گیس کہاں گئی؟

گیس کہاں گئی؟
 گیس کہاں گئی؟

  

پروفیسرنعیم اشرف کو ٹھٹھہ مخول کرنے کی عادت ہے آج صبح سٹاف روم میں جب چائے بنانے والے معاون نے بتایا کہ چائے نہیں ملے گی کیونکہ گیس نہیں آرہی تو وہ غصے میں آگئے۔کہنے لگے گھر میں بیوی کو بہانا مل گیاہے اور میاں تم یہ بہانا کر کے چائے نہیں دے رہے ہو،آخر کوئی متبادل انتظام کیوں نہیں کرتے۔پھر کہنے لگے اس حکومت نے تو بیویوں پر رعب ڈالنے کی سہولت بھی چھین لی ہے اب کھانا ٹھنڈا دینے یا دیر سے دینے پر کچھ بولو تو سیدھا جواب آتا ہے،پھر سلنڈر لے آئیں،ا س گیس پر تو ایسا ہی ملے گا۔سلنڈر پر خرچہ بھی بہت ہوتا ہے پھر اسے لانے لے جانے کا عذاب وغیرہ ہے،اس سے بہتر ہے بندہ ٹھنڈی روٹی اور ٹھنڈاسالن ہی کھالے۔ ابھی کل ہی میری ایک شاعرہ عنبرین مشتاق بھٹی سے بات ہو رہی تھی۔میں نے پوچھا سناؤ کوئی نئی غزل کہی،کہنے لگیں،آپ کو غزل کی پڑی ہے یہاں روٹی کا مسئلہ بنا ہوا ہے صبح بغیر ناشتے کے دفتر جاتی ہوں،شام کو واپس آتی ہوں سالن گرم کرنے کو گیس نہیں ہوتی۔ایل پی جی کے لئے لائٹس لگی ہیں،لکڑیاں جلانے کی پریکٹس نہیں ہے،ایسی خوار زندگی تو پہلے کبھی دیکھی تھی نہ سنی ،میں نے کہا پھر اسی پر کوئی نظم کہہ دو،فرمانے لگیں ہاں سوچ رہی ہوں ان حکمرانوں پر ایک ہجو لکھوں،جنہوں نے بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا،اب گیس بھی لے گئے ہیں۔

گیس کی عدم فراہمی اب شہر شہر،گاؤں گاؤں ،قریہ قریہ اور گھر گھر کا مسئلہ ہے،مجھے لاہور سے امجد اقبال بتا رہے تھے کہ سارا دن گیس جاتی ہے،اوررات کو آتی ہے۔میں نے کہا شکریہ ملتان میں میڑ اُلٹا چل رہا ہے،یہاں دن بھر گیس ملتی ہے اور رات کو غائب ہو جاتی ہے ۔اس لئے روٹی دال کا مسئلہ زیادہ سنگین صورت حال اختیار نہیں کرسکا۔سمجھ نہیں آرہی کہ اس برس گیس کہاں گئی ہے؟سی این جی اسٹیشن بھی بند ہیں اوربقول حکمرانوں کے فیکٹریوں کو بھی گیس فراہم نہیں کی جا رہی، پھر گیس ہے کہاں؟ عوام جب یہ سنتے ہیں کہ کراچی میں سی این جی اسٹیشن کھول دیئے گئے ہیں تو وہ کراچی کی طرف یوں دیکھتے ہیں جیسے وہ کوئی عجوبہ شیر ہو، آخر وہاں گاڑیوں میں پھونکنے کے لئے گیس کہاں سے آرہی ہے اور اگر اتنی ہی وافر گیس موجود ہے تو اسے پنجاب کو کیوں نہیں دیا جاتا، تاکہ لوگوں کے ٹھنڈے چولہے تو گرم ہو جائیں۔کچھ دور کی کوڑی لانے والے اسے ایک خاص منصوبہ کا حصہ قرار دے رہے ہیں گیس کو نایا ب کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس کی اہمیت کو عوام کی نظر میں مزید بڑھا دیا جائے۔ تھک ہار کر وہ ایل این جی مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہو جائیں اور اسی پر شکر ادا کریں کہ انہیں گیس تو ملنے لگی ہے۔ایل این جی یقیناًایل پی جی سے سستی پڑے گی البتہ سوئی گیس کے مقابلے میں کئی گنا مہنگی ہوگی اس کا وزن بھی عام گیس کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔اس کا اندازہ ان لوگوں کو ہے جو آج کل سی این جی بھرواتے ہیں۔

جو ٹینک 6کلو میں بھر جاتا تھا،اب 9کلو میں بھرتا ہے۔اسی لئے پنجاب میں تولوگ سی این جی بھروانا ہی چھوڑ گئے تھے اور گیس دستیاب ہونے کے باوجود سی این جی اسٹیشنوں کے باہر لمبی قطاریں نظر نہیں آتی تھیں۔جو سوال مجھ اور مجھ جیسے دوسرے عام پاکستانیوں کو تنگ کئے ہوئے ہے اس کا تعلق سوئی گیس کی نایابی سے زیادہ اس بات سے ہے کہ گیس نایاب کیسے ہو گئی؟یہی گیس گزشتہ سردیوں تک دو دن فیکٹریوں کو بھی سپلائی کی جاتی تھی اور سی این جی سیکٹرکو بھی۔گھریلو صارفین کو تو اس کے استعمال میں کبھی کمی کا سامنا کرنا ہی نہیں پڑا تھا۔آج صورت حال یہ ہے کہ سی این جی سیکٹر بھی بند ہے،فیکٹریاں بھی اس سے محروم ہیں،مگر اس کے باوجود عام صارفین کے لئے 16گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے،اگر گیس دی بھی جاتی ہے تو اس کا پریشر اس قدر کم ہوتا ہے کہ بمشکل ہلکی سی آنچ میں میسر آتی ہے۔اس صورت حال کو کیا کہا جائے،حکومت کی ناکامی،بد نظمی،نااہلی یا واقعی گیس کی کمیابی؟ مشکلات میں حکومتیں ہمیشہ تیز تر اور جرات مندانہ فیصلے کیا کرتی ہیں آخر کیا وجہ ہے کہ وزارت پٹرولیم وگیس نے عوام کے لئے متبادل انتظام نہیں کیا۔اگر گیس کم تھی تو ایل پی جی کا کوٹہ بڑھا کر یااس کی ایک خاص قیمت مقرر کر کے عوام کو سہولت دی جانی چاہیے تھی ،مگر اس کی بجائے انہیں ایل پی جی مافیا کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا۔جوایندھن کے اس بحران میں اربوں روپے کی لوٹ مار کر چکا ہے۔

ایل پی جی اگر سسٹم میں آگئی ہے،تو اس کی فراہمی کا آغاز کیوں نہیں کیا جا رہا۔کیوں اسے اتنا خفیہ رکھا ہوا ہے کہ جیسے باہر نکلی تو بھڑکتی تیلی سے آگ لگ جائے گی۔قطرسے معاہدے کی تفصیلات کو سامنے نہ لا کر اور یہ گیس کس بھاؤ لی گئی ہے اس کو خفیہ رازمیں رکھ کے حکومت نے اس منصوبہ کو حد درجہ متنازعہ بنا دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ایل این جی اس قدر مہنگی ہے کہ لوگ اسے خریدنے کی سکت ہی نہیں رکھتے، اس لئے اس کی ترسیل شروع نہیں ہوسکتی۔یہیں سے یہ شبہ ابھرتا ہے کہ سوئی گیس کو یکسر غائب کر کے ایل این جی منہ مانگے داموں بیچنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے،تاکہ گیس کی عدم فراہمی کے باعث عوام اسے غنیمت سمجھیں اور مہنگے نرخوں پر اعتراض نہ کریں۔حیرت تو اس بات پر بھی ہے کہ ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کیوں پس پشت ڈال گیا ہے۔حالانکہ اطلاعات کے مطابق ایران نے یہ پائپ لائن پاک ایران سرحد تک پہنچا دی ہے اور اب صرف پاکستانی علاقے میں پائپ لائن بچھانی ہے، کیا واقعی امریکہ اس منصوبہ کی راہ میں رکاوٹ ہے یا ایل این جی کے مقابلے میں اس منصوبے کے اندر حکمرانوں کے لئے کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہے۔جس طرح سی پیک کا منصوبہ ہماری حالت بدل سکتا ہے، اسی طرح ایرانی گیس کا منصوبہ ہماری انرجی کی تمام کمی کو دور کرسکتا ہے ۔

ایران سے ہمارے تعلقات اتنے برے تو نہیں کہ ہم اس منصوبے کو ترک کردیں،نہ ہی ہم اتنے مجبور ہیں کہ امریکہ یا کسی دوسرے ملک کے کہنے پر پاکستان کے لئے انتہائی اہم منصوبے پر عمل نہ کریں۔امریکہ خود ایران کے ساتھ تعلقات بحال کر رہا ہے اور اس کے منجمد اثاثے بھی ریلیز کررہا ہے لیکن ہمارے لئے اس کے ضابطے کچھ اور ہیں، ابھی آج ہی صدر اوباما کا یہ بیان چھپا ہے کہ پاکستان ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی کو روکے،حالانکہ پاکستان کے اندر افغانستان سے مداخلت ہو رہی ہے سانحہ چار سدہ کے شواہد بھی سامنے آچکے ہیں۔کیا ترقی معکوس ہے کہ ہم آگے قدم بڑھانے کی بجائے پیچھے کو جا رہے ہیں بجلی کے معاملے میں ہمارے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں،جتنا بھی پروپیگنڈہ کرلیں حقیقت یہ ہے کہ بجلی ہمارے ہاں نہیں ہے، اس کے لئے کوئی ٹھوس کام بھی نہیں ہوا،نندی پور بیٹھ گیا اورقائد اعظم سولر پارک منصوبہ ایک شعبدہ ثابت ہوا باقی ہم نے کیا ہی کچھ نہیں تو بجلی کی پیداوار کیسے بڑھ سکتی ہے،خود بجلی کے ترسیلی نظام کا یہ حال ہے کہ ایک ہفتے میں دو بار بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن ہو چکا ہے،آج پڑھی لکھی خواتین بھی یہ کہہ رہی ہیں کہ موجودہ حکومت نے انہیں دوبارہ پتھر کے زمانے میں پہنچا دیا ہے،جہاں لکڑیاں جلا کر دال روٹی کا بندوبست کیا جاتا تھا۔ہم بروقت،دو رس اورشفاف فیصلے آخر کیوں نہیں کرسکتے اور کیوں یہ فضا پیدا کرتے ہیں کہ عوام یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ جمہوریت نے انہیں دیا توکچھ نہیں البتہ لے سب کچھ لیا ہے،حتیٰ کہ و ہ گیس بھی جو لوگوں کو کم از کم روکھی سوکھی کھانے کے لئے روٹی پکانے کی سہولت تو فراہم کرتی تھی ۔

مزید :

کالم -