ذوالفقار علی بھٹو کو ایٹمی پروگرام اور اسلامی ممالک کی قیادت کرنے کی وجہ سے ہٹایا گیا

ذوالفقار علی بھٹو کو ایٹمی پروگرام اور اسلامی ممالک کی قیادت کرنے کی وجہ سے ...

  

لاہور (فلم رپورٹر)عالمی طاقتوں نے مسلمان ملکوں کو کبھی اکھٹا نہیں ہونے دیا اور یہ کھیل آج بھی جاری ہے۔ امریکہ کی خارجہ پالیسی کا اہم نکتہ یہ ہے کہ کوئی اسلامی ملک اس قدرمضبوط اور طاقتور نہ ہو سکے کہ امریکہ کیلئے چیلنج بن جائے۔بھٹو نے تاریخ میں پہلی مرتبہ اسلامی سربراہی کانفرنس امریکہ کی مخالفت کے باوجود لاہور میں منعقد کی جس میں 38 اسلامی ممالک کے سربراہوں نے شرکت کی اور شاہ فیصل نے بھٹو کو اسلا م کا بیٹا قرار دیا۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے سے سابق وزیر مملکت قیوم نظامی نے اپنی کتاب ’’جو دیکھا جو سنا‘‘ میں اہم انکشافات کئے ہیں۔ قیوم نظامی بھٹو کے ان قریبی ساتھیوں میں سے ہیں جن کو ناصرف قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں بلکہ کوڑے کھانے کے ساتھ ساتھ کئی سال تک جلا وطنی کی زندگی بھی گزارنا پڑی جب بھارت نے پہلا ایٹمی دھماکہ کیا تو ذوالفقار علی بھٹو نے مصمم ارادہ کیا کہ پاکستان کو بھی ایٹمی طاقت بناؤنگا اور اس مقصد کیلئے انھوں نے نیوکلیئر توانائی کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے سینکڑوں پاکستانی نوجوانوں کو بیرون ملک بھجوایا اور پھر ایٹمی پروگرام کی بنیاد ڈالی۔ بھٹو کی بہترین سٹریٹیجی کی وجہ سے ہی آج پاکستان کے پاس دنیا کا بہترین نیوکلئیر برین اور ٹیکنالوجی موجود ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو ایٹمی پروگرام اور اسلامی ممالک کی قیادت کرنے کی وجہ سے ہٹایا گیا ۔ ائیر مارشل ذوالفقار نے بھٹو سے پوچھا کہ ہم کس حد تک امریکہ کا دباؤ برداشت کر سکیں گے تو بھٹو نے جواب دیا کہ جب تک امریکہ پاکستان کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیک دیتا۔ بھٹو نے ایٹم بم کے متعلق اپنا تاریخی بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر ہندوستان نے ایٹم بم بنا لیا تو ہم گھاس کھا لیں گے لیکن ایٹم بم ضرور بنائینگے‘‘۔ بھٹو ایک قوم پرست لیڈر تھے اور پاکستان کو ورلڈ پاور بنانا انکا خواب تھا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -