حکومت اپنی آئینی ذمہ داری سے نہیں بھاگ سکتی ،لاہور ہائی کورٹ نے مفت تعلیم کیس میں متعلقہ افسروں کو طلب کرلیا

حکومت اپنی آئینی ذمہ داری سے نہیں بھاگ سکتی ،لاہور ہائی کورٹ نے مفت تعلیم کیس ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم فراہم کرنے کے لئے دائر دو برس پرانی درخواست پروفاقی اور صوبائی حکومت کی طرف سے جمع کرائے گئے جواب کو غیرتسلی بخش ٹھہراتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مفت تعلیم کی فراہمی سے متعلق عدالت میں اصل تصویر پیش نہیں کی جا رہی۔فنڈز کی کمی کا بہانہ بنا کر حکومت اپنی آئینی ذمہ داری سے نہیں بھاگ سکتی ،مسٹر جسٹس شجاعت علی خان نے فیروز شاہ گیلانی کی درخواست پر سماعت کی،د رخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگر نے موقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 25( اے )کے تحت 16سال تک کی عمر کے تمام بچوں کومفت تعلیمی کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے مگر حکومت اپنی آئینی ذمہ داری نہیں نبھا رہی جبکہ نجی تعلیمی اداروں نے بھی تعلیم کو کاروبار بنا دیا ہے جو آئین اور اسلامی اصولوں کے خلاف ہے ،حکومت کو مفت تعلیم کی فراہمی کا حکم دیا جائے.

نصیر آباد:چھتہر میں گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکراگئی،5 افراد جاں بحق ،متعدد زخمی

وفاقی حکومت کی طرف سے جواب داخل کراتے ہوئے کہا گیا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد تعلیم صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے ، پنجاب حکومت کی طرف سے جواب میں کہا گیا کہ صوبے میں تعلیم کی فراہمی کے متعدد منصوبوں پر کام کیا جارہا ہے تاہم حکومت کو اس وقت مالی مشکلات کا سامنا ہے جس کے باعث مفت تعلیم کی فراہمی پر من وعن عمل نہیں ہو سکتا ، عدالت نے وفاقی اور پنجاب حکومت کا جواب غیرتسلی بخش ٹھہراتے ہوئے قرا ر دیا کہ مفت تعلیم کی فراہمی سے متعلق عدالت میں اصل تصویر پیش نہیں کی جا رہی، فنڈز کی کمی کا بہانہ بنا کر حکومت اپنی آئینی ذمہ داری سے نہیں بھاگ سکتی، عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومت کے سینئر افسروں کو 16 فروری کے لئے پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے وضاحت طلب کی ہے کہ عدالت کو بتایا جائے کہ حکومت کو کس طرح فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔ 

مزید : لاہور

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...