ناقص پالیسیوں سے پاور سیکٹر کے گردشی قرضے بڑھ رہے ہیں ،سید بلال شیرازی

ناقص پالیسیوں سے پاور سیکٹر کے گردشی قرضے بڑھ رہے ہیں ،سید بلال شیرازی

لاہور(خبر نگار) مسلم لیگ ق کے رہنما و مسلم لیگ یوتھ ونگ کے مرکزی صدر سید بلال مصطفی شیرازی نے کہا ہے کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی باعث پاور سیکٹر کے گردشی قرضے بڑھتے جارہے ہیں اور اس کا حجم 302 ارب روپے سے زائد ہوگیاانہوں نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے نیپرا کو بجلی مہنگی کرنے کی اجازت دینے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ حکومت ناقص پالیسیوں کے باعث سخت ترین مالی بحران کا شکار ہے اور آئی ایم ایف کی شرائط پر قرضوں کے حصول کیلئے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے اورمزید قرضوں کے حصول کیلئے بجلی وقتاً فوقتاً مہنگی کرکے عوام پر بوجھ ڈالا جارہا ہے۔ گردشی قرضوں کی ادائیگی اور فوری ریونیو کے حصول کیلئے عوام کو قربان نہ کیا جائے اگر حکومت عوام کو ریلیف نہیں دے سکتی تو تکلیف بھی نہ دے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے حکومت کی یہ منطق کہ بجلی کی پوری پیداواری لاگت عوام سے وصول کی جائے انتہائی غلط ہے ۔کیونکہ حکومت پرائیویٹ پاور سیکٹرکی بجلی کا ریٹ پیداواری لاگت شمار کرتی ہے لیکن درحقیقت پرائیوٹ پاور سیکٹر کے علاوہ پن بجلی ذرائع سے بھی بجلی حاصل ہوتی ہے واپڈا ذرائع کے مطابق پن بجلی کی پیداوار میں پچھلے سالوں کی نسبت اضافہ ہوا ہے پن بجلی سے حاصل ہونے والی بجلی کی لاگت ڈیڑھ سے دو روپے تک ہے اس لیے عوام پر مزید ڈھائی روپے تک بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرکے بوجھ نہ ڈالا جائے اور پن بجلی کی پیداوار اور پیداواری لاگت کا ریلیف نیز پٹرولیم کمی کے بعد فیول ایڈجسٹمنٹ خاتمہ کرکے یہ ریلیف بھی عوام کو منتقل کیا جائے اور بجلی مہنگی کرنے کی بجائے سستی کی جائے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1