ڈاکٹر سعید الٰہی کی انجمن ہلال احمر

ڈاکٹر سعید الٰہی کی انجمن ہلال احمر
 ڈاکٹر سعید الٰہی کی انجمن ہلال احمر

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 انجمن ہلال احمر کا نام مَیں نے پہلی بار اپنے سکول کے زمانے میں سنا تھا۔ تب بچوں کو ہلال احمر کی جاری کردہ، پچیس پیسے کی ریفل ٹکٹ یہ کہہ کر بیچی جاتی تھی کہ ایک مقررہ مدت کے بعد قرعہ اندازی ہوگی اور نکلنے والے نمبروں کی ٹکٹیں رکھنے والوں کو انعامات دیئے جائیں گے۔ یہ دراصل ، ہلال احمر کے لئے فنڈ جمع کرنے کا ایک طریقہ تھا۔ انجمن ہلال احمر آج بھی ملک میں کام کررہی ہے، لیکن اب ریفل ٹکٹ جاری نہیں کی جاتی ۔ شاید انجمن نے فنڈز حاصل کرنے کے دوسرے ذرائع پر بھروسا کرنا شروع کردیا ہے۔ ان دنوں میرے دوست ڈاکٹر سعید الٰہی انجمن ہلال احمر پاکستان کے چیئرمین ہیں۔ ڈاکٹر سعید الٰہی ایک پڑھے لکھے خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے والد گرامی شیخ حمید الٰہی نہایت ایمان داراور فعال افسر تھے، لکھنے پڑھنے کے بھی شوقین تھے، ان کے مضامین کی ایک کتاب چھپ چکی ہے۔ شیخ صاحب نے اپنے بچوں میں بھی لکھنے پڑھنے کا ذوق شعوری طورپر پیدا کرنے کی کوشش کی اور اس میں وہ بہت حدتک کامیاب بھی ہوئے۔ ڈاکٹر سعید الٰہی اپنے والد گرامی کی طرح سنیے میں ایک درد منددل رکھتے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے وہ ایک عرصے تک ڈاکٹروں کی سیاست میں بھرپور طریقے سے اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ انہوں نے اپنے ہم عمر ڈاکٹروں کے مسائل اجاگر کرنے کے لئے نہایت مثبت انداز کی سیاست کی۔ انہوں نے پی ایم اے کی سیاست کے دوران کبھی کسی ہسپتال کی ایمرجنسی یا آؤٹ ڈور وارڈ بند نہیں کرایا۔ اس کے باوجود ان کے دور میں ڈاکٹروں کے مسائل حل ہوتے رہے۔ وہ دراصل جانتے تھے کہ اگر ڈاکٹروں کی خدمات معطل ہوجائیں تو اس کا سارا نقصان عام آدمی کو ہوگا۔ ڈاکٹر سعید الٰہی کے بارے میں کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ شاعر بھی ہیں، مَیں نے ان کے ساتھ کئی مشاعرے پڑھے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کے بارے میں ایک کتاب بھی لکھی تھی، جس کی ریکارڈ فروخت ہوئی تھی۔ پچھلے انتخاات میں ڈاکٹر صاحب نے چودھری پرویز الٰہی کے بیٹے مونس الٰہی کے مقابلے میں صوبائی حلقے پی پی 152سے الیکشن لڑا اور کامیاب ہوئے۔ تب وہ صحت کے پارلیمانی سیکرٹری بھی تھے۔ اس زمانے میں ینگ ڈاکٹروں کی گرما گرم تحریک چلی تو پنجاب حکومت کو خاصی خفت اٹھانا پڑی تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ میاں شہباز شریف نے ینگ ڈاکٹروں کا غصہ ، ڈاکٹر سعید الٰہی پر نکالا اور حالیہ انتخابات میں انہیں ٹکٹ نہیں دیا۔ انہوں نے اپنے منظور نظر خواجہ سلمان رفیق کو ٹکٹ بھی دیا اور انہیں کامیاب بھی کرایا۔ ڈاکٹر سعید الٰہی چونکہ صلاحیتوں اور ارادوں سے معمور آدمی ہیں، اس لئے وہ دل برداشتہ نہیں ہوئے۔ انہیں صبر کا پھل یوں ملا کہ حالیہ انتخابات کے نتیجے میں مرکز میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہوئی تو صدر مملکت جناب ممنون حسین نے انہیں انجمن ہلال احمر پاکستا ن کا چیئرمین مقرر کر دیا۔ صدر مملکت بلحاظ عہدہ اس انجمن کے بھی صدر اور سرپرست ہیں۔پچھلے ہفتے ڈاکٹر سعید الٰہی مجھے گورنر ہاؤس کی ایک تقریب میں ملے تو انہوں نے حکم دیا کہ مَیں ان کے ساتھ اسلام آباد چلوں اور دیکھوں کہ انجمن ہلال احمر پاکستان کس طرح کام کر رہی ہے؟ وہ پچھلے کئی دنوں سے مجھ سے یہ فرمائش بھی کر رہے تھے کہ انجمن کے لئے ایک نغمہ لکھوں جو اس کی کارکردگی اور منشور کا عکاس ہو۔۔۔ چنانچہ مَیں موٹر وے کے بابو صابو انٹرچینج سے ان کے ساتھ ان کی جھنڈے والی گاڑی میں سوار ہوا اور اسلام آباد میں انجمن کے دفتر پہنچ گیا۔ صبح سویرے ان کے ادارے کے ایک ڈپٹی ڈائریکٹر نے مجھے انجمن ہلال احمر کے حوالے سے مفصل بریفنگ دی۔اس بریفنگ کے نتیجے میں مجھے پتا چلا کہ انجمن کا اصل نام ریڈ کراس ہے، لیکن ترکی کے کہنے پر مسلمان ملکوں کے لئے اس کا نام ریڈ کریسنٹ ،یعنی بلال احمر رکھ دیا گیا ہے۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ ہر صوبے میں اس کا ایک صوبائی ہیڈ کوارٹر ہے، ہر صوبے میں ضلعی سطح پر بھی اس کا دفتر قائم ہے، جس کا سربراہ ڈی سی او ہوتا ہے۔ اب اس انجمن کے پاس بہت وسائل ہیں ،شاید اسی لئے ریفل ٹکٹ کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے، لیکن جب ڈاکٹر سعید الٰہی سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ پچھلے کچھ برسوں سے وطن عزیز میں ایک غیر اعلانیہ جنگ کی سی حالت ہے۔ آسمانی اور زمینی آفات بھی آتی رہتی ہیں، اس لئے انجمن کے وسائل کم پڑتے جا رہے ہیں، چنانچہ وہ عطیات کے حصول کے لئے بہت سے نئے ذرائع تلاش کر رہے ہیں۔ ریفل ٹکٹ کا اجرا بھی کرنے والے ہیں۔ ڈاکٹر سعیدا لٰہی نے اسلام آباد شہر میں ایک ایمبولینس سروس کا آغاز بھی کیا ہے۔ انجمن کے پاس سو سے زیادہ ایمبولینس گاڑیاں موجود ہیں۔ اس سروس کے ذریعے شہریوں کو فوری ریلیف دینے کے لئے ایک ہیلپ لائن 1030متعارف کرائی گئی ہے۔ انجمن کے دفتر میں ایک کنٹرول روم بنایا گیا ہے، جہاں چوبیس گھنٹے اہل کار رسپانس دینے کے لئے موجود رہتے ہیں، حتیٰ کہ اس کنٹرول روم میں چوبیس گھنٹے ٹیلی ویژن چلتا رہتا ہے، اگر اسلام آباد میں کوئی ایسا حادثہ رونما ہو جائے جہاں ہلال احمر کا پہنچنا ضروری ہو توا س کا عملہ بغیر کسی کے کہے وہاں فوراً پہنچ جاتا ہے اور اگر خبر کسی اور شہر کی ہو تو صوبائی یا ضلعی ہیڈ کوارٹر کو اطلاع دے دی جاتی ہے۔ مجھے انجمن ہلال احمر پاکستان کی عمارت کے ایک آراستہ کمرے میں ٹھہرایا گیا تھا، وہ ترکی نے بنوائی ہے۔ اسی کمرے میں بیٹھ کر وہ ہلال احمر کا نغمہ لکھا جو آپ 23جنوری 2015ء کے اخبار میں پڑھ چکے ہیں۔میری خواہش ہے کہ جس طرح اسلام آباد میں ہلال احمر سرگرم عمل ہے، اسی طرح چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں بھی فعال ہونی چاہئے۔ سکولوں، کالجوں میں بھی اب ہلال احمر کو فعال ہونے کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا ہوگیا تو موجودہ صورت حال میں سیکیورٹی اور ریلیف کے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔ میرا اپنے قارئین سے وعدہ ہے کہ اگلی بار اسلام آباد گیا تو انجمن ہلال احمر پاکستان کے بارے میں انہیں بہت سی معلومات فراہم کروں گا۔

مزید : کالم