مطلوبہ ذخائر رکھنے میں ناکامی ،درآمد کا نہ ہونا ،مانگ میں اضافہ پٹرول بحران کا باعث بنے

مطلوبہ ذخائر رکھنے میں ناکامی ،درآمد کا نہ ہونا ،مانگ میں اضافہ پٹرول بحران ...

 لاہور)کامرس رپورٹر(معروف تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز نے ملک میں حالیہ پٹرول کے بحران پر حقائق نامہ جاری کیا ہے جس کے مطابق پٹرول کا بحران حکومت کی بہت بڑ ی ناکامی ہے اور یہ غیر سنجیدہ گور ننس کی نشاندھی کرتا ہے، یہ بحران وزراء ا ور متعلقہ ایجنسیوں کے درمیان عدم تعاون کی وجہ سے پیداہوا۔حقاق نامہ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے اندر پٹرول در آمد کرنیوالا سب سے بڑا سرکاری ادارہ پی ایس او ہے جو کہ66فیصد پٹرول در آمد کرتا ہے جب کہ بقیہ 34فیصد تیل مختلف ما رکیٹنگ کمپنیاں درآمد کر تی ہیں۔ پی ایس او کو لیکویڈیٹی کے سنگین مسائل کا سامنا ہے کیونکہ پی ا یس ا و سے بجلی پیدا کرنیوالی کمپنیاں جنکوز، حبکوزاور کیپکوز وغیرہ فرنس آئل خریدتی ہیں ا ور ان کی طرف سے عدم ادائیگی کی وجہ سے پی ایس او کو مسائل کاسامنام کرنا پڑا۔ انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز کے حقائق نامہ کے مطابق ستمبر 2014تک پی ایس او کی وصولیاں222ارب روپے کی بھاری رقم سے بھی تجاوز کر گئی تھیں جس کی وجہ سے دسمبر میں پی ایس ا و کی ایل سیز جواب دے گئی تھیں چنانچہ پی ایس اور زیادہ تیل درآمد نہ کرسکا اور دو سری طر ف اس پر گردشی قر ضہ کا بوجھ بھی بڑھتا گیا۔اس کے علاوہ مار کیٹنگ کمپنیز نے بھی مطلوبہ مقدار اور مقررہ مدت کیلئے تیل کے ذخائرکو برقرار نہ رکھا جس کی وجہ سے پٹرول کا بحران پیدا ہوا۔حقائق نامہ کے مطابق ایک طرف تو مطلوبہ مقدار میں پٹرول درآمد نہ کیا گیا،دوسری طرف ملک میں کئی وجوہات کی بنا پر پٹرول کی مانگ میں اضافہ ہو گیا۔ جنوری کے شروع میں ہی اس کی قیمت میں 28فیصد کمی ہوئی جس کی وجہ سے پٹرول کی مانگ 6سے 8فیصد تک بڑھ گئی۔اس کے ساتھ ہی چونکہ حکومت نے سی این جی سٹیشنز کی بندش کا اعلان بھی کر رکھا تھا اس لئے لوگوں نے اپنی گاڑیوں کو سی این جی سے پٹرول پر منتقل کر لیا تھا۔

مزید : علاقائی