ہندوﺅں کا قانون وراثت لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج 

ہندوﺅں کا قانون وراثت لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج 
ہندوﺅں کا قانون وراثت لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج 

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی)پاکستان میں ہندوﺅں کا قانون وراثت لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ۔اس سلسلے میں سونیا تلریجہ نامی خاتون نے درخواست دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہندوﺅں کی وارثت سے متعلق پاکستان میں 1929کا قانون رائج ہے جو رسم و رواج کی بنیاد پر وضع کیا گیا تھا ۔اس قانون کے تحت ہندو مردوں کو وراثت کے سلسلے میں اپنی خواتین پر فوقیت حاصل ہے جو کہ دستور پاکستان کے منافی ہے ۔پاکستانی آئین کے تحت جنس کی بنیاد پر کسی سے امتیازی سلوک روانہیں رکھا جاسکتا ۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت میں بھی یہی قانون رائج تھا تاہم 1956میں اس میں ترمیم کرکے وراثت کے حوالے سے خواتین اور مردوں کا امتیاز ختم کردیا گیا ۔
بھارت میں ہندو خاندانوں کو بلا امتیاز جنس وراثت میں مساوی حقوق دیئے گئے ہیں ۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ہندوﺅں کی وراثت سے متعلق 1929کے قانون کی امتیازی شقوں کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کیا جائے ۔

مزید : لاہور