسی ممالک پاکستان میں بدترین عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں (دھرنا سیاست بھی اسی گریٹ گیم کا ایک حصہ تھی) تمام سٹیک ہولڈروں کو مگر یہ بھی جان لینا چاہئے کہ طاقت کے اندھا دھند استعمال اور اس کے نتیجہ میں ہونے والی ممکنہ محاذآرائی کے نتائج سے گریز کرنا محض کسی ایک فریق کی ذمہ داری نہیں۔ ہر کوئی اپنے کئے کا خود ذمہ دار ہو گا۔

زمینی حقائق کا تقاضا ہے کہ فوج کا نام لے کر سیاست کرنے والوں کو روکا جائے۔ اسٹیبلشمنٹ الطاف حسین سے دریافت کرے کہ دہائیوں سے لندن کے پرفضا ماحول میں بیٹھ کر مارشل لاء کا مطالبہ کس کے کہنے پر کیا جا رہا ہے؟ ڈاکٹر طاہرالقادری اور ان کے ہمنوا بشمول مسلم لیگ(ق) وغیرہ کس کی بولی بول رہے ہیں؟ اور تو اور جنرل مشرف کو یہ بیان دینے کی جسارت کیونکر ہوئی کہ ’’حکومت کو فوج میں میری حیثیت کا اندازہ ہونا چاہئے‘‘۔ یہ سب کام ظاہر ہے سول حکومت تو کر نہیں سکتی۔ اس کے لئے تو تازہ ترین امریکی بیان ہی لرزہ خیز ہے۔ پاکستان میں 42ارب ڈالر کی ممکنہ چینی سرمایہ کاری نے عالمی سطح پر بے چینی کی لہر دوڑا رکھی ہے۔ امریکی صدر اوباما نے کھل کر کہہ دیا ہے کہ ’’دنیا ترقی کیسے کرے گی۔۔۔ اس کا تعین چین نہیں امریکہ کرے گا۔۔۔‘‘

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...