لاہور ہائی کورٹ نے حقیقی بیٹوں کے قاتل باپ کی سزائے موت کنفرم کردی 

لاہور ہائی کورٹ نے حقیقی بیٹوں کے قاتل باپ کی سزائے موت کنفرم کردی 
لاہور ہائی کورٹ نے حقیقی بیٹوں کے قاتل باپ کی سزائے موت کنفرم کردی 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے دوسری شادی کے لئے دو حقیقی بیٹوں کو قتل کرنے والے شقی القلب باپ کی سزائے موت کی توثیق کرتے ہوئے اس سزا کے خلاف مجرم کی اپیل مسترد کردی ۔مسٹر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور مسٹر جسٹس سید شہباز علی رضوی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے مجرم احمد علی کی درخواست پر سماعت کی، اپیل کنندہ کے وکیل نے موقف اختیار کیاکہ ملکہ ہانس پولیس نے 2009میں دو بیٹوں فراز اور وقاص کے قتل کے جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا ہے جبکہ مجرم کے خلاف پولیس پاس کوئی ثبوت نہیں ، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے دونوں بیٹوں کے قتل کے الزا م میں حقائق کے منافی اسے دو بارسزائے موت کا حکم سنادیا ،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل مرزا عابد مجید نے موقف اختیار کیا کہ 13 نومبر 2009کو ملکہ ہانس پولیس نے 10 سالہ فراز اور 8 سالہ وقاص کے قتل کے جرم میںان کے باپ احمد علی کو گرفتار کیا تھا ۔متعلقہ ٹرائل کورٹ نے گواہوں اور ٹھوس شواہد کی روشنی میں مجرم کو سزائے موت کا حکم سنایا تھا.
انہوں عدالت کو آگاہ کیا کہ مجرم دوسری شادی کرنا چاہتا تھا جس پر اس کی پہلی بیوی اور ان بچوں کی ماں اسے چھوڑ کر چلی گئی جس کے بعد مجرم احمد علی نے دوسری شادی کرنے کے لئے اپنے دونوں سگے بیٹوں کو چھریوں کے وار کر کے قتل کردیا ،مجرم کی سزا کے خلاف اپیل خارج کی جائے، عدالت نے فریقین کے دلائل سننے اور ریکارڈ دیکھنے کے بعد ٹرائل کورٹ سے دو بار سزائے موت پانے والے مجرم احمد علی کی اپیل خارج کر تے ہوئے اسے ٹرائل کورٹ سے ملنے والی موت کی سزا کی توثیق کردی۔

مزید : لاہور