نصف صدی پرانے ریو نیو ریکارڈ کی درستگی،دیہی موضع جات آن لائن ،متعلقہ افسران تعریفی اسناد کے منتظر

نصف صدی پرانے ریو نیو ریکارڈ کی درستگی،دیہی موضع جات آن لائن ،متعلقہ افسران ...

  

لاہور(عامر بٹ سے)انتھک محنت،دن رات کی ڈیوٹیاں ،محکمہ ریونیو کے شعبہ محال ،بندوبست اور اشتمال میں تعینات سیکنڈ بیچ کے ریونیو سٹاف نے نصف صدی سے اغلاط سے بھرے ریونیو ریکارڈ کی درستگی کرتے ہوئے ہوئے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، تمام دیہی موضع جات آن لائن ،اربن کے تمام موضع جات کی جمعبندیاں اپ ڈیٹ،جبکہ اشتمال کے تمام موضع محال میں ضم کرتے ہوئے محکمہ ریونیو کی تاریخ اپنے نام کروالی،لینڈ ریکارڈ انفارمیشن سسٹم کو صاف شفاف ریکارڈ مہیا کرنے اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کے ویژن کو کامیاب کرنے والے افسران و ریونیو سٹاف تاحال تمام تر کریڈٹ کے باوجود تعریفی اسناد اور اعزازی میڈل سے محروم نظر آرہے ہیں۔روزنامہ پاکستان کی جانب سے کئے جانے والے سروے کے دوران معلوم ہوا کہ صوبے بھر میں ریونیو ریکارڈ میں پائی جانے والی سنگین غلطیوں کی درستگی اور متنازعہ ریکارڈ کی شفافیت کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر صوبے بھر کے ڈسٹرکٹ کلکٹر ز کو خصوصی ٹارگٹ سونپے گئے جن میں دیہی ایریا کے ڈسٹرکٹ سیٹلمنٹ آفیسرز اور شعبہ اشتمال کے کلکٹرز بھی شامل تھے تاہم صوبے بھر کے سب سے اہم اضلاع اور بگ سٹی کے انتظامی افسران اور ریونیو سٹاف نے جہاں اربن موضع جات میں50-50سالوں سے ریونیو ریکارڈ میں پائی جانے والی سنگین خامیاں متنازعہ پن،اور ٹمپرنگ کے ذریعے بوگس کھاتہ جات کے اندراجات کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک مختصر عرصے میں جمعبندیوں کا ریکارڈ صاف شفاف بنا کر اپ ڈیٹ کر دیا تو دوسری جانب شعبہ سیٹلمنٹ کے انتظامی افسران اور ریونیو سٹاف نے بھی مثل حقیت سے شروع کئے جانے والے ریکارڈ کی درستگی کے بعد تمام کے تمام موضع جات کو آن لائن کرتے ہوئے لینڈ ریکارڈ انفارمیشن سسٹم پراجیکٹ کو بھی زندہ کر دیا ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ نصف صدی سے بگڑے اور حصہ بہ حصہ ٹمپر کئے گئے ریکارڈ کی درستگی پنجاب حکومت کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکی تھی اس متنازعہ ریکارڈ کی وجہ سے سول کورٹ ،سیشن کورٹ ،ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں کیسز کی بڑی تعداد اور ضافے کے ساتھ زیر سماعت رہتی تھی جبکہ احتسابی اداروں میں بھی متنازعہ ریکارڈ کی وجہ سے خواری معمول تھی تاہم ضلع لاہور میں اربن ریکارڈ کی درستگی میں دن رات ایک کرنے والے انتظامی آفیسر ز میں عمارہ خان،نادرچٹھہ ،عرفان نواز میمن،کے نام جہاں سرفہرست ہیں وہاں اسسٹنٹ کمشنرز میں عاصم سلیم،علی شہزاد ؂ راؤ امتیاز ،راشد بھٹی ،آمنہ منیر،سائرہ عمرکے نام شامل ہیں ،جبکہ دن رات ایک کرتے ہوئے ڈبل ڈبل شفٹ پر کام کرنے والے ریونیو سٹاف میں اچھرہ کے اعجاز فتح گڑھ کے صابر ،نیاز بیگ کے رضوان بٹ ،چندرائے کے آصف ،ستوکتلہ کے قاسم شاہ،کھاڑک کے راشد بگا،سیجپال کے طاہر شاہ،چوہنگ خورد کیراں کے رضوان شاہ، تحصیلدار شیخ وسیم،ندیم بٹ،حسیب احمد،حافظ عمران،راشد بھنڈر،شبیر ڈوگر،رانا ندیم،غلام علی بھٹی،محمد انور ،علیم شاہ،سرور علوی،عرفان علی اور جہانزیب کے نام سرفہرست ہیں اس طرح شعبہ سیٹلمنٹ کے ڈسٹرکٹ سیٹلمنٹ آفسیر رانا خالد، سابق ای ایس او کینٹ راؤ ندیم ای ایس او سٹی چوہدری ممتاز سمیت تحصیلدار رانا سجاد،ذوالفقار ،ہنجراء،رانا مشتاق،مشتاق احمد ،قانونگو ،مشتاق ثاقی،اسماعیل شاہد،طارق بیگ،سرمد ناجی،رانا امجد،رکھ کھمبہ کے افتخار،اجودھیا پور کے قذافی شاہ دین کے نام شامل ہیں اس کے علاوہ بورڈ آف ریونیو کے شعبہ اشتمال کے ریکارڈ بھی اپ ڈیٹ کر تے ہوئے اور اسے محکمہ ریونیو میں ضم کرنے میں سابقہ کلکٹر اشتمال عثمان غنی ،سید نوید عالم ،متعلقہ ریونیو سٹاف قاسم شاہ ،رضوان بٹ،ذوالفقار علی،جمیل مغل ،عزیز میر سمیت دیگر سٹاف بھی شامل ہے ،قابل ذکر بات یہ ہے کہ ریکارڈدرستگی سے موضع جات کو درپیش 90فیصد مسائل کا بھی خاتمہ ہو چکا ہے ،جبکہ شعبہ سیٹلمنٹ کے 100فیصد موضع جات کو آن لائن کر دیاگیا ہے۔ دوسری جانب بورڈ آف ریونیو کے سینئر افسران نے بھی ضلع لاہور میں انتظامی افسران اور ریونیو سٹاف کے حوالے سے بہترین تیاری اور درستگی کا اعتراف کیا ہے اور ان انتظامی افسران کی کارکردگی کو بھی سراہا گیا ہے ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ پنجاب کا کہنا ہے کہ ضلع لاہور کی طرز پر ریکارڈ کی درستگی اور تیاری کے حوالے سے ہدایت کر دی گئی ہے اگر ضلع لاہور کے انتظامی افسران اور ریونیو سٹاف اتنے عرصہ میں سب سے مشکل ریکارڈ کی درستگی کر سکتے ہیں تو صوبائی اضلاع کے ڈسٹرکٹ کلکٹر ز بھی کریں گے کوتاہی برتنے والوں رپورٹس تیار کی جارہی ہیں اس حوالے سے لائحہ عمل بھی تیار کر لیا گیا ہے ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -