امریکی مہمانوں کی خوشی میں مودی اپنی اہلیہ کو مدعوکرناہی بھول گئے

امریکی مہمانوں کی خوشی میں مودی اپنی اہلیہ کو مدعوکرناہی بھول گئے

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی وزیراعظم نریندرامودی امریکی صد راوراُن کی اہلیہ کی خوشی میں اپنی بیوی کو بلانا ہی بھول گئے ، شاید وہ کسی سے اپنی بیوی کا تعارف ہی نہیں کراناچاہتے ،مودی کی اہلیہ کا کہناتھاکہ جب اوباما کا استقبال ہو رہا تھا تب مجھے بھی دہلی میں ہونا چاہیے تھا لیکن صاحب (مودی) ایسا نہیں چاہتے۔برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی ‘ کے مطابق امریکی مہمانوں کے استقبال کے وقت جشودا بین اپنی صبح کی پوجا میں مشغول تھیں۔ان کے بھتیجے نے ٹی وی آن کیا تو اوبامہ کے استقبال کی براہ راست نشریات جاری تھی،کچھ دیرجشودابین نے اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کی لیکن پھر اپنے شوہر کو غور سے دیکھنے لگیں۔اس سے قبل جشودابین نے کہا کہ اگر مودی اُنہیں بلائیں گے تو وہ ضرورجائیں گی لیکن بلانا لازم ہے کیونکہ یہ عزت نفس کا معاملہ ہے اور وہ پیچھے نہیں ہٹیں گی ، دونوں انسان ہیں ۔جشودابین کا کہناتھاکہ مودی کی طرف سے بیوی تسلیم ہونے پر وہ شکر گزار ہیں اور وہ حکومت سے مطالبہ کرتی ہیں کہ حق اداکیاجائے ، وہ جانتی ہیں کہ مودی نے ملک کے لیے اپنی ازدواجی زندگی کو قربان کیا، اگر میں ان کے ساتھ ہوتی تو وہ شاید اتنا کچھ نہیں کر پاتے، میرے دل میں کوئی کڑواہٹ نہیں ۔یادرہے کہ عام انتخابات سے ٹھیک پہلے مودی نے جسودابین کو اپنی بیوی تسلیم کیا تھاجبکہ اس سے قبل وہ خود کو مودی کی بیوی ہونے کا تعارف کراتیں تو بی جے پی کے لوگ اُنہیں جھوٹاقراردے دیتے ۔خاتون نے بتایاکہ مودی شادی کے بعد چند ماہ تک ساتھ رہے، وہ صبح آٹھ بجے چلے جاتے تھے اور شام کو دیر سے گھر آتے تھے، ایک بار وہ گئے تو پھر نہیں آئے، وہ اپنی سسرال میں تین سال تک رہی جس کے بعد مجھے لگا کہ اب وہ میرے پاس نہیں آئیں گے، پھر میں پڑھائی کر کے ٹیچر بن گئی۔

مزید : صفحہ اول