شکر ہے اوباما پاکستان نہیں آرہے

شکر ہے اوباما پاکستان نہیں آرہے

امریکی صدر براک اوباما اس وقت بھارت کے دورہ پر ہیں۔ ایک سو بلین ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کی بات کی جا رہی ہے۔ امریکی صدر نے بھارت کی سیکورٹی کونسل میں مستقل رکنیت کی حمایت کر دی ہے۔ اوباما نے بھارت کے دورہ کے ساتھ پاکستان کا دورہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ سول نیو کلیئر معاہدہ کی نوید بھی سنائی جا رہی ہے۔اگر ماضی قریب میں امریکی صدور کے بھارتی و پاکستان کے دوروں کو سامنے رکھا جائے تو خدا کا شکرادا کرنا چاہئے کہ اوباما پاکستان کا دورہ نہیں کر رہے۔ گزشتہ سال جب وزیر اعظم میاں نواز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لئے گئے توامریکی صدر نے ان سے ملاقات نہیں کی۔ اور بھارتی وزیر اعظم موودی سے ملاقات کی۔وزیر اعظم میاں نواز شریف نے امریکی نائب صدر سے ملاقات کی۔ اور تقابلی جائزہ شروع ہو گیا کہ امریکی صدر نے بھارتی وزیر اعظم موودی سے تو ملاقات کی ہے لیکن میاں نواز شریف سے نہیں کی۔ مارچ 2000 ء میں جب امریکی صدر بل کلنٹن نے بھارت کا دورہ کیا تھا تو وہ چند گھنٹوں کے لئے پاکستان آئے تھے۔ صاف لگ رہا تھا کہ وہ شدید دباؤ میں پاکستان آئے۔ ان کا لہجہ بھی سخت تھا۔ انہوں نے بھارت سے پاکستان روانہ ہونے سے قبل آخری وقت میں اپنا جہاز تبدیل کر لیا ۔ اور امریکہ صدر کے جہاز ائیر فورس ون میں سفر کرنے کی بجائے ایک عام جیٹ طیارے میں دہلی سے اسلام آباد تک کا سفر کیا۔کیونکہ انہیں خطرہ تھا کہ القاعدہ ان کے جہاز کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ حالانکہ ابھی نائن الیون کا واقعہ نہیں ہوا تھا۔ یہ وہ وقت تھاجب جنرل پرویز مشرف نئے نئے برسر اقتدار آئے تھے۔ جمہوریت کا بستر گول تھا۔ اس لئے بل کلنٹن کی سرد مہری کو یہ سمجھا گیا کہ انہوں نے آمریت کو سرد مہری دکھائی ہے۔ جنرل پرویز مشرف بل کلنٹن کے جانے کے بعد یہ صفائیاں ہی دیتے رہے کہ بل کلنٹن نے سرد مہری نہیں دکھائی۔ اس کے بعد جارج بش نے مارچ 2006 میں پہلے بھارت کا دورہ کیا اور بعد میں وہ پاکستان آئے۔ اس وقت پاکستان امریکہ کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے بڑا اتحادی تھا۔ لیکن یہ دورہ بھی پاکستان کے لئے زیادہ خوشگوار نہیں رہا۔ کیونکہ امریکی صدر جارج بش نے بھارت کے ساتھ سول نیو کلیئر معاہدہ کر لیا۔ اور پاکستان کو سول نیوکلیئر دینے سے انکار کر دیا۔ اس لئے جارج بش کے اسلام آباد میں ،لینڈ کرنے سے قبل ہی ایوان صدر نے صحافیوں کو بریفنگ دی کہ پاکستان کو اگر امریکہ سول نیوکلیئر نہیں دیتا تو وہ چین سے لے گا۔

اسلئے جب بھی امریکی صدر بھارت اور پاکستان کا اکٹھادورہ کرتے ہیں۔ تو اس بات کا تقابلی جائزہ شروع ہو جا تا ہے کہ پاکستان کو کم ملا یا بھارت کو زیادہ ملا۔ اس وقت یہ بات غیر اہم ہو جاتی ہے کہ بھارت ہم سے بڑا ملک ہے۔ امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں پاکستان سے زیادہ چین کی اہمیت ہے۔ امریکہ چین کی وجہ سے بھارت کو اہمیت دیتا ہے۔ کیونکہ وہ خطہ میں چین کا اثر و رسوخ کم کرنا چاہتا ہے۔ چین اور بھارت کے درمیان تنازعات ہی کی بنیاد پر چین ہمارا بہترین دوست ہے۔ امریکہ کی جانب سے بھارت کے ساتھ سول نیوکلیئر کے بعد چین نے پاکستان کے ساتھ سول نیو کلیئر معاہدہ کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے بل کلنٹن اور جارج بش کے دوروں سے سبق سیکھا اور اس دفعہ براک اوباما کے دورہ بھارت کے ساتھ ان کا دورہ پاکستان نہیں رکھا۔ کیونکہ دورہ کر کے بھی پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری آنے کی بجائے ماحول خراب ہو تا ہے۔ امریکہ صدر براک اوباما نے نومبر میں خود فون کر کے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کو اپنے دورہ بھارت کے حوالے سے ا عتماد میں لیا۔

اس دوران جنرل راحیل شریف نے امریکہ کا دورہ بھی کیا۔ جہاں انہیں غیر معمولی پروٹوکول دیا گیا۔ جنرل راحیل شریف نے اس کے بعد برطانیہ کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ جان کیری نے بھی پاکستان کا دورہ کیا۔ پاکستان کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات بھی دوبارہ شروع کئے جا رہے ہیں۔ اس لئے ایسا نہیں ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کوئی خراب ہیں ۔ بلکہ امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات اور بھارت کے ساتھ تعلقات کی نوعیت میں فرق ہے۔ پاکستان میں تجزیہ نگاروں کو اس فرق کو سمجھنا چاہئے جب تک یہ فرق نہیں سمجھا جائے گا تب تک پاک امریکہ تعلقات کا صحیح معنوں میں تجزیہ نہیں ہو سکتا۔ خارجہ پالیسی بھی سیاست ہے۔ جس طرح ملکی سیاست میں ٹائمنگ بہت اہم ہوتی ہے ۔ اسی طرح خارجہ پالیسی میں بھی ٹائمنگ نہائت اہم ہوتی ہے۔ جنرل راحیل شریف کا اس موقع پر دورہ چین بھی بھارت اور امریکہ کے لئے ایک پیغام ہے۔ اوباما کی بھارت موجودگی کے دن چین کی جانب سے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی بہر حال پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے۔ کیونکہ جس طرح ہم امریکی صدر اوباما کے دورہ بھارت کی گرمی محسوس کر رہے ہیں۔ اس طرح بھارت میں بھی جنرل راحیل شریف کے بھی دورہ چین کی گرمی بھارت میں محسوس کی جا رہی ہے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...