سولر کے پھیلاؤ میں بڑی رکاوٹ سولر ایجوکیشن کا فقدان ہے:انجینئرفیض محمدبھٹہ

سولر کے پھیلاؤ میں بڑی رکاوٹ سولر ایجوکیشن کا فقدان ہے:انجینئرفیض محمدبھٹہ

لاہور(اے پی پی) پاکستان میں بجلی بحران کے پیش نظر ری نیوایبل انرجی کے شعبہ کی ترقی کی غرض سے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے یونیورسٹیوں میں بی ایس اور ایم ایس انرجی سسٹم انجینئرنگ پروگرامز کے ا جراء کا فیصلہ احسن اقدام ہے، سکل ڈویلپمنٹ فنڈ اور سولر انسٹی ٹیوٹ لاہور بھی اس سلسلہ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ سولر انسٹی ٹیوٹ لاہور کے ڈائریکٹر انجینئر فیض محمدبھٹہ نے اے پی پی کو بتایا کہ پاکستان میں بجلی کے بحران کے باوجود سولر کے پھیلاؤ میں بڑی رکاوٹ سولر ایجوکیشن کا فقدان ہے‘ انہوں نے بتایا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے یونیورسٹیوں میں بی ایس اور ایم ایس انرجی سسٹم انجینئرنگ پروگرامز کے اجراء سے پاکستان میں ری نیوایبل انرجی کے شعبہ کی ترقی میں بہت مدد ملے گی۔فیض بھٹہ نے بتایا کہ اسی ضرورت کے پیش نظر پاکستان میں نجی شعبہ میں صوبائی دارلحکومت لاہور میں پہلاسولر انسٹی ٹیوٹ قائم کیا گیاہے،اس ادارہ میں سولر انرجی کے حوالے سے ماہر افرادی قوت تیار کرنے کے لئے سولر ٹریننگ پروگرام شروع کئے گئے ہیں ا ور یہ انسٹی ٹیوٹ نجی شعبہ میں پہلا انسٹی ٹیوٹ ہے جو پاکستان میں ریسرچ اور ٹریننگ کے حوالے سے خدمات فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ انڈسٹری‘کمرشل اور گورنمنٹ سیکٹر کے لوگ بھی اس ادارہ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ا ور سرٹیفکیٹ کے حصول کے بعد وہ پاکستان میں سولر ڈیزائن اور تنصیب کے حوالے سے انقلاب لا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے، سکل ڈویلپمنٹ فنڈ بھی ملک میں ماہرافرادی قوت تیار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، سولر انسٹی ٹیوٹ بھی اس سلسلہ میں سکل ڈویلپمنٹ فنڈ کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔فیض بھٹہ نے کہا کہ انہوں نے خود (ٹی او ٹی) سولر ٹریننگ ری نیک جرمنی سے حاصل کی ہے اور وہ 500 افراد کو پاکستان میں اب تک سولر ٹریننگ دے چکے ہیں۔

مزید : کامرس