نیشنل ایکشن پلان پر تیز تر عملدرآمد اور افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کا کردار

نیشنل ایکشن پلان پر تیز تر عملدرآمد اور افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کا ...

  

وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل تیز کرنے کی ضرورت ہے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے داخلی معاملات کو درست کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے کا منصوبہ بن رہا ہے۔ لندن میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بنیادی طور پر ہمارا افغانستان کے ساتھ یہ معاہدہ ہے کہ ہم اپنی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ دہشت گردوں کو یہ اجازت نہیں ہوگی کہ یہ ہماری دھرتی یا ہمارے علاقے کو استعمال کریں اور ہم میں سے ایک دوسرے ملک کے خلاف حملہ کریں تو اس کی پاکستان بہت سختی سے پابندی کر رہا ہے اور افغانستان کی طرف سے بھی اس کی خلاف ورزی حکومت نہیں کر رہی۔ کچھ عناصر ہیں جو افغانستان سے پاکستان پر اپنے طور پر حملے کرتے ہیں اب اس کی روک تھام ہونی چاہیے۔ ہم افغان معاملے کے افغان حل کے لئے کوشاں اور افغانستان میں استحکام کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج ، ادارے اور حکومت آپس میں بڑی قریبی مشاورت کرتے ہیں۔ فیصلے مشاورت سے ہوتے ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی مشورے کے ساتھ ہو رہی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان بھی مشاورت سے بنا۔

نیشنل ایکشن پلان، 16دسمبر 2014ء کو پشاور میں آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد بنا تھا اور اس سلسلے میں تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرکے بیس نکات طے کئے گئے تھے، جن پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت تھی لیکن بدقسمتی سے یہ سست رفتاری سے جاری رہا۔ ممکن ہے اس پر عملدرآمد کی راہ میں بعض مشکلات حائل ہوں اب اگر یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ اس کے بعض حصوں پر کماحقہ، عملدرآمد نہیں ہو سکا اور تیز تر عملدرآمد کی ضرورت ہے تو اس سلسلے میں عملی کام فوری طور پر شروع ہو جانا چاہیے۔ بعض اطلاعات کے مطابق جنوبی پنجاب میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام بھی نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہو گا۔ اس آپریشن میں ضرورت پڑنے پر پولیس کے ساتھ رینجرز کو طلب کیا جائے گا۔ آپریشن کے حوالے سے تیاریاں جاری ہیں اور آئندہ چند ہفتوں میں آپریشن شروع ہونے کا امکان ہے۔ آپریشن میں کالعدم تنظیموں کے ارکان کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ وزیراعظم نوازشریف نے لندن میں جو گفتگو کی ہے اس میں بھی انہوں نے کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ اس سلسلے میں خفیہ معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ان اضلاع کے داخلی اور خارجی راستوں پر چیکنگ سخت کر دی گئی ہے۔ آپریشن کے حوالے سے پولیس کو جدید اسلحہ اور دوسرا سازو سامان بھی دیا جائے گا۔

چند روز قبل چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی میں دہشت گردی کا جو واقعہ ہوا ہے اس کو افغانستان سے کنٹرول کیا جا رہا تھا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں دونوں کمانڈروں کے نام بھی بتائے ہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جن دہشت گردوں نے واردات کی ان کے ٹیلی فون پر افغانستان میں رابطے تھے اور وہ طورخم کے راستے سے پاکستان میں مردان پہنچے اور وہاں سے چارسدہ آئے، اس کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان میں مختلف عناصر پاکستان میں دہشت گردی کے منصوبے بناتے اور ان کو آپریٹ کرنے کے لئے تربیت یافتہ افراد پاکستان میں بھیجتے ہیں تو ان کے خلاف کون کارروائی کرے گا؟ یہ لوگ چونکہ افغان سرزمین پر بیٹھے ہیں اور وہیں منصوبہ سازی کرتے ہیں اس لئے کارروائی تو افغانستان کے سیکیورٹی اداروں کو کرنی چاہیے اس سلسلے میں پاکستان نے افغان انتظامیہ کو اطلاع بھی دے دی ہے اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے چارسدہ دہشت گردی کے بعد افغان صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور وہاں مقیم اتحادی افواج کے کمانڈر جنرل جان کیمبل سے اس معاملے پر ٹیلی فون پر بات چیت کی تھی۔ جو لوگ سامنے آ چکے ہیں عین ممکن ہے ان کے علاوہ بھی مزید عناصر اس معاملے میں ملوث ہوں اور انہوں نے افغانستان میں ایسے اڈے بھی بنا رکھے ہوں جن پر حملہ آسان نہ ہو۔ اس سلسلے میں اتحادی افواج کی فضائیہ کی مدد بھی حاصل کی جا سکتی ہے کیونکہ دشوار گزار علاقوں تک رسائی آسان نہیں ہوگی، وزیرستان میں بھی زمینی راستوں سے ناقابلِ رسائی علاقوں میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی بھی پاکستانی فضائیہ نے کی تھی۔ امریکی افواج بعض علاقوں میں ڈرون حملے بھی کرتی رہی ہیں۔ اگرچہ ان حملوں پر نکتہ چینی بھی ہوتی رہی اور اسے ملکی سالمیت کے خلاف بھی قرار دیا گیا تاہم ایک رائے یہ بھی سامنے آئی کہ مشکل پہاڑی علاقوں میں واقع اڈوں کے خلاف ڈرون کے سوا کوئی حملہ کارگر ثابت نہیں ہوتا، یہ سارا معاملہ اتحادی افواج کے ساتھ اٹھانے کی ضرورت ہے۔

امریکی صدر اوباما نے پاکستان سے شدت پسند گروہوں کے خاتمے کے لئے مزید موثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، اگرچہ انہوں نے ہر قسم کے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کو درست پالیسی قرار دیا ہے۔ تاہم ’’ڈومور‘‘کا مطالبہ اس لحاظ سے حیران کن بھی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے تو اپنی پوری فورس دہشت گردی کے خاتمے کے خلاف لگائی ہوئی ہے ،اس کے باوجود اگر افغانستان سے تربیت یافتہ لوگ آکر پاکستان میں حملے کریں تو اصولاً امریکی صدر کو ’’ڈومور‘‘کا حکم افغانستان میں مقیم اتحادی افواج کے کمانڈر کو دینا چاہیے۔دہشت گرد جس طرح کے جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں اور پوری طرح تربیت یافتہ ہیں، ان کے مقابلے میں افغان فورس کو شاید مطلوبہ کامیابی حاصل نہ ہو۔اس لئے اتحادی فورسز کو ہی یہ مشن سونپا جانا چاہیے۔ چند روز قبل امریکی صدر نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے سٹیٹ آف دی یونین خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان اور پاکستان اگلے کئی عشروں تک عدم استحکام کا شکار رہیں گے، افغانستان میں اس وقت جو عدم استحکام ہے، اس میں خاصا بڑا حصہ تو خود امریکی افواج کا ہے جو نیٹو ممالک کی عملی معاونت کے باوجود پندرہ سال میں بھی وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر سکی جن کا خواب افغانستان میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا گیا تھا، امریکی افواج اگر وہاں اپنے منصوبے کے مطابق کامیاب ہو جاتیں تو ملک کے اندر استحکام آ سکتا تھا، اب امریکہ کی رضامندی سے افغان طالبان کے ساتھ جو مذاکرات شروع کئے گئے ہیں وہ بھی افغانستان میں استحکام پیدا کرنے کی کوششوں کا ہی حصہ ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ امریکہ مان چکا ہے کہ فوج کی موجودگی اور فوجی اقدامات کے ذریعے وہاں استحکام نہیں لایا جا سکا، اب اگر ایک سپرپاور دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد (نیٹو) کے ساتھ مل کر بھی افغانستان میں استحکام نہیں لا سکی تو پاکستان سے کیا گلہ شکوہ؟ اور ’’ڈو مور‘‘ چہ معنی دارد؟۔۔۔پاکستان کی افواج نے تو ایک ڈیڑھ سال میں وہ کامیابیاں حاصل کر لی ہیں جو امریکہ افغانستان میں پندرہ سال میں بھی حاصل نہیں کر سکا، اس پر پاک افواج لائق تحسین ہیں، تاہم اگر پھر بھی دہشت گردی ہو رہی ہے تو یہ افغان حالات کا ہی نتیجہ ہے ۔امریکہ کو اس سلسلے میں اپنا کردار وسیع کرنا چاہیے اور افغان فورسز کے ساتھ مل کر وہاں مقیم دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا چاہیے ، اسی صورت میں دہشت گردی رک سکے گی اور جس عدم استحکام کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے وہ بھی درست ثابت نہیں ہوگا۔

مزید :

اداریہ -