سعودی صحافی کا نئےسعودی فرماںروا کے بارے میں انتہائی دلچسپ انکشاف

سعودی صحافی کا نئےسعودی فرماںروا کے بارے میں انتہائی دلچسپ انکشاف

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کے نئے فرمانروا شاہ سلمان کے بارے میں اب تک آپ بہت کچھ جان چکے ہوں گے مگر شائد آپ کو یہ معلوم نہیں کہ کوئی جو بھی کر لے اور جتنی بھی کوشش کر لے ان کے مضبوط اعصاب اور ٹھنڈے دماغ پر اثرانداز نہیں ہو سکتا اور یہ بات مشہور ہے کہ جو انہیں مشتعل کر سکے وہ جو چاہے انعام حاصل کر لے۔ نیوز ویب سائٹ ”سعودی گزٹ“ کے مطابق شاہ سلمان کے دفتر میں طویل مدت تک کام کرنے والے شاعر اور صحافی الحمیدی بن حمد کہتے ہیں کہ ریاض شہر کی 50 سالہ گورنری کے دوران سعودی عرب کے طول و عرض سے لوگ اپنی شکایات اور مسائل لے کر شاہ سلمان کے پاس آتے۔

نئے سعودی فرمانرواکا تعلق، پانچ ہزار سالہ تاریخ میں پہلا واقعہ

ان کے محل میں صحافیوں، سرکاری افسران، تاجروں اور عام لوگوں کو آنے کی اجازت تھی اور خصوصاً پیر کے روز ہر طرح کے لوگ ان کے پاس آتے۔ یہ لوگ اپنی شکایات کے دوران اکثر جذباتی ہو جاتے اوربعض اوقات کچھ لوگ غیر مناسب طرز عمل بھی اختیار کرتے مگر شاہ سلمان کے ماتھے پر کبھی بل نہ آتا۔ وہ نہایت خندہ پیشانی سے شکایات سنتے اور فوری انصاف کیلئے حکم صادر کرتے۔ الحمیدی کہتے ہیں کہ جب ایک دن ایک سعودی شخص آداب کی سب حدیں پھلانگ گیا اور نہایت غیر مناسب انداز میں بات کی تو شاہ سلمان نے ناراضی کا اظہار کرنے کی بجائے اس کا ہاتھ پکڑا اور نہایت نرمی سے بولے ”براہم کرم تشریف رکھئے اور پرسکون ہو جائیے، آپ کے جو بھی حقوق ہیں آپ کو ملیں گے، میں باآسانی ناراض یا مشتعل نہیں ہوتا“۔ الحمیدی کہتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات کئی دفعہ پیش آئے اور یہی وجہ تھی کہ ریاض میں یہ بات مشہور ہو گئی تھی کہ اگر آپ شاہ سلمان کو مشتعل کر سکیں تو منہ مانگا انعام پائیں گے۔

مزید : بین الاقوامی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...