تیل کی کم ہوتی قیمتیں اور یورو زون کا معاشی بحران! عرفان یوسف

تیل کی کم ہوتی قیمتیں اور یورو زون کا معاشی بحران! عرفان یوسف

یورپ کے مرکزی بینک نے یورو زون کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے کم از کم 11 سو ارب یورو کا سرمایہ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے مرکزی یورپی بینک آئندہ سال ستمبر تک یورو زون کے 19 سنگل کرنسی ممالک کے ہر بینک سے ہر ماہ 60 ارب یورو کے بانڈز خریدے گا ’2015 یورپ میں سیاسی زلزلوں کا سال ہو سکتا ہے‘اس فیصلے کا مقصد بینکوں کو زیادہ سرمایہ فراہم کرنا ہے تاکہ شرح سود کو کم رکھا جا سکے اور اس قرض لینے اور انھیں خرچ کرنے کی حوصلہ افزائی ہو سکے گی اس وقت یورو کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 11 سال کی کم ترین سطح پر ہے اور رواں سال اب تک ڈالر کے مقابلے میں اس کی قدر میں چھ فیصد کمی آ چکی ہے یورپ کے مرکزی بینک ای سی بی کے صدر ماریو دراغئی کے مطابق مارچ میں سرمایہ فراہم کرنے کا پروگرام شروع کیا جائے گا انھوں نے کہا ہے کہ اس پروگرام کو اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک مہنگائی کی شرح پائیدار حد تک قابو میں نہیں آتی ہے ای سی بی نے یورو زون میں افراطِ زر کو دو فیصد تک رکھنے کا عزم کیا ہے جبکہ شرح سود کو صفر اعشاریہ صفر پانچ تک رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس پروگرام کے نتیجے میں اٹلی، سپین اور پرتگال سمیت مالی بحران سے دوچار ممالک کو فائدہ پہنچے گاای سی بی کے اس اعلان کے بعد یورپی بازارِ حصص میں بہتری آئی ہیماریو دراغئی نے مزید کہا ہے کہ مرکزی بینک نے اپنے طور پر سرمایہ فراہم کرنے کا پروگرام اس وجہ سے شروع کیا ہے کیونکہ کم افراط زر کے طویل عرصے تک رہنے کی وجہ سے خطرہ بڑھ گیا تھا اور اس سے نمٹنا ضروری ہے ای سی بی کے اعلان سے پہلے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ مرکزی بینک اصل میں خود بانڈز نہیں خریدے گا ای سی بی کے نگراں بورڈ میں اکثریت نے بانڈز خریدنے کے پروگرام کی حمایت کی ہے اور اسی وجہ سے اس فیصلے پر رائے شماری کرانے کی ضرورت نہیں ہے اس سے پہلے مرکزی بینک ایسے اقدامات سے گریز کرتا رہا ہے تاہم جولائی 2012 میں ماریو دراغئی نے کہا تھا کہ یورو زون میں مالی استحکام کو قائم رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کے لیے تیار رہیں جبکہ برطانیہ کی حزب اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی کا کہناہے کہ وہ ایک نیا قانون بنانے کی کوشش کرے گی کہ اگر بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کے نرخ کم ہوں تو اس کا فائدہ ملک کے صارفین کو بھی ہو عالمی مارکیٹ میں گیس کے نرخ 20 فیصد کم ہو چکے ہیں جبکہ صارفین کو ذرا برابر بھی فائدہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہاکہ ہم تیل کی قیمتوں پر نظر رکھنے والے ادارے کو اس قدر بااختیار بنانا چاہتے ہیں کہ وہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ فوری طور پر صارفین کو منتقل ہونے کو یقینی بنائے انہوں نے حکمران کنزرویٹو اور لبرل ڈیموکریٹس سے بھی درخواست کی کہ وہ اس سلسلہ میں ان کی حمایت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی کی لہر سے لوگوں کی قوت خرید کی کمی کے ساتھ ساتھ ان کا معیار زندگی بھی گر چکا ہے۔ اس لئے تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو پہنچانے کیلئے ان کا ساتھ دیا جائے۔ جبکہ یورپ کے مرکزی بینک کے اعلان سے پہلے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ مرکزی بینک اصل میں خود بانڈز نہیں خریدے گا بلکہ ممبر ممالک کے مرکزی بینکوں اور حکومتوں سے بانڈ خریدنے کو کہے گا قرضوں پر شرح سود میں کمی سے بینکوں کی قرض دینے کی حوصلہ افزائی ہو گی اور اس سے یورو زون کے کاروبار اور گاہک زیادہ خرچ کر سکیں گے اس سے پہلے امریکہ نے بھی سال 2008 سے 2014 تک یہ ہی حکمت عملی اپنائی تھی اور اس سے فائدہ بھی ہوا تھاای سی بی کے صدر ماریو دراغئی کے مطابق مارچ میں سرمایہ فراہم کرنے کا پروگرام شروع کیا جائے گااس کے علاوہ برطانیہ اور جاپان بھی بانڈز خریدنے کے قابل ذکر پروگرام چلا رہے ہیں ماہر معیشت ایلسٹر ونٹر نے ای سی بی کے اعلان پر کہا ہے کہ’معاشی لحاظ سے یہ غیر ضروری ہے تاہم کم از کم اس سے مارکیٹس یورو فروخت کرنے اور بینکوں کے عام حصص خریدنے اور کمزور بانڈز خریدنے سے لطف اندروز ہوں گے گذشتہ دنوں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے تیل کی عالمی قیمتوں میں تیزی سے کمی کے باوجود 2015 اور 2016 کے لیے یورپ سمیت عالمی معیشت کی بڑھوتری کے اندازوں میں کمی کر دی تھی رپورٹ میں یورپ میں اقتصادی بحالی کا عمل جاری رہنے کی پیشنگوئی کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ رواں برس یورو استعمال کرنے والے ممالک میں شرحِ ترقی ایک اعشاریہ دو فیصد اور آنے والے برس میں ایک اعشاریہ چار فیصد رہے گی یورپی ممالک کی مشترکہ کرنسی یوروگذشتہ سالوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئی ہے سرمایہ کاروں نے پیش گوئی کی تھی کہ یورپ کا مرکزی بینک (ای سی بی) معیشت میں بہتری کے لیے کچھ قدم اٹھا سکتا ہے امریکی ڈالر کے مقابلے یورو میں 1.2 فیصد کی کمی آئی ہے جو مارچ سنہ 2006 کے بعد سے سب سے زیادہ ہے یورو کی قیمت میں یہ کمی ای سی بی کے صدر ماریو ڈراگ کے ان تبصروں کے بعد آئی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ یورپ کا مرکزی بینک معیشت میں تیزی کے لیے کچھ قدم اٹھا سکتا ہے یونان میں جاری سیاسی افراتفری نے بھی یورو کی قدر کو کمزور کر دیا ہے لوگوں کو خدشہ ہے کہ 25 جنوری کو ہونے والے انتخابات میں بائیں بازو ساریزا پارٹی اقتدار میں آنے پر اخراجات میں کمی کا اعلان کر سکتی ہے گرچہ ای سی بی نے پہلے ہی شرح میں ریکارڈ سطح تک کمی کی اور نجی کمپنیوں کے کچھ بانڈز بھی خریدے پھر بھی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر ابھی کسی پروگرام کا آغاز نہیں کیا گیا ہے حالیہ برسوں میں یورپ، مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور لاطینی امریکہ میں مقبول عام احتجاجی مظاہروں میں زبردست اضافہ ہوا ہے جبکہ دوسرے علاقے ایشیا اور شمالی امریکہ اس سے قدرے بچے رہے ہیں ’ان مظاہروں کا سرچشمہ مختلف رہا ہے، کہیں معاشی بحران اس کی وجہ رہی ہے تو کہیں آمریت کے خلاف بغاوت دیکھی گئی ہے، کہیں سیاسی بااقتدار طبقے تک اپنی آواز پہنچانے کی خواہش رہی ہے جبکہ دوسرے متوسط طبقے کے تیزی سے بڑھتے بازار ان کی امیدوں کے اظہار رہے ہیں۔‘یہ تمام پیش رفت یہ سوال کھڑا کرتی ہیں کہ کیا ان سے جمہوریت کو خطرہ ہے یا یہ اس کے زندہ ہونے اور صحت مند ہونے کے شواہد ہیں؟جبکہدوسری طرف عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف)کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت کو تیل کی قیمتوں میں کمی سے فائدہ ہو گا مگر اس کے منفی اثرات بھی عالمی معیشت پر پڑیں گے، جبکہ پاکستان کی معاشی شرح نمو ابتدائی اندازے سے کم رہے گی۔ آئی ایم ایف کی عالمی معاشی جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی رواں سال معاشی شرح نمو ابتدائی اندازے سے0.6 فیصد کم رہے گی۔ 2015کے دوران پاکستان کی معاشی شرح نمو3.3 فیصد رہے گی اور 2016کے دوران پاکستان کی معاشی شرح نمو3.9، فیصد رہے گی۔ عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان کی 2016 میں شرح نمو کا ابتدائی اندازہ 4.4 فیصد لگایا تھا۔ رپورٹ کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی سے عالمی معیشت کو فائدہ ہوگا۔ تاہم تیل کی قیمتوں میں کمی کے منفی اثرات بھی عالمی معیشت پر پڑیں گے۔تیل پیدا کرنے والے ممالک میں معاشی شرح نمو کم رہے گی۔ سال 2015-16میں عالمی معیشت کی شرح نمو3.5سے3.7 فیصد رہے گی جو ابتدائی اندازے سے0.3فیصد کم ہے۔جبکہ امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ سال2014ء امریکا کے لیے واضح پیش رفت اور امریکی معیشت کے فروغ کیلئے بہترین سال ثابت ہوا۔1990ء کی دہائی کے بعد سال 2014 کے دوران روزگار کے مواقع میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا اور بے روزگاری گزشتہ تین عشروں کے مقابلے میں تیزی سے کم ہوئی۔ براک اوباما نے کہا کہ صرف دسمبر ہی میں امریکی کاروباری اداروں نے 2لاکھ 40ہزار روزگار کے مواقع پیدا کیے اور بے روزگار کی شرح میں 5.6 فی صد کمی آئیجبکہ خام تیل کی قیمت 40 ڈالر فی بیرل ہوجانے پرخام تیل کی 1.6 فیصد رسد متاثر ہوگی عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت گذشتہ چھ ماہ کے دوران کم ہو کر 50 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی ہیں کہ اگر خام تیل کی قیمت 40 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ جائے تو خام تیل کی 1.6 فیصد یومیہ رسد متاثرگی اور 1.5 ملین بیرل تیل یومیہ پیداوارکیش نیگٹیو کا شکار رہے گی کیش نیگٹیو پیداواری لاگت کا وصول ہونے والی قیمت سے زائد ہونے کی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے اور اس کا مطلب خام تیل کی پیداوار میں کمی نہیں ہے جبکہ روس کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے اسے سالانہ 100 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور مغربی ممالک کی جانب سے پابندیوں کے باعث اسے اب تک 40 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کو مستحکم کرنے کی غرض سے روس اپنی تیل کی پیداوار میں کمی کر کے اسے تین لاکھ بیرل روزانہ تک لا سکتا ہے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم ’اوپیک‘ کے رکن ممالک اس ہفتے ویانا میں ملاقات کر رہے ہیں جہاں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔و موسم گرما سے عالمی منڈی میں تیل کی فراوانی کی وجہ سے اس کی قیمتیں گر رہی ہیں جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں شیل سے تیل زیادہ تیزی سے نکالا جا رہا ہے اور یورپ اور ایشیا میں تیل کی مانگ میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس دوران خام تیل کی قسم ’برینٹ کْروڈ‘ کی قیمتیں ایک تہائی سے زیادہ نیچے آئی ہیں۔ 14 نومبر کو اس کی قیمت 76.76 ڈالر فی بیرل تھی جو کہ گذشتہ چار برسوں میں برینٹ کْروڈ کی کم ترین قیمت ہے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اوپیک ممالک اس ہفتے کے اجلاس میں قیمتوں میں استحکام پیدا کرنے کے لیے پیداوار میں کمی پر رضامند ہو سکتے ہیں۔ گذشتہ جمعے کی شام برینٹ کْروڈ کی 80 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی جبکہ امریکی تیل (یو ایس کْروڈ) کی قیمت 76.51 ڈالر فی بیرل رہیڈالر کے مقابلے میں روبل کی قیمت میں 30 فیصد کی کمی آئی ہیروسی کرنسی ’روبل کی قیمت اپنی موجودہ جگہ پر رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اوپیک ممالک عالمی منڈی میں تیل کی ترسیل کو کم کریں اور تین کروڑ بیرل یومیہ سے زیادہ تیل نہ پیدا کریں گذشتہ ہفتے روس کے وزیر توانائی الیگزینڈر نووک نے کہا تھا کہ روس اپنی تیل کی پیداوار میں کمی کے بارے میں سوچ رہا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی اس معاملے پر کوئی حتمی بات نہیں ہوئی ہے تیل کی قیمتوں میں کمی سے روسی عوام اور روسی کپمنیوں پر خاصے برے اثرات ہو سکتے ہیں۔بحیثیت مجموعی اس سال کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روبل کی قیمت میں 30 فیصد کی کمی آئی ہے۔روبل کی قدر میں بہتری کی غرض سے روس کا مرکزی بینک اربوں روبل خرچ کر رہا ہے، لیکن گذشتہ ماہ بینک نے کہا تھا کہ وہ منڈی میں اس سے زیادہ دخل اندازی نہیں کرے گا۔ جبکہروسی صدر نے ملک سے باہر لے جائے گئے سرمائے کی روس واپسی پر ’عام معافی‘ دینے کی تجویز دی۔ اندازاً اس برس روس سے ایک سو ارب ڈالر سے زیادہ رقم باہر لے جائی گئی ہے انھوں نے وعدہ کیا کہ اگر یہ سرمایہ ملک میں واپس لایا جاتا ہے تو ٹیکس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کے بارے میں بازپرس نہیں کریں گے ولادیمیر پیوتن نے روس میں کاروبار کرنے والوں کی مدد کے لیے ٹیکسوں کو چار سال کے لیے منجمد کرنے کی بھی تجویز دیامریکی ڈالر کے مقابلے میں روسی کرنسل روبل کی قدر میں نو فیصد کی کمی آ چکی ہے اور روسی صدر نے اس بارے میں روسی مرکزی بینک اور حکومت پر زور دیا کہ وہ ’روسی کرنسی کی قدر میں تبدیلی سے فائدہ اٹھانے کے خواہش مندوں کو ناکام بنانے کے لیے سخت اور مربوط اقدامات کریں مغربی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ اگر روس کرائمیا کو اپنا باجگزار ریاست نہ بھی بناتا تب بھی مغربی ممالک کسی اور بہانے سے روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دیتے۔اروسی صدر نے روسی عوام کے بارے میں کہا کہ ’ہماری عوام نے حب الوطنی اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے اور ہمیں جن مشکلات کا سامنا ہے وہ ہمارے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہیں۔ ہم کسی بھی مشکل سے نمٹنے اور اس پر قابو پانے کے لیے تیار ہیں تیل کی گرتی قیمتیں روس کی برآمدی مارکیٹ کے لیے بری خبر بن کر آئی ہیں جبکہ مغربی ممالک کی جانب سے روس پر عائد کی گئی اقتصادی پابندیاں ملک کے معاشی مسائل میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...