حکومت کا ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جننس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈریونیو کے گرفتار کرنے کے اختیارات ختم کرنے کا فیصلہ

حکومت کا ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جننس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈریونیو کے ...

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی حکومت نے تاجروں کے دباو¿ پر ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جننس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کو ٹیکس چوروں کے خلاف اسیسمنٹ آرڈر جاری کرنے، پراسیکیوشن اورگرفتار کرنے کے اختیارات ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔جس کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جننس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو اور اس کے ماتحت افسران کو نئے اختیارات کے لیے جاری کردہ نوٹیفکیشن نمبر351 منسوخ کرکے اختیارات کا پرانا ایس آراو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مذکورہ ایس آر او کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جننس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کو ٹیکس چوروں کے خلاف اسیسمنٹ آرڈر جاری کرنے، پراسیکیوشن اورگرفتار کرنے کے اختیارات دیے تھے جس کے خلاف طاقتور لابی متحرک ہوگئی اور تاجروں نے شدید احتجاج کیا۔

جس پر ایکشن لیتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مذکورہ نوٹیفکیشن معطل کردیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ایف بی آر نے مذکورہ ایس آر او ان کے نوٹس میں لائے بغیر اور وزارت خزانہ سے منظوری حاصل کیے بغیر جاری کیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اب طاقتور لابی حکومت کو یہ نوٹیفکیشن ختم کرنے کے لیے مجبور کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ ایف بی آر کے سینئر افسر نے بتایا کہ اب یہ طے ہوا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جننس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کو ٹیکس چوروں کے خلاف اسیسمنٹ آرڈر جاری کرنے،پراسیکیوشن اورگرفتار کرنے کے اختیارات ختم کردیے جائیں گے جس کے لیے نوٹیفکیشن نمبر 351 منسوخ کردیا جائے گا اور اس کی جگہ پہلے والا نوٹیفکیشن بحال کردیا جائیگا۔جس کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جننس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو اور ان کے ماتحت ڈائریکٹرز صرف ٹیکس نادہندگان کی زبردتی رجسٹریشن کرسکے گا اور اس کو پکڑ سکے گا لیکن ان کے خلاف اسیسمنٹ آرڈرز جاری نہیں کرسکیں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی جانب سے نوٹیفکیشن 351 کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جننس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کے افسران کو انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے کیسوں میں ٹیکس نادہندگان و ٹیکس چوروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے اختیارات دیے تھے جس کے تحت ڈی جی انٹیلی جننس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کو کمشنر ان لینڈ ریونیو کے طور پر بھی کام کرنے کے اختیارات حاصل تھے اور وہ بطور کمشنر ان لینڈ ریونیو انکم ٹیکس،سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے کیسوں میں نوٹس جاری کرنے کے علاوہ نہ صرف قانون کے مطابق اسیسمنٹ آرڈر بھی جاری کرسکتے تھے بلکہ ان آرڈرز پر عملدرآمد کیلیے انفورسمنٹ بھی کرسکتے تھے۔#/s#

مزید : کامرس