انسانی سوچ کی آزادی اور پیشاب میں گہرا تعلق،تحقیق میں سامنے آگیا

انسانی سوچ کی آزادی اور پیشاب میں گہرا تعلق،تحقیق میں سامنے آگیا

لندن(نیوز ڈیسک)حال ہی میں انسانی سوچ اور اس کا پیشاب سے تعلق پر کی گئی تحقیق میں حیرت انگیز باتیں سامنے آئی ہیں۔تحقیق کار Michael Ent اور Roy Baumeisterکا کہنا ہے کہ انسان کو جتنا زیادہ پیشاب آتا ہے ،اتنا ہی اس کا یقین اس بات پر پختہ ہوتا ہے کہ ان کا اپنی قسمت پر کنٹرول نہیں ہے۔یہ تحقیق جرنل Consciousness and Cognition میں چھپ چکی ہے اور تحقیق کاروں نے اس میں مختلف چیزوں پر بحث کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے ہماری جسمانی حالت تبدیل ہوتی ہے ویسے ویسے اردگرد کی دنیا کے بارے میں ہماری سوچ بھی تبدیل ہو رہی ہوتی ہے۔

وہ ملک جس میں کوکا کولا اور پیپسی پر پابندی لگادی گئی ہے

ان کا کہنا ہے کہ جب بھی انسان جسمانی مجبوریوں کی وجہ سے کوئی کام کرنے سے معذور ہوتا ہے تو فوراًاس کے ذہن میں اپنی لاچاری کا تصور بننے لگتا ہے اور آزادی کا تصور معدوم ہونے کے ساتھ قدرت کے سامنے اپنی بے بسی کا یقین ہونے لگتا ہے۔اپنی تحقیق میں انہوں نے ایسے مریضوں سے رابطہ کیا جنہیں مرگی اور ذہنی امراض لاحق تھے۔ان دونوں بیماریوں میں مریض کو کسی بھی وقت دورہ پڑ سکتا تھا اور اسے بالکل آزادی اور ود مختاری نہیں تھی۔انہوں نے جب مرگی کے مریضوں کا موازنہ نارمل لوگوں سے کیا تو انہیں علم ہوا کہ مرگی کے مریض زیادہ بے یقینی کا شکار ہیں اور ان کی قوت ارادی کمزور تھی۔اپنی تحقیق کا دائرہ بڑھاتے ہوئے انہوں نے نارمل لوگوں پر تجربات کئے اور یہ بات سامنے آئی کہ صحت مند افراد کو بھی جب کسی جسمانی پابندی یا معذوری کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ بھی خود مختاری سے محروم ہوجاتے ہیںاور اپنے آپ کا لاچار پاتے ہیں۔ ان حالات میں انسان کی سب سے زیادہ خواہش کھل کر پیشاب کرنا ، سونا اور جنسی عمل ہوتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...