اساتذہ کی حق تلفی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی،پنجاب ٹیچرز یونین

اساتذہ کی حق تلفی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی،پنجاب ٹیچرز یونین

 لاہور(پ ر) پنجاب ٹیچرز یونین کے مرکزی صدر سید سجاد اکبر کاظمی، امتیاز احمد عباسی ، چوہدری محمد سرفراز، رانا لیاقت علی، جام صادق، امتیاز طاہر، ملک سجاد اختر اعوان، عبدالقیوم راہی، رانا انوار اور رحمت اللہ قریشی و دیگرنے کہا ہے کہ اساتذہ کی حق تلفی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ رزلٹ ، غیر حاضری طلباء اور ڈراپ آؤٹ کی آڑ میں سزائیں دینے کا سلسلہ بند کیا جائے کیونکہ اس سے اساتذہ کا معاشرتی و معاشی استحصال ہو رہا ہے۔ پرائمر ی ٹیچرز سے لیکر ایس ایس ٹی اور ہیڈماسٹرز تک کی پرموشنز میں بلاوجہ رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔ جان بوجھ کر اساتذہ کے پرموشن کیسز کا اُلجھایا جا رہا ہے جس کی کوئی منطق سمجھ نہیں آتی۔ گزشتہ کئی سالوں سے بعض اضلاع میں SST, EST, PST اور SS اساتذہ کی پرموشن اور ٹیچرز پیکیج نہیں ملا جبکہ اساتذہ کو سزائیں دینے کا عمل برق رفتاری سے مکمل کیا جارہا ہے۔ SMCگرانٹ ہر سال تاخیر سے جاری کی جاتی ہے اور ملبہ اساتذہ پر ڈال دیا جاتا ہے۔ ضلعی تعلیمی افسران کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے ۔بعض مال کمانے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہیں اساتذہ کو درپیش مسائل کی کوئی فکر نہیں ۔ س[یکیورٹی انتظامات کی آڑ میں سربراہ ادارہ اور اساتذہ کو ٹرانسفر کرنا غیر مناسب ہے۔  پنجاب میں سینکڑوں سکولز ہیڈماسٹرز سے محروم ہیں اور ہائر سیکنڈری سکولز میں SS کی بے شمار آسامیاں خالی ہیں جسکی وجہ سے میٹرک اور ایف انٹر کا رزلٹ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔راہنماؤں نے مزید کہا کہ پنجاب ٹیچرز یونین انتقامی کاروائیوں کے باوجود اساتذہ کے حقوق کے تحفظ کے لئے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے ۔ جبری ریٹائرمنٹ یا انتقامی تبادلے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ وزیر اعلی پنجاب ، وزیر تعلیم پنجاب اور سیکرٹری سکولز پنجاب سے مطالبہ ہے کہ 28فروری تک اساتذہ کے مسائل کو حل کیا جائے ورنہ مارچ میں ہونیوالے پنجاب ٹیچرز یونین کی مرکزی مجلسِ انتظامیہ کے اجلاس کی منظوری سے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کردیا جائے گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 4