بجلی کے ملک گیر بریک ڈاؤن کے24گھنٹے بعد بھی سسٹم مکمل نہ ہو سکا ،متضاد اور غلط دعوے جاری

بجلی کے ملک گیر بریک ڈاؤن کے24گھنٹے بعد بھی سسٹم مکمل نہ ہو سکا ،متضاد اور غلط ...

 لاہور )کامرس رپورٹر( بجلی کے ملک گیر بریک ڈاؤن کے 24 گھنٹے گرز جانے کے بعد بھی سسٹم مکمل بحال نہیں ہو سکا ۔ جس کی وجہ سے ملک کے کئی علاقے گزشتہ رات گئے تک بھی مسلسل بجلی کی فراہمی سے محروم ہیں تاہم وفاقی اور صوبائی دارالحکومت سمیت بڑے شہروں میں جزوی طور پر بجلی کی بحالی ہو گئی ہے ۔ وزارت بجلی و پانی اور این ٹی ڈی سی کی جانب سے بریک ڈاؤن اور بحالی کے حوالے سے مسلسل متضاد اور غلط دعوے کئے جا رہے ہیں ۔ ہفتہ ا ور اتوار کی درمیانی شب تقریبا ساڑھے گیارہ بجے کے قریب ملک گیر بریک ڈاؤن ہو گیا تھا جس سے ملک کا نوے فیصد علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے تھے ا ور ملک میں دفاعی سسٹم سمیت ہر طرح کا سسٹم بند ہو گیا تھا ۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں یہ تیسرا ملک گیر بریک ڈاؤن ہے یہ بھی ملکی تاریخ کا ایک نیا ریکارڈ ہے اس سے قبل کبھی بھی اتنے کم عرصے میں اتنے بریک ڈاؤن نہیں ہوئے ۔ بریک ڈاؤن کے بعد ملک کے تمام ایئر پورٹس اور ریلوے سٹیشن سیمت ہسپتال اندھیرے میں ڈوب گئے تھے ۔ بجلی کا مرحلہ وار بحالی کا عمل صبح نو بجے کے بعد شروع ہوا ۔ جو را ت گئے تک مکمل نہیں ہوا ۔ بریک ڈاؤن اور بحالی کے حوالے سے بریک ڈاؤن کے بعد سے ہی وزارت بجلی و پانی اور این ٹی ڈی سی کے حکام کے متضاد بیانا ت سامنے آ رہے ہیں حتی کہ وزیر مملکت عابد شیر علی کا بریک ڈاؤن کی وجوہات اور بحالی کے عمل سے سامنے آنے والا بیان بھی وزارت بجلی و پانی کے دیگر حکام اور این ٹی ڈی سی کے حکام سے مختلف ہے ۔ این ٹی ڈی سی کے ترجمان نے بریک ڈاؤن کے کچھ دیر بعد کہا تھا کہ مظفر گڑھ سے گدو جانے والے مین لائن میں نقص پیدا ہوا ہے جس سے پورا سسٹم بیٹھ گیا ہے ۔ اس موقع پر وزارت بجلی و پانی کا موقف تھا کہ گدو سے کوئٹہ جانے والے لائن میں نقص کے باعث نیشنل سسٹم میں بریک ڈاؤن ہوا ہے ۔ گزشتہ روز وزارت بجلی وپانی کے وزیر مملکت کے موقف کے مطابق نصیر آباد ٹرانسمیشن لائن کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کے باعث بریک ڈاؤن ہوا جبکہ این ڈی ٹی سی کے ترجمان کے گزشتہ روز کے نئے بیان کے مطابق اوج مین ٹرانسمیشن لائن کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کے باعث بریک ڈاؤن ہوا ہے ۔ اس طرح ہی بحالی کے حوالے سے بھی این ٹی ڈی سی اور وزارت بجلی و پانی کے متضاد دعوے سامنے آئے ۔ وزارت بجلی و پانی کے ترجمان نے گزشتہ روز صبح نوے بجے دعوے کیا کہ پورے ملک کی بجلی بحال کر دی گئی ہے ۔ جبکہ حقیقت میں صبح نوے بجے جزوی طور پر بجلی کی بحالی کا عمل شروع ہوا ۔ این ٹی ڈی سی کے گزشتہ شام کے دعوے کے مطابق ملک کے تمام بڑے شہروں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے دعوے کے مطابق سسٹم میں چھ ہزار میگاو اٹ بجلی آ گئی ہے اور چند گھنٹوں میں مزید بجلی آنے پر پورے ملک میں سسٹم بحال ہو جائے گا ۔ این ٹی ڈی سی کے ترجمان کے مطابق جو بجلی سسٹم میں آئی ہے اس میں ہائیڈل سے 2767 میگا واٹ ، ائی پی پیز سے 2764 میگا واٹ اور جنکوز سے 512 میگا واٹ بجلی آئی ہے واضح رہے کہ بریک ڈاؤن سے دو دن قبل ہی این ٹی ڈی سی کے ترجمان نے کہا تھا کہ ڈیموں سے پانی کے اخراج میں کمی کے باعث ہائیڈل کی پیداوار کم ہو کر ایک ہزار میگا واٹ سے بھی کم کی سطح پر آ گئی ہے ۔ ارسا کی جانب سے گزشتہ روز ڈیموں سے پانی کے اخراج میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا پھر بھی این ٹی ڈی سی کا دعوی ہے کہ ہائیڈل کی پیداوار بڑھ کر 2767 میگا واٹ ہو گئی ہے ۔ ماہرین کے مطابق فرنس آئل اور گیس کی قلت کے باعث شارٹ فال بڑھنے کے باعث نیشنل ٹرانسمیشن سسٹم مرحلہ وار ٹرپ ہوا جس سے ملک گیر بریک ڈاؤن ہوا ۔ ماہرین کے مطابق ایک بار پاور پلانٹ بند ہونے کے بعد اس کی مکمل بحالی کے لئے ایک سے ڈیڑھ دن کا عرصہ درکار ہوتا ہے ۔ اس صورت حال کے مطابق آج شام تک ہی ملک میں مکمل بحالی ممکن ہو سکے گی ۔ بریک ڈاؤن سے قبل مجموعی پیداوار تقریبا کم ہو کر چھ ہزار سے بھی کم کی سطح پر آ گئی تھی اور شارٹ فال بڑھ کر سات ہزار سے بھی تجاوز کر گیا تھا ۔ تاہم دوسری جانب گزشتہ روز ملک میں ہفتہ وار تعطیل کے باعث بجلی کی ڈیمانڈ میں کمی رہی آج معمول کی سرگرمیاں شروع ہونے پر ڈیمانڈ میں اضافہ ہو جائے گا اور سسٹم پر لوڈ بڑھ جائے گا واضح رہے کہ گزشتہ تین دن سے میڈیا میں مسلسل خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ پیداوار انتہائی کم ہونے کے باعث نیشنل سسٹم کسی بھی وقت ٹرپ کر سکتا ہے

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...