پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری

پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری
 پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری

  

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے ہر سال کی طرح اس بار بھی ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی جو سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں جنوری کے آخری ہفتہ میں ہوتا ہے۔ورلڈ اکنامک فورم سوئٹزر لینڈ میں واقع ادارہ ہے جو ڈیووس کے اپنے سالانہ اجلاس میں مختلف ملکوں کے سربراہانِ مملکت، دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کے سربراہان اور دوسری اہم شخصیات کو مدعو کرتا ہے جو دنیا کو درپیش مالیاتی مسائل اور سرمایہ کاری کے حوالہ سے نہ صرف اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہیں بلکہ آپس میں ملاقاتوں کے ذریعہ سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی تلاش کرتے ہیں۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف بھی ہر سال اس اجلاس میں اسی لئے شرکت کرتے ہیں تاکہ پاکستان کے لئے سرمایہ کاری کے زیادہ سے زیادہ اور نت نئے مواقع تلاش کئے جا سکیں، اس سال بھی انہوں نے اس موقع پراجلاس میں شریک مختلف سربراہانِ مملکت، عالمی مالیاتی اداروں اور دنیا کی بڑی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقات میں انہیں پاکستان میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کے لئے قائل کیا۔ دنیا کے ہر ملک کو زرمبادلہ کی سخت ضرورت رہتی ہے ، پاکستان بھی اپنے زرمبادلہ میں اضافہ کی کوشش کرتا رہتا ہے جس کے اہم ذرائع میں برآمدات اور تارکین وطن کی طرف سے بھیجے گئے زرمبادلہ کے علاوہ ایک اور سب سے بڑا ذریعہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی ہر سال ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں شریک ہوتے ہیں اور بھارت میں سرمایہ کاری کے لئے مستقل مزاجی سے کوشش کرتے رہتے ہیں۔ جب سے پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا حصہ بنا ہے، فرنٹ لائن پر ہونے کی وجہ سے یہاں امن و امان کی صورتِ حال انتہائی دگرگوں ہے، خاص طور دہشت گردی کے واقعات آئے دن کا معمول ہیں اور ہزاروں شہری اور فوجی ان میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اس غیر معمولی صورتِ حال کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ گذشتہ کئی سال سے غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستان کا رخ کرنا چھوڑ دیا تھا۔ دہشت گردی کے علاوہ انتہائی درجہ کی کرپشن، سرخ فیتہ اور حکومتی اداروں کی بری کارکردگی بھی بیرونی سرمایہ کاری میں بڑی مداخلت رہی ہیں۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں پے در پے آنے والی کئی حکومتیں سرمایہ کاری کے شعبہ میں اپنی سمت کا تعین کرنے میں ناکام رہیں، دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانوں میں کام کرنے ولے ٹریڈ مشنز کی کارکردگی بھی انتہائی مایوس کن رہی اور حکومتی سطح پر منصوبہ بندی کا فقدان رہا۔ ان وجوہات کی وجہ سے گذشتہ دس پندرہ سالوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری سکڑتے سکڑتے کم ترین سطح پر پہنچ گئی اور ایسے حالات ہوگئے کہ دنیا کے تجارتی نقشہ پر پاکستان کا نام دھندلاتا گیا۔ ماضی میں متحدہ عرب امارات بھی پاکستان میں ایک بڑا سرمایہ کار ملک تھا لیکن گذشتہ ایک ڈیڑھ سال سے اس نے پاکستان سے اپنا سرمایہ نکالنا شروع کردیا ہے کیونکہ مشرق وسطی میں جاری سیاسی بحران ، خاص طور پر یمن کی جنگ میں پاکستان نے غیر جانبدار رہنے کا جو فیصلہ کیا تھا، متحدہ عرب امارات اس سے خوش نہیں تھا بلکہ اس کے وزیرِ خارجہ نے پاکستان کو دھمکی بھی دے ڈالی تھی اور بعد میں عملی طور پر سرمایہ نکال کر اس نے اس پر عملدرآمد بھی کر دکھایا تھا۔

پاکستان کی 68 سالہ تاریخ میں اپنے پوٹینشل کے مطابق اقتصادی ترقی نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ مسلسل سیاسی خلفشار اور ملک میں بار بار مارشل لا کا انعقاد رہی ہے۔ اگر پاکستان میں جمہوریت کا تسلسل جاری رہتا تو ملک کے اندر اور علاقائی سطح پر انتشار اور جنگ کی کیفیت نہ پیدا ہوئی ہوتی۔ ان وجوہات کی بنا پر پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا رحجان ہمیشہ کمزور رہا جس کی وجہ سے ملک اقتصادی طور پر غیر ترقی یافتہ رہا اور عوام خوش حال نہیں ہو سکے۔ پاکستان کی کمزور معیشت کی وجہ سے پاکستانی روپے کی قدر بھی کئی عشروں سے بتدریج روبہ زوال رہی جس کا اثرِ معکوس لوگوں کی بد حالی، مہنگائی اور نئے پراجیکٹس نہ ہونے کی صورت میں نکلا اور بے روزگاری میں اضافہ ہوتا رہا۔پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے دور میں 2008ء میں عالمی مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا لیکن گورننس کی خراب صورتِ حال، بے انتہا کرپشن ، توانائی کے شدید بحران، تیل کی بہت زیادہ عالمی قیمتوں، معاشی اصلاحات میں ناکامی اور سب سے اہم یہ کہ عالمی کساد بازاری کی وجہ سے اپنی کمٹمنٹ پوری نہ کر پائی جس کی وجہ سے آئی ایم ایف نے اس کے ساتھ معاہدہ ختم کر دیا اور اس کے بعد پاکستانی معیشت شدید بحران کا شکار ہو گئی۔ موجودہ حکومت جب بر سر اقتدار آئی تو ستمبر 2013 میں اس نے آئی ایم ایف سے دوبارہ رجوع کیا اور اس سے توسیعی سرمایہ سہولت (Extended Fund Facility) کا معاہدہ کیا جس کے اچھے اثرات سامنے آنے شروع ہو گئے اور اب پاکستانی معیشت بہت حد تک دباؤ سے باہر نکل چکی ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے مقابلہ میں مسلم لیگ نواز کی حکومت نے بہتر گورننس کا مظاہرہ کیا اور نہ صرف کرپشن کو کنٹرول کیا بلکہ بہتر معاشی اور ٹیکس اصلاحات کا بھی نفاذ کیا۔

موجودہ حکومت کو اپنے اقدامات کے علاوہ عالمی صورتِ حال میں بہتری کا فائدہ ہوا کیونکہ تیل کی عالمی قیمتیں کم ہو چکی ہیں اور عالمی کساد بازاری بھی گذشتہ عشرہ کی نسبت اب کافی کم ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ اس حکومت نے توانائی کے بحران کے لئے بھی اقدامات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کی وجہ سے ملک کی اقتصادی صورتِ حال بہتر ہو رہی ہے اور گذشتہ حکومت کے برعکس موجودہ حکومت کے آئی ایم ایف سے تعلقات نہ صرف برقرار ہیں بلکہ اس میں مزید بہتری بھی آرہی ہے۔ یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ زر مبادلہ کے ذخائر ریکارڈ 20ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر چکے ہیں اور ان میں اضافہ کا رحجان بدستور برقرار ہے۔اس مثبت آؤٹ لک کی وجہ سے عالمی ریٹنگ ایجنسیاں بھی پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بتدریج اضافہ کر رہی ہیں اور اس بہتر ہوتی ہوئی ریٹنگ کی وجہ سے کئی سال کے بعد ایسی صورتِ حال پیدا ہوئی ہے کہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوتی جا رہی ہے اور ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری قریباً قریباً صفر ہو چکی تھی، موجودہ حکومت کی کوششوں سے عوامی جمہوریہ چین نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ شروع کیا جس میں 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ راہداری منصوبہ کی کامیابی نے دوسرے ممالک کو بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے راغب کیا ہے جس کی وجہ سے کئی یورپی ممالک سمیت بہت سے ملک پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے تیار ہو رہے ہیں۔

ورلڈ اکنامک فورم کا ماڈل پبلک پرائیویٹ تعاون ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے سالانہ اجلاس میں عالمی لیڈروں کے ساتھ ساتھ بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں اور عالمی مالیاتی اداروں کے سربراہان بھی شریک ہوتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی منفرد ماڈل ہے جس سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک بہت فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف ہر سال اس کے سالانہ اجلاس میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ اجلاس اس لحاظ سے بھی منفرد ہوتا ہے کہ اس میں روائتی کانفرنس اور تقاریر کی بجائے سربراہانِ مملکت نہ صرف براہ راست ایک دوسرے سے ملتے ہیں بلکہ عالمی مالیاتی اداروں اور بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں کرتے ہیں اور اپنے ملک کے لئے سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرتے ہیں۔ پاکستان کی نصف سے زیادہ آبادی 22 سال سے کم عمر ہے جس کی وجہ سے امید کی جا سکتی ہے کہ بہتر گورننس اور شفافیت سے اگر ملکی معیشت کو درست ٹریک پر ڈال دیاگیا تو ملک کا مستقبل بہت شاندار ہے۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کی ٹیم کی کارکردگی دیکھتے ہوئے امید کی جا سکتی ہے کہ ملکی معیشت کی بہتری کے امکانات انتہائی روشن ہیں۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور ان کی وزارتِ خزانہ کی ٹیم بھی جس طرح آئی ایم ایف اور دوسرے مالیاتی اداروں کو ہینڈل کر رہے ہیں وہ اس لئے قابلِ تحسین ہے کہ ملکی تاریخ میں زر مبادلہ کے سب سے بڑے ذخائر کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف نے بھی اپنی گذشتہ سال کی رپورٹ میں پاکستان کی اقتصادیات کو ’’ٹریک پر واپس‘‘ قرار دیا ہے۔ پاکستان کی جی ڈی پی پہلی دفعہ 900ارب ڈالر کی سطح سے بلند ہو چکی ہے اور اب پاکستان دنیا کی 27ویں سب سے بڑی معیشت بن گیا ہے۔ اسی طرح پاکستانیوں کی فی کس آمدنی جو چند سال پہلے بمشکل ایک ہزار ڈالر تھی اب پونے پانچ ہزار ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ ایک اور خوش آئند بات یہ ہے کہ مہنگائی کی شرح بھی پچھلے دو عشروں میں سب سے کم سطح پر ہے جبکہ نئے میگا پراجیکٹس کی وجہ سے بے روزگاری اور نئے انرجی پراجیکٹس کی وجہ سے توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملی ہے۔ گذشتہ برسوں کے مقابلہ میں وزیر اعظم میاں نواز شریف نے ان مثبت ہوتے ہوئے اعداد و شمار کے ساتھ ڈیووس میں اپنے مذاکرات کئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے بند دروازے اب کھلتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

مزید :

کالم -