یورپ کا وہ شہر جہاں خواتین کا داخلہ بند ہے

یورپ کا وہ شہر جہاں خواتین کا داخلہ بند ہے
یورپ کا وہ شہر جہاں خواتین کا داخلہ بند ہے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ایتھنز(نیوزڈیسک)عورت اور مرد کے بغیر اس کرہ ارض پر زندگی ممکن نہیں ہے لیکن دنیا میں ایک شہر ایسا بھی ہے جہاں گذشتہ ایک ہزار سال سے خواتین کے داخلے پر ہی پابندی ہے۔یونان کے جزیرہ نما Halkidikiمیں واقع یہ شہر Autonomous Monastic State of the Holy Mountainکے نام سے جانا جاتا ہے۔ماﺅنٹ ایتھوز کی پہاڑیوں میں یہ شہرآٹھویں صدی عیسویں سے قبل آبادہے جبکہ بازنطینی سلطنت کے دور میں بھی یہ کافی مشہور رہا۔اس وقت 20سے زائد ایسٹرن آرتھو ڈاکس موناسٹریزاور یونان، بلغاریہ ،سربیا اورروس سے تعلق رکھنے والے راہب اس شہر کا رخ کرتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شہر میں کسی بھی جانور کی مادہ کو بھی داخلے کی اجازت نہیں ہے۔یہ شہر بظاہر تو یورپی یونین کا حصہ ہے لیکن اس کے تمام قوانین اپنے ہیں۔ 2003ءمیں یورپی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد کے ذریعے اس عمل کی مذمت بھی کی ہے لیکن ابھی تک خواتین کے داخلے کی پابندی برقرار ہے۔

مزید پڑھیں: 12سال کی بچی 60کروڑ روپے کےہیرے لے اڑی

اس شہر کو بنانے والوں کا خیال تھا کہ عورتوں سے دور رہ کر وہ خدا کے نزدیک ہو سکتے ہیں اور اپنی عبادات پر بہتر طریقے سے توجہ دے سکیں گے۔اس شہر میں عبادت کی غرض سے آنے والے افراد سیاہ رنگ کا لمبا لباس زیب تن کئے ہوتے ہیں ،روزانہ کی آٹھ گھنٹے کی لازمی عبادت کے بعد وہ چرچ کے باہر عبادت میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ان راہبوں کا کہنا ہے کہ عورتوں کی غیر موجودگی کی وجہ سے وہ اپنی زندگی اور عبادات اچھے طریقے سے کر پاتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس