سٹیٹ بینک کی نئی مانیٹری پالیسی

سٹیٹ بینک کی نئی مانیٹری پالیسی

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگلے دو ماہ کے لئے بنیادی شرح سود میں ایک فیصد کمی کر دی ہے۔ یہ شرح اب 9.5فیصد سے کم ہوکر8.5فیصد ہو گئی ہے۔سٹیٹ بینک کے گورنر اشرف محمود وتھرا نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا بہتر رسد کے باعث غذائی اشیا کی مہنگائی میں کمی رہی اور رواں سال مہنگائی میں مزید کمی کا امکان ہے۔ تاہم مہنگائی میں تیزی سے کمی کے باعث اشیا کی طلب بڑھ سکتی ہے اور اشیا کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔جولائی تا دسمبر2014ء میں مہنگائی کی اوسط شرح6.1فیصد رہی اور مالی سال کے اختتام تک یہ شرح5.5فیصد رہنے کا امکان ہے۔ مالی سال2014-15ء کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں مالیاتی خسارہ قابو میں رہا جو خوش آئند بات ہے، تجارتی توازن بہتر ہونے، ترسیلاتِ زر میں اضافے، آئی ایم ایف کی قسط اور سکوک بانڈ سے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے، سٹیٹ بینک سے حکومتی قرضے مقررہ حد کے اندر رہے۔ انہوں نے کہا مہنگائی میں کمی سے بینکوں کے کھاتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، گورنر سٹیٹ بینک نے کہا دسمبر میں افراطِ زر میں اضافے کی شرح 3،4فیصد رہی، جو مزید کم ہو گی۔ انہوں نے کہا تیل کی قیمتوں میں کمی معیشت کو مسائل سے نکالنے میں مثبت ثابت ہو گی۔ درآمدی تیل کے بل میں کمی سے پاکستان کا تجارتی خسارہ کم کرنے میں مدد ملے گی۔ گورنر سٹیٹ بینک نے حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کے لئے اصلاحات اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ یہ نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ ایف بی آر کے لئے محاصل کا ہدف پورا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

گورنر سٹیٹ بینک نے اگلے دو ماہ کے لئے جس مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا ہے اس میں ملکی معیشت کے چند روشن پہلو پیش کئے گئے ہیں۔ سب سے اہم فیصلہ شرح سود میں مزید ایک فیصد کمی ہے۔ اگرچہ صنعتکار اور کاروباری برادری زیادہ کمی کا مطالبہ کر رہی تھی اور اُن کے خیال میں یہ کمی تین فیصد تک ہونی چاہئے تھی تاہم اس فیصلے سے سرمایہ کاری کا ماحول بہتر ہو گا اور صنعتکاروں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ یہ فیصلہ معاشی بہتری کی طرف مثبت قدم ہے اور اس سے سرمایہ کاری بڑھنے کے امکانات میں اضافہ ہو گا، شرح سود میں کمی کا فیصلہ حکومت کے لئے بھی فائدہ مند ہو گا اور اُسے قرضوں کی ادائیگی کم کرنا پڑے گی، جو صنعتیں قرضوں کی بنیاد پر چل رہی ہیں، انہیں بھی فائدہ ہو گا اور ان کی پیداواری لاگت کم ہو جائے گی۔ اسی طرح جو لوگ بینکوں سے پرسنل لون لیتے یا لیز پر گاڑیاں لیتے ہیں یا بینکوں سے قرض لے کر گھر وغیرہ خریدتے ہیں، شرح سود میں کمی ان کے لئے بھی فائدہ مند ہو گی۔البتہ اس سے کھاتے داروں کو بچتوں پر ملنے والا منافع بھی کم ہوجائے گا۔

اس وقت عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں بظاہر جو غیر معمولی کمی ہوئی ہے اور جس کی وجہ سے پاکستان کا درآمدی تیل کا بِل آدھے سے بھی کم ہو گیا ہے اس رقم کو دانشمندی کے ساتھ استعمال میں لایا جائے تو معیشت کو بڑی حد تک سنبھالا دیا جا سکتا ہے، لیکن ساتھ ہی بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ حکومت تیل کے صارفین کو قیمتوں میں اس کمی کا پورا فائدہ نہیں پہنچا رہی۔ ایف بی آر کو اپنے محاصل کی فکر پڑی ہوئی ہے اور اس نے حکومت کو اپنی ’’پریشانی‘‘ پر قائل کر کے تیل پر مزید پانچ فیصد جنرل سیلز ٹیکس لگوا دیا ہے، حالانکہ اصولی طور پر یہ رقم بھی عوام کو ریلیف کی صورت میں منتقل ہونی چاہئے تھی، کیونکہ تیل پر پہلے ہی بہت زیادہ ٹیکس اور ڈیوٹیاں لگی ہوئی ہیں، جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، تو کوئی وقت ضائع کئے بغیر حکومت قیمتیں بڑھا دیتی ہے اور بڑھاتی چلی جاتی ہے اب اگر عالمی طلب میں کمی کے باعث تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں تو یہ سارا ریلیف براہ راست صارفین کو منتقل ہو جانا چاہئے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا اور حکومت نے محاصل میں متوقع کمی کو بنیاد بنا کر سیلز ٹیکس میں اضافہ کر دیا ہے، حالانکہ قیمت میں کمی کے باعث حکومت کو اگر تیل پر ٹیکس کم ملے گا تو دوسری جانب تیل کا درآمدی بِل جس تناسب سے کم ہو گا وہ محاصل میں کمی کی نسبت بہت زیادہ ہے او اگر دونوں کا حساب لگایا جائے تو حکومت کو آئل بل میں جو بچت ہوگی وہ محاصل سے حاصل ہونے والی آمدنی سے بہت زیادہ ہو گی۔

جہاں تک ایف بی آر کا تعلق ہے وہ تو کئی سال سے بجٹ میں رکھے گئے محاصل کا ہدف حاصل نہیں کر پایا۔ پچھلے دو بجٹ ایسے گزرے ہیں جن میں محاصل کا ٹارگٹ کم کیا گیا اور وہ بھی حاصل نہ کیا جا سکا، موجودہ مالی سال کا بجٹ جب پیش کیا جا رہا تھا اس وقت تک تو تیل کی عالمی قیمت110ڈالر فی بیرل سے زیادہ تھی اور کِسی کو بھی اندازہ نہ تھا کہ قیمت اس تیزی سے گرے گی اس وقت بھی وفاقی محاصل کا جو ہدف رکھا گیا تھا ماہرین کے مطابق اس کا حصول مشکل تھا، کیونکہ بجلی گیس اور توانائی کے دوسرے ذرائع کی قلت کے باعث پیداوار تو بڑھ نہیں رہی، محاصل کہاں سے آئیں؟ یہ تو تبھی حاصل ہوتے ہیں جب صنعتی پیداوار میں اضافہ ہو۔ ہمارا ’’ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو‘‘ بھی دنیا بھر میں شاید سب سے کم ہے۔ گورنر سٹیٹ بینک نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ محاصل کا ہدف حاصل نہ ہو پائے گا اس جانب توجہ مبذول ہونی چاہئے۔ ٹیکس دینے کے قابل لوگوں سے پورا ٹیکس وصول نہیں کیا جا رہا اور ٹیکس حکام، ٹیکس دینے والوں سے اپنا حصہ رسدی وصول کر لیتے ہیں اور یوں پورا ٹیکس خزانے میں جمع نہیں ہو پاتا۔

شرح سود میں کمی کا بہتر فائدہ اس صورت میں اٹھایا جا سکتا تھا جب دیگر حالات ساز گار ہوتے، امن و امان کی خراب فضا کی وجہ سے بھی سرمایہ کار گھبراتے ہیں، بھتہ خوری بھی وبا کی شکل اختیار کر چکی ہے، اس لئے لوگ سرمایہ کاری میں محتاط ہیں، بجلی اور گیس کی قلت کی وجہ سے بھی سرمایہ کاری نہیں ہوتی،اس جانب توجہ دی جائے تو حالات کی بہتری کی امید کی جا سکتی ہے اور صنعتکار صحیح معنوں میں کم شرح سود سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

سٹیٹ بینک کا خیال ہے کہ اشیا اگر سستی ہوں گی تو اُن کی طلب بڑھے گی ایسی صورت میں اشیا کی قلت کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ حکومت کو ابھی سے اس جانب توجہ کرنی چاہئے، کیونکہ پٹرول کے حالیہ بحران کی ایک وجہ طلب میں اضافہ بیان کی جاتی رہی ہے۔ وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی کا اصرار رہا ہے کہ قیمتیں کم ہونے سے تیل کی طلب میں25فیصد اضافہ ہو گیا ہے اس لئے قلت پیدا ہوئی، اُن کا یہ موقف اگر مان لیا جائے تو پھر جن جن اشیا کی قیمتوں میں کمی ہو رہی ہے یا امکان ہے اُن کی سپلائی کی صورت حال پر توجہ مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے۔ ایسا نہ ہو وہاں تیل جیسا حشر دیکھنے میں آئے، حکومت نے گندم برآمد کرنے کی جو اجازت دی ہے اس پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا برآمد سے ہماری مُلکی ضروریات تو متاثر نہیں ہوں گی۔ ایسا نہ ہو کہ ہم اپنی گندم باہر بھیج دیں اور پھر اچانک پتہ چلے، مُلک میں آٹے کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ اس ساری صورت حال پر حکومت کو کڑی نگاہ رکھنا ہو گی، کیونکہ ایسے ہی مواقع پر مافیا سرگرم ہوتے ہیں اور اُن کی چاندی ہو جاتی ہے۔ پٹرولیم کی قلت کے حالیہ بحران سے اچھی طرح سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ بہرحال تازہ مانیٹری پالیسی کی روشنی میں مُلکی معیشت کی بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔

مزید : اداریہ