کہاں ہے پیمرا اور کہاں ہے آئی ایس پی آر ڈائریکٹوریٹ؟

کہاں ہے پیمرا اور کہاں ہے آئی ایس پی آر ڈائریکٹوریٹ؟
 کہاں ہے پیمرا اور کہاں ہے آئی ایس پی آر ڈائریکٹوریٹ؟

  

کل (25جنوری 2016ء) کے ’’انٹرنیشنل نیویارک ٹائمز‘‘ کے ادارتی صفحات میں صفحہ نمبر9 پر ایک پاکستانی کالم نگار کا کالم بھی شاملِ اشاعت کیا گیا ہے۔ یہ صاحب کراچی میں رہتے ہیں۔ محمد حنیف نام ہے اور دو عدد انگریزی ناولوں کے مصنف بھی ہیں جن کے نام یہ ہیں:

(1)

A Case of Exploding Mangoes

(2)

Our Lady of Alice Bhatti

محمد حنیف ’’کراچوی‘‘ کے اس کالم کا عنوان ہے: ’’پاکستان کے نامطلوب شہدا‘‘ (Pakistan`s Needless Martyrs)۔۔۔

ویسے تو یہ سارا کالم ہی ہمہ صفت موصوف ہے لیکن اس کے بعض حصے ناقابلِ برداشت حد تک زہر آلود ہیں۔ چنانچہ سیاق و سباق کے سمجھنے کے لئے اس پورے کالم کا اردو ترجمہ ذیل میں درج کررہا ہوں تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ پاکستان کو غیرملکی دشمن لکھاریوں کی زیادہ ضرورت نہیں۔ ہمارے اپنے پاکستانی کالم نویس ہی اس کارِ خیر کے لئے کافی ہیں۔ کالم کا آغاز اس فقرے سے ہوتا ہے: ’’ہمارے عسکری مبصرین کا خیال ہے کہ بدھ وار کو چارسدہ کی باچاخان یونیورسٹی میں جن طالب علموں اور اساتذہ کا قتل عام ہوا ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت رہے ہیں‘‘۔

اس ’’بسم اللہ‘‘ کے بعد کالم نگار،یوں رقمطراز ہے:

’’اس سانحہ سے ایک ماہ پہلے پاکستان نے آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کی پہلی برسی منائی تھی ۔اس سانحے میں طالبان کے ہاتھوں 140 سے زیادہ افراد ذبح کر دیئے گئے تھے۔ ہم نے تب یہ بھی کہا تھا کہ ان میں سے زیادہ تر وہ طلبا شامل تھے، جن کی عمریں 13برس سے بھی کم ہیں۔ ہم نے یہ بھی کہا تھا کہ اس طرح کا سانحہ پہلے کبھی رونما نہیں ہوا ۔ (اس سانحے کے بعد)پارلیمنٹ نے فوج کو وہ تمام اختیارات (Powers) دے دیئے تھے جو اس نے مانگے تھے اور پاکستانیوں نے عہد کیا تھا کہ ہم اپنے بچوں کے قاتلوں کو جہنم رسید کرکے دم لیں گے‘‘۔

’’ہم نے سانحے کی پہلی برسی مرنے والوں کی یاد تازہ کرکے منائی اور مرنے والوں کے والدین کو یادگاری شیلڈیں بھی پیش کیں۔ ہم نے ان نو عمر نونہالوں کی تصاویر کے گرد شمعیں بھی روشن کیں اور ان کی گردنوں میں پھولوں کے ہار بھی ڈالے۔ ٹیلی ویژن چینلوں پر خبریں پڑھنے والوں نے APSکی وردی میں ملبوس ہو کر مرنے والوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ پاک فوج کے محکمہ ء تعلقاتِ عامہ نے ایک میوزک ویڈیو ریلیز کی جس میں طلباء کے ہاتھوں میں قومی پرچم پکڑے ہوئے تھے اور وہ ساتھ ساتھ مکّے بھی لہراتے جا رہے تھے۔نہ صرف یہ کہ گیت گانے والے ان طلباء نے طالبان کو شکست دینے کا عہد کیا بلکہ بطورِ انتقام دشمن کے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کا عزم بھی دہرایا ‘‘۔

یہ پس منظر تحریر کرنے کے بعد کالم نگار اپنے مطلوبہ اور مذموم مقصد کی طرف آتا ہے اور کہتا ہے: ’’تاہم پاک آرمی نے اس سوال کا کوئی جواب نہ دیا جو مرنے والے طلباء کے والدین ایک سال سے فوج سے پوچھ رہے تھے۔ سوال یہ تھا: اُن طلباء کی سلامتی کا ذمہ دار کون تھا جو ایک ایسے سکول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے جس کا سارا انتظام و انصرام پاک آرمی کے ہاتھوں میں تھا؟۔۔۔ اسی سوال کا جواب دینے ہی کے لئے تو آرمی نے یہ میوزک ویڈیو ریلیز کی تھی! فوج کی طرف سے اعلان کیا گیا تھا کہ اس سال دہشت گردی ختم ہو جائے گی۔ مزید بتایا گیا تھا کہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں بمباری کرکے تباہ کر دی گئی ہیں۔ دہشت گردوں کو تختہ ء دار پر کھینچا جا چکا ہے اور بچے کھچے دہشت گرد پھانسی پر لٹکائے جانے کا انتظار کررہے ہیں۔پھر چارسدہ یونیورسٹی پر حملے کے چند گھنٹوں کے بعد ہی آرمی کے ترجمان نے قوم کو بتایا کہ آپریشن ضرب عضب آخری مراحل میں ہے، دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اور نتائج ساری قوم دیکھ رہی ہے‘‘۔

’’بعض عسکری مبصرین جو دوزخ کی تاریکیوں میں بھی اجالے کی کرن دیکھنے کے عادی ہیں، دلیلیں دے رہے ہیں کہ یہ طالبان تعلیمی درسگاہوں کو اس لئے نشانہ بنا رہے ہیں کہ یہ ’’نرم اہداف‘‘ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طالبان کمزور ہو چکے ہیں اور اب وہ فوج کی چھاؤنیوں اور ہوائی اڈوں پر حملے کرنے کے قابل نہیں رہے۔یعنی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ذبح کروانے ہی میں عافیت محسوس کررہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ ہماری چھاؤنیاں اور ائرپورٹ تو محفوظ ہو گئے ہیں ناں‘‘!

اس سے اگلا پیراگراف پڑھئے اور حنیف کے ’’خبثِ باطن‘‘ کی داد دیجئے۔ لکھتا ہے:

’’ اظہار کا وہ پیرایہ جو ہم نے اس قتلِ عام کو بیان کرنے کے لئے اختیار کر رکھا ہے اس کا انداز تقریباتی بھی ہے اور تحسینی بھی! طالب علموں کو شہید کہہ کر پکارا جاتا ہے، ان کی ہمت و جرات کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے، ان کے والدین کی دلیری کی داد دی جاتی ہے اور ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ان طالب علموں نے ہمارے مستقبل کے لئے اپنی جان دے دی۔۔۔ لیکن کیا وہ خود ہمارا مستقبل نہیں تھے؟سر میں گولی کھانے کے لئے آخر کتنی جرات درکار ہوتی ہے؟ ان کے دلیر والدین کی دلیری اس کے علاوہ اور کیا ہے کہ وہ آہ و فغاں بلند کرتے ہیں اور محض سوال ہی پوچھتے ہیں؟ ہم یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں کہ یہ طلباء یونیورسٹی میں ریاضی اور کیمسٹری کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے گئے تھے، شہید ہونے کے لئے نہیں؟ کیمسٹری کے پروفیسر کو اپنے طالب علموں کی جان بچانے کے لئے اپنی جان کیوں دینا پڑی؟ یہ شہادت تو تھوپی گئی شہادت ہے۔ یہ کسی جرات اور دلیری کی علامت نہیں ہے۔ یہ اتھاہ لاچارگی اور انتہائے یاس کی نشانی ہے!‘‘

’’اور ہاں یہ پاکستان آرمی اپنی ناکامیوں کا جشن منانے میں تنہا نہیں۔ پاکستانی میڈیا اور ہمارے رائے ساز (Opinion Makers) بھی اس کے عین پیچھے پیچھے چل رہے ہیں۔ طالبان اگرچہ دہشت گردی کے ان سانحات کی ذمہ داری قبول کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں لیکن ہمارے یہ تبصرہ نگار اس ذمہ داری کو اپنے پرانے دشمنوں کے سر تھوپنے کے لئے ہمہ دم تیار رہتے ہیں۔۔۔ ہم کہتے ہیں کہ کسی غیر ملک میں بیٹھا کوئی تو ہو گا جو ان حملوں کی فنڈنگ کر رہا ہوگا ۔اور پھر ان کا اصرار ہوگا کہ انڈیا ان کے پیچھے ہے۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہی قاتل، ماضی قریب تک ہمارا سٹرٹیجک اثاثہ نہیں تھے؟ کیا انہوں نے وعدہ نہیں کر رکھا تھا کہ اگر انڈیا نے پاکستان پر کبھی حملہ کیا تو ہم پاک آرمی کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے؟ اگر آپریشن ضرب عضب میں ہزاروں مبینہ یا مشکوک دہشت گرد مارے جا چکے ہیں اور درجنوں کو پھانسی پر لٹکایا جا چکا ہے توکیا ان میں کوئی ایک بھی غیر ملکی تھا؟‘‘

’’لیکن ان حقائق کو جانتے بوجھتے ہوئے بھی پاکستان کے بہت سے با اثر صحافی یہی دلیل لا رہے ہیں کہ اوائل جنوری (2016ء) میں پٹھانکوٹ ایئربیس پر جو حملہ ہوا تھا، چار سدہ کا یہ حملہ اسی ادلے کا بدلہ ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ ہمارا دشمن اتنا ہی عیار اور سنگدل ہے کہ وہ اپنے ہی سولجرز کو ہلاک کرتا ہے او رپھر ہمارے بچوں کو قتل بھی کر دیتا ہے؟ کیا ہمیں یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ ہمارے پاس صرف ایک ہی آپشن باقی رہ گئی ہے کہ ہم بم پروڈیوس کرنے والی فیکٹری بنے رہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا ایک دشمن ضرور ہے جو عیار بھی ہے اور سنگدل بھی۔۔۔اور وہ ہے ہمارے اپنے ہی بھائی بند اور اپنے ہی ہم وطن۔بعضوں کے پاس خود کار ہتھیار ہیں اور بعضوں کے پاس خودکش جیکٹیں ہیں۔ کئی اور بھی ہیں جن کے ہاتھوں میں قلم ہے اور جو ٹیلی ویژن ٹاک شوز کرتے ہیں اور تاریخ کو ایک نئے انداز سے رقم کرتے رہتے ہیں۔‘‘

’’گزشتہ ہفتے پاکستان کے وزیر اعظم اور آرمی چیف دونوں ایک جہاز میں سرجوڑ کر بیٹھے دکھائے گئے تھے ۔وہ سعودی عرب اور ایران کی سمت محو پرواز تھے۔ مسلم دنیا کی واحد جوہری قوت ہونے کی حیثیت میں وہ دونوں اس خطے میں امن قائم کرنے کی امید میں نکلے تھے۔لیکن ان کے پیچھے ان کے اپنے ہی گھر میں ان کی یہ امیدیں دم توڑ رہی تھیں!‘‘

اور اب ملاحظہ کیجئے کالم کے آخر کے پیرا گراف میں کس ’’منزل مقصود‘‘ پر جا کر تان توڑی گئی ہے۔ لکھا ہے:

’’شائد وہ یہ کوشش کر رہے ہوں کہ جب بچے سکولوں اور یونیورسٹیوں میں جاتے ہیں تو وہ شہید ہونے نہیں جاتے۔ تاہم پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت یہ باور کرانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتی کہ پاکستان کے جوہری اثاثے محفوظ ہیں۔ کیا کبھی وہ دن بھی آئے گا کہ وہ یہ اعلان بھی کریں گے کہ ہمارے سکولوں کے بچے بھی ’’محفوظ ‘‘ ہو گئے ہیں۔‘‘

میں نے محمد حنیف کراچوی کا یہ سارا کالم ترجمہ کر کے قارئین کے سامنے رکھ دیا ہے ۔۔۔۔ذرا غور کیجئے کیا کالم نگار نے یہ کالم لکھ کر درج ذیل مقاصد کی تکمیل نہیں کی اور ان اہداف کی منظر کشی نہیں کی جن کے لئے ’’انٹرنیشنل نیو یارک ٹائمز‘‘ نے اس کالم نگار کو بھاری مشاہرے (ڈالروں میں) پر اپنے ادارتی صفحات کی تزئین و آرائش کے لئے ’’بھرتی‘‘ کر رکھا ہے:

-1 پاکستانی آرمی کی تضحیک و توہین۔

-2دہشت گردوں کو ہلہ شیری۔

-3انڈیا کو سچا اور پاکستان کو جھوٹا ثابت کرنے کی مہم۔

-4 پاکستان کے نو عمر اور معمر انگریزی خواں طبقے میں اپنی سیاسی اور عسکری قیادت کی رسوائی۔

-5انڈیا کے ساتھ دوستی اور وفاداری ۔ اوراسے (اور اس کی ’’را‘‘ وغیرہ) کو پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے کے الزام میں بریت کی کلین چٹ ۔

-6پاکستان کے جوہری اثاثوں کے ’’غیر محفوظ‘‘ ہونے کا تاثر ۔

قارئین گرامی! ویسے تو سارا مغربی میڈیا پاکستان کی عسکری قیادت اور اس کے سٹرٹیجک جوہری اثاثوں کے حصنِ حصیں میں نقب لگانے کی مذموم کوششیں کرتا رہتا ہے لیکن ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ کی اس سلسلے میں ایک پرانی تاریخ ہے ۔اس کا اسلام آباد میں مقیم بیورو چیف Declan walsh مئی 2013ء میں 24 گھنٹوں کے نوٹس پر پاکستان سے نکال دیا گیا تھا اور آج کل لندن میں بیٹھا وہی کام کر رہا ہے جس کی پاداش میں اس کو نکالا گیا تھا۔ لیکن یہ محمد حنیف ناول نگار جو حال ہی میں اس اخبار کا کالم نگار بنا دیا گیا ہے اس کو پاکستان سے کب نکالا جائے گا؟ اور کب تک ایسے قوم فروش اور وطن دشمنوں کو پاکستان کے خلاف بالواسطہ ہی سہی، زہر اگلنے کی کھلی چھٹی دی جائے گی ؟۔۔۔ یہ اخبار کب تک کراچی سے چھپتا رہے گا اور ’’ٹریبون‘ کا ضمیمہ بن کر سارے پاکستانی معاشرے کی تذلیل کرتا رہے گا۔۔۔۔کہاں ہے پیمرا اور کہاں ہے ہمارا آئی ایس پی آر ڈائریکٹوریٹ جو اس جیسے لکھاریوں کی ہرزہ سرائی کا نوٹس لے؟

مزید :

کالم -