تجارتی قافلہ لوٹنے والے گورنر کو چنگیز خان نےکیا سزا دی؟جان کر آپ کانپ اٹھیں گے

تجارتی قافلہ لوٹنے والے گورنر کو چنگیز خان نےکیا سزا دی؟جان کر آپ کانپ ...
تجارتی قافلہ لوٹنے والے گورنر کو چنگیز خان نےکیا سزا دی؟جان کر آپ کانپ اٹھیں گے

  

لاہور (نیوز ڈیسک) چنگیز خان کا شمار تاریخ کے سفاک ترین حکمرانوں میں ہوتا ہے اور خصوصا وسطی ایشیا کی مسلم ریاستوں کو جس طرح اس نے تباہ کیا اور معصوم شہریوں کو ہلاک کرکے ان کے سروں سے ہتیار تعمیر کئے اس ظلم کی دنیا میں مثال نہیں ملتی۔تیرھویں صدی کے آغاز میں چنگیز خان نے ایک لاکھ فوج اور اپنے قابل ترین جرنیلوں کے ساتھ وسطی ایشیاءکی خوارزمیہ سلطنت کا رخ کیا۔ اس حملے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ خوارزمیہ سلطنت کے شہر اوترا (Otra) کے گورنر چنگیز خان کے بھارتی وفد پر حملہ کیا تھا اور سلطنت کے حکمران شاہ علاﺅالدین محمد نے اس کے سفارتکار کا سرقلم کیا تھا۔

وہ آدمی جو پیدا بونا ہوا تھا لیکن جب مرا تودیو جیسا تھا،میڈیکل سائنس کی تاریخ کی پراسرار ترین کہانی

سلطان نے اپنی فوج کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرکے مختلف شہروں کی حفاظت پر مامور کیا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چنگیز خان کی نہایت بڑی فوج بآسانی ان ٹکڑیوں کو شکست دیتی گئی۔ جلد ہی اوترار شہر پر قبضہ کرلیا گیا اور اس کے گورنر انالچک (Inalchuq) کو سزا دینے کیلئے اس کی آنکھوں اور کانوں میں پگھلی ہوئی چاندی ڈال دی گئی۔ اس کے بعد شہر کی تمام عورتیں اور بچے غلام بنالئے گئے اور تمام مردوں کے قتل کا حکم جاری کردیا گیا۔ اس قتل عام کے بعد چنگیز خان نے سلطنت کے دارالحکومت ثمر قند کو فتح کیا اور بخارا اور گرگانج شہروں پر بھی قبضہ کرلیا۔ ثمر قند شہر کے تمام شہریوںکو ایک جگہ جمع کیا گیا، خواتین اور بچوں کو غلام بنا کر سپاہیوں میں تقسیم کردیا گیا اور تمام مردوں کو ہلاک کردیا گیا۔ یہیں پر چنگیز خان نے موت کے گھاٹ اتارے گئے لوگوں کے سروں سے ہتیار تعمیر کروایا۔ بخارا شہر لوٹ مار کے بعد سارے کا سارا جلادیا گیا اور گرگانج شہر میں بھی قتل عام کا حکم دیا گیا۔ ایرانی تاریخ دان Juvayni لکھتے ہیں کہ چنگیز خان نے 5000 سپاہیوں کی ذمہ داری لگائی کہ ان میں سے ہر ایک گرگانج شہر کے دو درجن شہریوں کو قتل کرے اور یوں اس شہر میں 12 لاکھ سے زائد شہریوں کو قتل کیا گیا۔ اسے انسانی تاریخ کا بدترین قتل عام قرار دیا جاتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس