سول ایٹمی ٹیکنالوجی سے متعلق امریکی تحفظات ختم ،بھارت سے دفاعی تعاون بڑھائیں گے ،اوباما

سول ایٹمی ٹیکنالوجی سے متعلق امریکی تحفظات ختم ،بھارت سے دفاعی تعاون ...

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن،آئی این پی، اے این این)امریکی صدر بارک اوباما دوروزہ دورے پر کل نئی دہلی پہنچے اور آتے ہی بھارت کے لئے بہت سی مراعات کا اعلان کر دیا جن کے تحت سول ایٹمی ٹیکنالوجی کے حوالے سے بھارت کو کھلی چھٹی دے دی گئی، یہ مراعات خطے کے مفادات کے منافی ہیں جن کے بارے میں پڑوسی ملکوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھے گا۔تفصیل کے مطابق امریکہ اوربھارت کے درمیان سول ایٹمی معاہدے پرنمایاں پیشرفت ہوئی ہے اور صدرباراک اوبامانے بھارت کوفراہم کئے جانے والے جوہری آلات پرٹریکنگ ڈیوائس لگانے کی شرط سے دستبردا رہوکرمعاہدے کی راہ میں آخری رکاوٹ بھی دور کردی ہے جبکہ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کی حمایت کا اعلان بھی دہرایا۔ہفتہ کو امریکی صدر باراک اوباما اور بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان حیدر آباد ہاؤس میں ملاقات ہوئی جس میں سو ل ایٹمی نیوکلیئرمعاہدے سمیت اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بعد ازاں مشترکہ پریس کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے باراک اوباما نے کہا کہ امریکا کی کامیابی کیلئے بھارت سے تعلقات کا قیام اہمیت کا حامل ہے امریکا اور بھارت دوستی کے نئے دور کیلئے پرعزم ہیں،بھارتی یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کیلئے پہلا امریکی صدر ہونے کیلئے مجھے فخرہے بھارت کی مہمان نوازی پر شکر گزار ہوں۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کے ساتھ سول ایٹمی معاہدے پر پیشرفت ہوئی ہے تاہم اس حوالے سے مزیدتفصیلات نہیں بتائیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ دفاع سمیت کئی شعبوں میں تعاون پر اتفاق ہوا ہے بھارت کیساتھ تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں۔ حالیہ برسوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں 60 فیصد اضافہ ہوا۔ بھارت کیساتھ تجارتی اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینگے۔ امریکا شمسی توانائی کے منصوبوں میں بھی بھارت کی مدد کرے گا۔امریکی صدر نے کہا کہ بھارت کیساتھ دفاعی ٹیکنالوجی میں تعاون کرینگے ۔ عالمی امن کے قیام کیلئے بھارت کا اہم کردار ہے۔ سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کی حمایت کرتے ہیں۔ اس موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ وہ امریکی صدر اور ان کی اہلیہ کو بھارت آمدپر خوش آمدید کہتے ہیں۔ پہلی مرتبہ ہوا کہ کسی بھی امریکی صدر نے بھارت کا دو مرتبہ دورہ کیا۔ یوم جمہوریہ پر امریکی صدر بھارت کے خصوصی مہمان ہونگے۔انہوں نے کہا کہ امریکا اور بھارت کی پارٹنرشپ ایک فطری گلوبل پارٹنر شپ ہے۔ یہ پارٹنرشپ دونوں ملکوں،دنیا کے امن و امان،استحکام اور خوشحالی کیلئے ضروری ہے۔ امریکا اور بھارت کی دوستی پر کبھی شک نہیں رہا تاہم دیرپا تعلقات کیلئے اچھی شروعات کی ضرورت ہے۔ امریکا اور بھارت کے تعلقات تبدیلی کے دور سے گزر رہے ہیں۔ امریکی صدر کیساتھ ملاقات میں عالمی اور خطے کی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔ دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ سرکاری معاہدے پر بھی بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ہم جدید دفاعی ٹیکنالوجی میں بھی تعاون کی نئی راہیں تلاش کرینگے۔انہوں نے کہاکہ سول جوہری معاہدے کے چھ سال بعد اب دونوں ملک اس ضمن میں تجارتی سمت میں پیش رفت کر رہے ہیں۔ دونوں ملک دفاع کے شعبے میں بھی مزید تعاون کی جانب بڑھ رہے ہیں اور وہ دو طرفہ تجارت کو نئی سطح تک لے جانے کے خواہاں ہیں۔ صدر اوباما نے صاف ستھری توانائی کی پیداوار میں بھی بھارت کو تعاون دینے کی بات کہی ہے۔ پریس کانفرنس میں ایک صحافی نے نریندر مودی سے سوال کیا کہ ان کی امریکی صدر باراک اوباما سے اکیلے میں کن معاملات پر بات چیت ہوئی جس کے جواب میں بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ اوباما سے اکیلے میں کیا بات ہوئی اسے پردے میں رہنے دیں۔ انہوں نے بتایا کہ کیمرے سے دور بات چیت میں میری اوباما سے دوستی ہوگئی ہے۔ یہی دوستی دونوں ملکوں اور اس کی عوام کو بھی قریب لے آئی ہے۔امریکی صدر باراک اوباما نے نمسکار کے ساتھ اپنی مشترکہ کانفرنس کا آغاز کیا۔ ادھربھارتی میڈیا نے دعویٰ کیاہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی امریکی صدر باراک اوباما سے اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب رہے اور امریکا بھارت سے ایٹمی معاہدے میں شامل ایٹمی مواد کی ٹریکنگ کے قانون سے دستبردار ہوگیا ہے۔ میڈیاکے مطابق نئی دہلی کے حیدر آباد ہاؤ س میں دونوں رہنماؤ ں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ایٹمی معاہدے کا معاملہ زیر غور آیا اور نریندر مودی نے باراک اوباما سے ایٹمی مواد میں ٹریکنگ ڈیوائس نہ لگانے کا مطالبہ کیا جسے امریکی صدر نے تفصیلی بات چیت کے بعد قبول کرلیا اور اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایٹمی مواد سے ٹریکنگ ڈیوائس ہٹانے پر رضامندی ظاہر کردی جس کے بعد اب امریکا بھارت کو فراہم کئے جانے والے ایٹمی فیول کی نقل وحمل کی تفصیل سے لاعلم رہے گا۔دوسری جانب پاکستانی ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی آلات پر ٹریکنگ ڈیوائس کا مقصد اس کے غلط استعمال کو روکنا ہے اور افزودہ یورینیم پر ٹریکنگ ڈیوائس نہ لگانا عالمی قوانین کے خلاف ہے، امریکا نے بھارت کو کھلی چھٹی دے دی اور ایٹمی مواد پر ٹریکنگ نظام نہ ہو تو اس کا غلط استعمال ہوسکتا ہے۔ امریکہ کے صدر باراک اوباما نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ مذاکرات کے بعد اعلان کیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سول جوہری معاہدے کی راہ میں حائل اختلافات پر سمجھوتہ ہوگیا ہے۔انھوں نے کہا کہ سول جوہری معاہدے کے اطلاق کی راہ میں ٹھوس پیش رفت ہوئی ہے اور ان دو اختلافات پر سمجھوتہ ہوا ہے جن کی وجہ سے یہ معاہدہ اٹکا ہوا تھا۔زیر اعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ اب اس معاہدے کی بنیاد پر کمرشل تعاون کی راہ ہموار ہوگئی ہے اور امریکہ کے ساتھ جو سمجھوتہ ہوا ہے وہ ’موجودہ بھارتی قانون اور ہندوستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے دائرے میں ہے۔واضح رہے کہ اصل تنازع ایک ہندوستانی قانون پر تھا جس کے تحت جوہری حادثات کی صورت میں آپریٹر کے ساتھ ساتھ جوہری بجلی گھر فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھی معاوضے کی ادائیگی کا ذمہ دار بنایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ امریکہ کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ جو بھی جوہری مواد ہندوستان کو کہیں سے بھی حاصل ہوگا، امریکہ کو اسے ٹریک کرنے یا اس پر نگاہ رکھنے کا حق حاصل رہے گا۔وزارت خارجہ کے اہلکاروں کے مطابق معاوضے کی ذمہ داری سے متعلق خدشات کو ختم کرنے کے لیے ایک انشورنس پول بنایا جائے گا اور اس طرح ہندوستانی قانون میں ترمیم کی ضرورت نہیں پڑے گی یہ ایک انتہائی حساس موضوع ہے اور موجودہ سخت قانون خود بی جے پی کی حمایت سے ہی منظور کیا گیا تھا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ امریکی کمپنیاں بھی اس بندوبست سے مطمئن ہوں گی یا نہیں لیکن قومی سلامتی پر صدر اوباما کے نائب مشیر بین رہوڈز نے کہا کہ ان کے خیال میں بھارتی حکومت نے امریکہ کے خدشات کا ازالہ کردیا ہے،اب کمپنیوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگاکہ وہ ان نئی یقین دہانیوں کے بعد یہاں کاروبار کرنا چاہتی ہیں یا نہیں۔دونوں ملکوں نے دفاع اور تجارت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ لیکن بات چیت میں دوسرا اہم مسئلہ ماحولیات کا تھا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ وہ گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں کٹوتی کی اہمیت سمجھتے ہیں اور اس سلسلے میں جو معاہدے ہوا ہے وہ کسی ملک یا شخص کے دباؤ میں نہیں کیا گیا ہے۔دباؤ صرف گیسوں کے اخراج اور بڑھتی ہوئی حدت کا ہے۔ نریندر مودی نے کہا کہ میرے اور باراک کے درمیان وہ دوستی بن گئی ہے، اسے کھلے پن کی وجہ سے ہم آرام سے فون پر بات کر لیتے ہیں، آرام سے گپ مار لیتے ہیں، ہنسی مذاق کر لیتے ہیں،اس کیمسٹری کی وجہ سے ہم اور ہمارے عوام قریب آئے ہیں۔‘اگرچہ سول نیوکلئر ڈیل پر اعلان کو بڑی پیش رفت مانا جا رہا ہے لیکن یہ کہنا شاید ابھی قبل از وقت ہوگا کہ ہندوستان میں اب امریکی کمپنیاں بے جھجھک جوہری بجلی گھر قائم کرسکیں گی۔

مزید : صفحہ اول