محکمے کا اعتماد بحال کرنا اولین ترجیح ہے: نسیم صادق

محکمے کا اعتماد بحال کرنا اولین ترجیح ہے: نسیم صادق

ویکسین کی پیداوار 300 فیصد زیادہ اور قیمتیں 56 فیصد تک کم ہوئیں

کوئی بھی شخص 9211 پر ایس ایم ایس کر کے چند سیکنڈ میں بازار میں فروخت ہونیوالے گوشت کا معیار پتہ چلا سکتا ہے:

سیکرٹری لائیو سٹاک پنجاب نسیم صادق کا ’’پاکستان‘‘ کیلئے خصوصی انٹرویو

(ڈیک)

مردہ، بیمار اور حرام جانوروں کے گوشت کا گھناؤنا کاروبار 75 فیصد تک ختم کر دیا

جانوروں کی نسل کشی میں صرف معیار کو ملحوظ خاطر رکھا جا رہا ہے

التواء کا شکار سائلیج میکنگ کے منصوبوں میں بھی پیش رفت ہو ئی ہے

سیکرٹری لائیو سٹاک پنجاب نسیم صادق کا شمار صوبہ میں نہایت اچھی شہرت کے حامل ان دیانتدار افسران میں ہوتا ہے جنہیں بہترین کارکردگی اور بے پناہ انتظامی صلاحیتوں کے باعث وزیر اعلیٰ پنجاب کا خصوصی اعتماد حاصل ہے۔ صوبے میں دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافے، جانوروں کی نسل کشی، سائلیج میکنگ کے منصوبوں، ویکسین کی پیداوار اور لائیو سٹاک سیکٹر کی ترقی کیلئے ان کی کاوشیں دیدنی ہیں، وہ اس شعبہ کی ترقی کیلئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں فارمر ز اور لائیو سٹاک سے متعلقہ افراد میں ان کی محنت اور ایمانداری کے قصے زبان زد عام ہیں۔نسیم صادق نے جولائی 2014ء میں اپنے عہدے کا چارج سنبھالا اور صرف 6 ماہ کی مختصر مدت میں محکمہ کے الجھے ہوئے معاملات کو نہایت خوش اسلوبی سے درست سمت گامزن کیا ہے۔ نسیم صادق کا آبائی علاقہ ساہیوال ہے ، قبل ازیں وہ لاہور، فیصل آباد اور ملتان کے ڈی سی او رہے، جبکہ ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب اور ریجنل جنرل منیجر پنجاب رورل سپورٹ پروگرام سمیت پنجاب کے مختلف شعبوں میں اہم عہدوں پر ایمانداری اور تندہی سے کام کر کے اپنی انتظامی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔پنجاب زرعی صوبہ ہونے کی وجہ سے اس عہدے کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے ،یہ ان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا اعتراف ہے کہ پنجاب حکومت نے انہیں صوبے کے سب سے اہم محکمے کا انتظامی سربراہ مقرر کر کے ان پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔روز نامہ ’’پاکستان ‘‘کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لائیو سٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ کے تحت علاج معالجہ کی سہولتوں کی فراہمی کیلئے ویٹرنری ہسپتال اور مصنوعی نسل کشی کے مراکز کا جال بچھایا گیا ہے ، اس وقت600 کے قریب ویٹرنری ہسپتال، 2250 ویٹرنری ڈسپنسریاں، 1672 ویٹرنری سنٹر، 192 مراکز مصنوعی نسل کشی اور 787 ذیلی مراکز مصنوعی نسل کشی کی خدمات فراہم کر رہے ہیں ، اس کے علاوہ چولستان میں لائیو سٹاک فارمنگ کی ترقی اور سہولتوں کی فراہمی کے علاوہ ماڈل کوآپریٹو لائیو سٹاک فارمزکا آغاز ہو چکا ہے ۔

بطور لائیو سٹاک پنجاب اپنی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نہایت اہمیت کا حامل سیکٹر ہونے کے باوجود ماضی میں یہ شعبہ عدم توجہی کا شکار رہاہے اور اسے ڈویلپ کرنے کیلئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے جا سکے اس شعبے میں جو سرمایہ کاری ہوئی اس کے بھی ثمرات عوام تک نہیں پہنچ پائے۔ہمیں سب سے پہلے لوگوں میں اپنا اعتماد بحال کرنا ہے اور یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے پاس ہے کیاجتنے جانور ہم سمجھتے ہیں کیا وہ در حقیقت ہیں بھی یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے 8 اضلاع میں جو ابتدائی سروے کروائے گئے ہیں ان کے مطابق تو صورتحال زیادہ بہتر نہیں ہے ماضی میں حکومت کی ترجیح نہ ہونے کے باعث لوگوں کا اعتماد اٹھ گیا اب ہم نے اپنا اعتماد بحال کرنے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شامل کرنے کیلئے جامع حکمت عملی تشکیل دی ہے دیہاتی آبادی کے تناظر میں گاؤں کے نمبر دار، پٹواری اور دیگر شخصیات کو اپنے ساتھ ملایا ہے تا کہ ہم لوگوں میں اپنے اعتماد کو بحال کریں۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ 5 قسم کی ویکسین بنا رہا ہے جس کی پیداوار 300 فیصد سے اوپر چلی گئی ہے اور زیادہ پیداوار کی وجہ سے قیمتیں 56 فیصد تک کم ہوئی ہیں ۔

پنجاب حکومت کے لائیو سٹاک میں جاری منصوبہ جات کے حوالے ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ جانوروں کی نسل کشی میں معیار کو ملحوظ خاطر رکھا جا رہا ہے اور محکمے کے تمام معاملات میں یہ کوشش کی جا رہی ہے لوگوں سے غلط بیانی نہ کی جائے ، پہلے لوگ اپنے جانوروں کو لے کر ہمارے پاس آتے تھے اب ہم خود لوگوں کے جانوروں کے پاس جائیں۔ دودھ اور گوشت کی پیداوار بڑھانا بھی اولین ترجیحات ہیں جبکہ التواء کا شکار سائلیج میکنگ کے منصوبوں میں بھی پیش رفت ہو رہی ہے ۔ نسیم صادق نے بتایا کہ پنجاب میں مردہ، بیمار اور حرام جانوروں کے گوشت کا کاروبار کرنیوالے افراد کیخلاف کریک ڈاؤن کیا گیا ہے اور اب تک ایک لاکھ 62 ہزار کلو گوشت پکڑا گیا اور اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث 600 لوگوں کو جیل بھیجا۔ مجموعی طور پر 75 فیصد تک مکروہ کاروبار ختم کر دیا گیا ہے تاہم ہمارا عزم 100 فیصد تک ہے۔ سیکرٹری لائیوسٹاک نے کہاکہ وزیراعلیٰ کے حکم پر اس مہم کاآغاز کیاگیاتھا اور اب تک بڑی مقدار میں غیرمعیاری،نیم مردہ گوشت تلف کیاجاچکاہے۔ ضلعی انتظامیہ اورمحکمہ لائیوسٹاک اس مہم کادائرہ کارپنجاب کے تمام اضلاع تک وسیع کررہاہے تاکہ عوام الناس کی صحت کے ساتھ کھیلنے والے جرائم پیشہ افراد کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جاسکے۔ محکمہ لائیوسٹاک کی 46ٹیمیں لاہوراوراس کے مضافات میں روانہ ہوچکی ہیں جوغیرقانونی مذبحہ خانے چلانے اورمردہ جانوروں کاگوشت فروخت کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائیں گی۔ شہریوں کوچاہئے کہ گوشت خریدتے وقت سلاٹرہاؤس کی جانب سے لگائی گئی مہرچیک کرلیں اورغیرتصدیق شدہ گوشت ہرگزنہ خریدیں۔گلی محلوں میں فروخت ہونیوالے گوشت کے معیار کے بارے میں کوئی بھی شخص 9211 پر ایک ایس ایم ایس کر کے چند سیکنڈ میں گوشت کے معیار کا پتہ چلا سکتا ہے اور صارف کو فوری طور پر بذریعہ ایس ایم ایس تصدیق کا پیغام موصول ہوگا۔ عوام الناس کواس ضمن میں گزارش کی جاتی ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ اورمحکمہ لائیوسٹاک سے بھرپورتعاون کرتے ہوئے ان جرائم پیشہ افراد کی نشاندہی متعلقہ ڈی سی اوآفس،ڈی سی اولاہور، محکمہ لائیوسٹاک یاوزیراعلیٰ شکایت سیل میں کریں تاکہ ان کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جاسکے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہا زشریف کے حکم کے مطابق اب یہ مردہ ضمیرافرادقانونی شکنجے سے نہیں بچ سکیں گے۔

پولٹری سیکٹر سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پبلک اورپرائیویٹ سیکٹرمیں پولٹری فارمنگ خصوصاً دیہی مرغبانی میں بہتری لانے کے لیے نظام بنا رہے ہیں اور محکمہ لائیوسٹاک دیہی مرغبانی کی پیداوارمیں اضافہ کرنے کے لیے مختلف منصوبہ جات زیرعمل لارہاہے۔ اس سلسلے میں دیسی کم انڈے دینے والی مرغیوں کی بجائے محکمہ لائیوسٹاک مصری، گولڈن، گولڈن مصری کراس نسل کی مرغیوں کے سیٹ جن کی عمر12ہفتے (100دن)ہوگی ارزاں نرخوں پر دیہی علاقوں میں دیئے جائیں گے۔ محکمہ اس بات پربھی زوردے رہا ہے کہ تمام گورنمنٹ پولٹری فارمز آپریشنل ہونے چاہئیں۔ مختلف گورنمنٹ پولٹری فارمز کی بریڈنگ ،ریرنگ اورہیچنگ کی بنیاددرجہ بندی کی گئی۔ جس میں پولٹری ریسرچ انسٹیٹیوٹ راولپنڈی، گورنمنٹ پولٹری فارم بہاولپورگرینڈپیرنٹ،پیرنٹ اورہیچری جبکہ گورنمنٹ پولٹری فارم سرگودھا پیرنٹ وہیچری اورگورنمنٹ پولٹری فارمز ڈیرہ غازیخان، ملتان،دینہ، اٹک، بہاولنگر، گجرات، میانوالی ریرنگ کے فرائض سرانجام دیں گے۔

محکمہ لائیوسٹاک کی دیگر ڈویلپمنٹ سکیموں اور ان کی لاگت کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور فٹ اینڈماؤتھ ڈیزیز ریسرچ سنٹر(جس کاکل تخمینہ180ملین روپے )میں مزید سہولیات فراہم کرنے،لائیوسٹاک پروڈکشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ بہادرنگر فارم اوکاڑہ میں زیادہ کٹائیاں دینے والے چارے کی قسمیں اوربیج جس کاتخمینہ 30ملین روپے ہے، چارے کوبطورسائیلج محفوظ کرنا، جس کاکل تخمینہ 121.848ملین روپے ہے اورڈیری کی پیداوارمیں اضافہ کے لیے بیرون ملک سے اعلیٰ پیداواری اوصاف کے حامل سانڈ بیلوں کاسیکسڈ سیمن کی درآمد جس کاکل تخمینہ 98ملین روپے ہے کی منظوری دی گئی۔ ان منصوبہ جات کے زیرعمل لانے سے جانوروں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے زیادہ تعدادمیں حفاظتی ٹیکہ جات تیارکئے جائیں گے اورزیادہ کٹائیاں دینے والے چارہ جات کی پیداوارمیں اضافہ کرکے بطور سائیلج محفوظ کیاجائے گا تاکہ ساراسال یکساں غزائیت سے بھرپورخوراک جانوروں کومیسرآسکے اس کے علاوہ سیکرٹری لائیوسٹاک پنجاب نے کہاکہ اعلیٰ صلاحیت کے حامل سیکسڈ سیمن کی درآمدسے صوبہ بھرمیں کم دودھ دینے والی گائیوں کی آئندہ نسل میں دودھ کی پیداوار میں یقینی اضافہ ہوگا۔ سیکرٹری لائیو سٹاک پنجاب نسیم صادق نے بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سیلاب میں ہلاک ہونے والے مویشیوں کے بدلے میں دس سیلاب زدہ اضلاع میں اعلیٰ صلاحیت کی حامل گائے بھینسیں اوربھیڑبکریاں مفت تقسیم کی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے حالیہ سیلاب کے دوران سیلاب زدگان سے ان کے گھروں کی تباہی،فصلات اورجانوروں کے نقصان کاازالہ کرنے کاوعدہ کیاتھا جوانہوں نے پوراکردیا ہے بلکہ ایک گائے بھینس کی ہلاکت کے بدلے میں دوگائے بھینسیں اورایک بھیڑبکری کے بدلے میں تین بھیڑبکریاں مفت فراہم کی گئیں ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...