وہ وقت جب کمرہ عدالت میں خواتین کی فوج جنسی زیادتی کے مجرم پر حملہ آور ہو گئی اور۔۔۔

وہ وقت جب کمرہ عدالت میں خواتین کی فوج جنسی زیادتی کے مجرم پر حملہ آور ہو گئی ...
وہ وقت جب کمرہ عدالت میں خواتین کی فوج جنسی زیادتی کے مجرم پر حملہ آور ہو گئی اور۔۔۔

  

نئی دہلی (نیوز ڈیسک) کہتے ہیں کہ ظلم جب حد سے بڑھ جائے تو ناتواں مظلوم بھی کھڑے ہوجاتے ہیں اور جب مظلوم کھڑے ہوجائیں تو ان کا غضب بڑے بڑے ظالموں کو فنا کردیتا ہے۔ بھارتی شہر ناگپور کے ایک دیہات میں بھی بے بس دیہاتیوں پر ایک ایسا ظالم شخص عذاب بن کر مسلط ہوا کہ کسی گھر کی بیٹی اس کی دست درازی سے محفوظ نہ رہی مگر آخر کار لاچار مظلوموں نے اس کا وہ حشر کیا کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔ برطانوی اخبار ”گارڈین“ کی رپورٹر ریکھا پرساد لکھتی ہیں کہ کستریہ نامی قصبے میں ایک بدمعاش اکویادوو نے کسی خوفناک عفریت کی طرح دہشت پھیل رکھی تھی۔ اس کا گینگ روز کسی نہ کسی گھر پر ہلہ بولتا اور جوان لڑکیوں کو اٹھالے جاتا۔ یہ ظالم دس بارہ سال کی بچیوں کو بھی معاف نہ کرتے اور انہیں لے جاکر گینگ ریپ کا نشانہ بناتے۔ یہاں روز یہی ظلم ہوتا اور روز غریب لوگوں کی بہنوں بیٹیوں کی عصمت دری کرکے یہ غنڈے انہیں گاﺅں کے باہر چھوڑ جاتے۔ دلت رات کے دیہاتی مسلسل ظلم سہنے پر مجبور تھے کیونکہ پولیس کے پاس شکایت لے کر جاتے تو ان کا مذاق اڑایا جاتا بلکہ الٹا پولیس والے اکو کو خبر کردیتے کہ فلاں شکایت لے کر آیا تھا اور پھر اس پر تو گویا قیامت ٹوٹ پڑتی۔

یورپ کا وہ شہر جہاں خواتین کا داخلہ بند ہے،جاننے کیلئے کلک کریں

 مقامی پولیس کی مسلسل بے حسی سے تنگ آکر بالآخر یہ مظلوم ضلع کے ڈپٹی کمشنر کے پاس شکایت لے کر گئے جس پر پولیس نے اکو کو گرفتار کرلیا مگر یہ پہلی گرفتاری نہ تھی۔ وہ پہلے بھی درجنوں بار گرفتار ہوکر آزادہوچکا تھا کیونکہ مقامی پولیس تو گھر یا اس کے گینگ کا حصہ تھی۔ گاﺅں والوں کو معلوم تھا کہ اس بار بھی وہ تھانے جائے گا اور عدالت کے ایک دو چکر لگائے گا اور پھر ان پر مزید سخت مظالم کیلئے لوٹ آئے گا۔ مگر اس دفعہ گاﺅں کی خواتین نے کچھ اور ہی فیصلہ کرلیا تھا۔

اکو کو جب ناگپور کی کچہری میں لایا گیا تو وہ بالکل بے فکر تھا اور کچہری میں جمع ہونے والی گاﺅں کی خواتین پر جملے کس رہا تھا اور انہیں دھمکیاں دے رہا تھا۔ گاﺅں کی سینکڑوں خواتین اس کے ظلم کا نشانہ بن چکی تھیں اور ان میں سے تقریباً 200 اس وقت عدالت کے باہر جمع تھیں۔ جب اکو ان کے سامنے سے گزرا تو اس نے ایک نوجوان خاتون کو طوائف کہہ کر مخاطب کیا اور دھمکی دی کہ وہ واپس آکر اس کے ساتھ وہی سلوک دوبارہ کرے گا جو وہ پہلے کرچکا تھا۔ ستم رسیدہ خاتون خود پر قابو نہ رکھ سکی اور بدمعاش پر جھپٹ پڑی، اس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے باقی خواتین بھی اس پر حملہ آور ہوگئیں اور محض چند منٹ بعد ناگپور ڈسٹرکٹ کورٹ کے فرش پر اس درندے کی لاش پڑی تھی جو کسی خواتین اور بچیوں کی عزت سے کھیل رہا تھا اور جس کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہ تھا۔ مقامی میڈیا کے مطابق اکو کے جسم پر چاقو کے 70 سے زائد وار کئے گئے تھے اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا تھا۔ پولیس کے مطابق حملہ آور خواتین گھریلو استعمال کی چھریاں اور چاقو چھپا کر عدالت لائی تھیں اور انہیں سے اکو پر حملہ کیا گیا تھا۔

مظلوم خواتین نے تو اپنی عزتوں سے کھیلنے والے درندے کو کیفر کردار تک پہنچادیا مگر پولیس پھر بھی ظالم کے ساتھ کھڑی تھی جب پانچ خواتین کو قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تو سارے گاﺅں کی خواتین اکٹھی ہوکر تھانے پہنچ گئیں اور سب نے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے خود کو گرفتاری کیلئے پیش کردیا۔ متعدد خواتین گرفتار ہوئیں اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہی ہیں مگر ان کا کہنا ہے کہ وہ خوش ہیں کہ اب کوئی درندہ ان کی عزتوں کو پامال کرنے کیلئے ان کے گاﺅں کا رخ نہیں کرے گا۔

مزید : بین الاقوامی