بورڈ آف ریو نیو کے اعلٰی افسران کی افسر شاہی سینئر رجسٹریوں کے انتقال میں رکاوٹ

بورڈ آف ریو نیو کے اعلٰی افسران کی افسر شاہی سینئر رجسٹریوں کے انتقال میں ...

                                لاہور(عامر بٹ سے)بورڈ آف ریونیو کے اعلیٰ افسران کی عدم توجہ اور آفیسر شاہی کے رائج کردہ قوانین ،سینئر رجسٹریوں کے انتقالا ت میں بڑی رکاوٹ بن گئے،سالہا سال سے سینئر رجسٹریوں کی تصدیق کروانے والے مالکان کی کثیر تعداد اپنے جائز حقوق کےلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوگئی،محکمہ مال کے ریونیو سٹاف کی بنیادی اور دانستہ غلطیاں صوبے بھر کی عوام کے گلے پڑھ گئیں،روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق بورڈ آف ریونیو پنجاب کے اعلیٰ افسران کی عدم توجہ ،مانیٹرنگ کے غیر فعال سسٹم اور انتطامی افسران کی افسر شاہی نے صوبے بھر کی عوام کے حقوق سلب کردیئے ،سینئر رجسٹری کے انتقال کےلئے نافذ کئے جانے والے قانون نے شہریوں کو ذہنی اضطراب میں مبتلاءکر دیا،مزید معلوم ہوا ہے کہ صوبے بھر کی عوام کی تصدیق ہونے والی رجسٹری دستاویزات کے مطابق انتقال تصدیق کرنے اور پاس شدہ انتقال کی کاپی پرچہ رجسٹری قانون کے مطابق ریونیو سٹاف مہیا کرنے کا پابند ہے،تاہم ہزاروں کی تعداد میں مالک اراضی کی پہلے تو رشوت کے بغیر انتقالات تصدیق ہی نہیں کئے جاتے مگر رشوت دے کر بھی سینکڑوں شہریوں کے انتقالات درج نہیں کئے گئے ،ستم یہ ہے کہ رجسٹری کی پاسنگ کے دوران بھی حکومتی خزانے میں مالک اراضی کی جانب سے 500روپے سرکاری فیس جمع کروائی گئی ہے زمین کی فروخت کے دوران جب مالک اراضی کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی رجسٹری سینئر ہونے کے باوجود ریونیو ریکارڈ میں اس کی ملکیت کا اندراج نہ کیا گیا ہے اور اس کے بعد میں ہونے والی جونیئر رجسٹری کے مالک اراضی کا انتقال اور ملکیت کا اندراج ریونیو ریکارڈ میں کر دیا گیا ہے، شہریوں نے حقوق کےلئے وکلاء،ریونیو ٹاﺅ ٹ اور پٹواریوں کی خدمات حاصل کرتے ہوئے منہ مانگی رقوم بھی ادا کیں،پبلک انٹرسٹ کے تحت کام کرنے کے سب سے بڑا دعوٰی کرنے والے بورڈ آ ف ریونیو پنجا ب کے سینئر افسران نے اس پریکٹس کی طرف تاحال کوئی توجہ نہ دی ہے جس سے صوبے بھر کے 3لاکھ سے زائد متاثرہ افراد اپنے جائز حقوق کے حصول کےلئے ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو چکے ہیں ،ریونیو ماہرین کا کہنا ہے کہ بورڈ آف ریونیو پنجاب نے پبلک انٹرسٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی قوانین میں ترامیم کی ہے اگراس پریکٹس کو آسان بنانا ہے تو اس کے لئے بھی قانون میں ترمیم کرتے ہوئے سینئر ،جونیئر انتقالات کے معاملے کو قانونی طریقے سے سلجھانے کےلئے اسسٹنٹ کمشنر ز اور تحصیلداران صاحبان تک کو انتظامی افسران کو اختیار دے دینا چاہئے او ر سینئر رجسٹری کے مالک اراضی کو ریلیف مہیا کرنے کےلئے باقاعدہ 15سے 20دن کا فکس ٹائم فریم دینا چاہئے پابند کیا جائے کہ وہ سینئر رجسٹری کے حقوق کے متعلق تمام قانونی تقاضوں کو 10روز میں مکمل کیا کریں اور 15سے 20روز میں اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے عمل دارآمد کرتے ہوئے سینئر رجسٹری مالک اراضی کو اس کے حقوق دلائے جا سکیں ،سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب ندیم اشرف کو فوری طورپراس عمل کا نوٹس لیتے ہوئےملکیت کے ریلیف کےلئے کوئی تحریری اقدامات کئے جائیں جس سے پنجا ب بھر کی لاکھوں عوام بھی مستفید ہو جائے گی ،شہریوں کی بڑی تعداد نے بھی اس ضمن میں اپیل کرتے ہوئے سینئر ممبر سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

مزید : علاقائی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...