امن کا بادبان اور گریبان

امن کا بادبان اور گریبان
 امن کا بادبان اور گریبان

  

دہشت گردی کے ٹمٹماتے دیئے میں بس اب اتنی ہی تابانی باقی ہے کہ بجھنے سے قبل ایک بار پھڑ پھڑائے ۔چراغ میں جب تیل تمام ہوتا ہے تو وہ بجھنے سے پہلے بھر پور بھڑ کا کئے کہ اس کی مصنوعی روشنی پر اصل کا گماں ہو ۔دمِ آخر بھڑکتے اور بجھتے چراغِ سحر کی خونچکاں داستاں افتاں و خیزاں اپنے انجام کو پہنچنے چلی ہے۔شورش و خروج تادیر باقی نہیں رہتی اور سفاکیت و بہیمیت کو کوئی سماج یا ریاست بھی برقرار نہیں رکھا کرتی ۔دہشت گردوں کی خونریز ناؤ کنارے آن لگی ہے ،ان کا بے گوروکفن جنازہ خورشید کے اُس پار اترا چاہتا ہے ۔کوئی دن جاتا ہے کہ لوگ ان کا تذکرہ کیا کریں گے کراہت اور اکتاہٹ کے ساتھ ۔

مسلح دہشت گردی کی لہلہاتی کھیتی کی دھرتی دیر سویر بنجر ہونے میں کوئی کلام نہیں رہا ،نظریاتی دہشت گردی کا البتہ استمرار ہنوز موجود ہے ۔سانحہ چار سدہ کے بعد بھارت کی اوٹ میں ۔۔۔نام لئے بغیر۔۔۔ دہشت گردوں کی خوش الحانی کے ساتھ نغمہ سرائی جاری ہے۔سازشوں کی آڑ میں ۔۔۔ خشوع و خضوع کے ساتھ پھر سے قصیدے کے مصفیٰ و مسجیٰ خطبے پڑھے جانے لگے ہیں۔دہشت گردوں کی بربریت اور وحشت پراسراریت کی نقاب ڈالنے والوں نے کابل اور دہلی کو نیزے کی انی پر رکھ لیا ہے ۔خطامعاف !ہندوستان کے آسمان اور افغانستان کی سر زمین نے ماضی میں بلا وجہ آگ نہیں اگلی کہ اس نے انگارے کھائے تھے ۔اس کا سنہری سہرا مرحوم حمید گل کے سر سجا ہے ۔وہ اپنے نامہ اعمال کے ساتھ خدا کے حضو ر چلے گئے اور ہم سب کو یہی زیبا کہ ان کے باب میں چپکے بیٹھے رہیں۔نہ ہوا پر کوئی ابنِ تیمیہؒ نہ ہوا کہ مامون بااللہ کے مرے پیچھے بھی مدت مدید بعد چیخ اٹھا تھا ۔’میں نہیں سمجھتا کہ خدائے تعالیٰ مامون سے غافل رہے گا ۔اس امت پر اس نے جو (الحادکی )مصیبت نازل کی ہے ،اس کا ضرور اس سے بدلہ لے گا‘۔

بلادِ ہند اور افغان میں دشمن عناصر سے کس کافر کو انکار ٹھہرا!وہاں بھی زیرزمین انتہا پسند انڈے اور بچے دیتے آئے ہیں اور ان کی حیاتی کی ڈوری کسی کی آخری ہچکی سے بندھی ہے ۔عرب ہو کہ عجم ،شرق ہو کہ غرب۔۔۔ جہاں بھی بلوں میں سانپ پلتے ہیں ،ا ن کے منہ میں اکسیر کے ذخیرے نہیں، زہر کے پیالے ہوتے ہیں اور وہ زبان بھی دو شاخہ ہی رکھتے ہیں۔ کون سا بچھو ہے جس کی دم میں ڈنگ نہ بھرا ہو ؟بھونکنے والے اور کاٹنے والے کتے اور پھاڑ کھا جانے والے درندے ۔۔۔ دنیا کے ہر جنگل میں ملا کئے ۔پانی تب نشیب میں اترتا اور مرتا ہے جب سرحد کے پار حملے پر چپ سادھ لی جائے اور سرحد کے اِدھر حملے پر ہیولے اور سائے کا تعاقب کیا جائے ۔پٹھان کوٹ میں انسانوں کا لہو بہے کہ چار سدہ میں طالب علم خون سے لالہ رنگ ہوں۔۔۔ دونوں سانحات پر صالح و سعید نفوس کی آنکھوں کا نمناک ہونا یقینی ہے ۔افغانستان میں امن کے بادبان بند کرنے والے ہوں کہ پاکستان میں امن کو گریبان سے کھینچنے والے ۔۔۔ کہنا اور ماننا چاہئے کہ دونوں اپنی سرشت و خصلت میں ایک ٹھہرے۔

پاکستان پر ہی کیا موقوف !ہندوستان اور افغانستان کی حکومتیں اور قیادتیں بھی دہشت گردی کے عفریت کو کچلنا چاہتی ہیں۔اس کی ہولناکی و سنگینی سے اقوام و ملل بھلا اب بے نیاز اور بے پروا کیسے رہ سکتی ہیں؟پاک و ہند کے فرمانرواؤں اور والیوں نے تو حقیقت کا اعتراف و ادراک کر لیا اور پٹھان کوٹ میں دہشت گردی کے بعد پختگی و بلوغت کا ثبوت ہی فراہم کیا۔دونوں جانب سے استقلال کے ساتھ امن کی ہی صدا سنائی پڑتی ہے ۔معمہ اور مخمصہ وہاں جنم لیتا ہے جہاں کچھ صناعی صحافی اور کچھ غالی صوفی اب بھی دہشت گردی کے تانے بانے دہشت گردوں کی بجائے انڈیا سے ملایا کئے ۔بعض کرشمہ سازدانشوروں، کاریگر تبصرہ نگاروں نے سازشی تھیوری کا پہاڑا را طوطے کی طرح رٹا ہوا ہے ۔ان کی تراشیدہ اور اسطوری تھیوریوں نے حقیقی دشمن کا چہرہ چھپا اور مصنوعی دشمن کو اپنے اصل سائز سے بڑا باور کرا رکھا ہے ۔بھائی طالبان نامی ایسی بلائے ناگہانی کے ہوتے ہوئے آپ کو کسی دشمن کی ضرورت کہاں؟انڈیا دودھ کا دھلا نہیں لیکن اس کی دشمنی کے پردے میں دہشت گردوں کے وجود کو جواز عطا نہیں کیا جا سکتا۔

سر تسلیم خم!ریاستیں اور حکومتیں،ہمسایہ ملک اور دشمن ممالک کو غیر مستحکم ،جنگ و جدل اور طوائف الملوکی ایسی صورتحال سے ازل سے دوچار کرتی آئی ہیں۔جب آگ اپنے ہی گھروں میں بھڑکنے لگے یا پانی سر سے اونچا ہونے لگے تو پھر بڑی بڑی سپر پاوروں کو بھی آنکھیں کھولنا پڑتی ہیں ۔دو عشرے قبل تو ایسی صورحال کا چل چلاؤ تھا ۔۔۔اب دہشت گردی کی مہیب و خوفناک صورت نے اقوام و ملل کی تقلیب ماہیت کر ڈالی ہے ۔دنیا بھر کی مملکتیں اور حکومتیں اب دہشت گردی کو قبول کرنے کے لئے تیار کہاں؟محاذ اور میدان میں تو دہشت گرد خزاں رسیدہ پتوں کی طرح جھڑ رہے ہیں ۔دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو جہاں سے نظریاتی توانائی ملتی ہے۔۔۔ یہ محاذ اور میدان البتہ سونے پڑے ہیں ۔دہشت گردوں کو کلماتی قوت فراہم کرنے والے راستوں کو مسدود کرنے کا وقت تو کب کا سر پر کھڑ ا ہے ۔صدہائے دریغ کہ اس ضمن میں ہماری قیادتوں کی جیب اور جھولی خالی ہے۔

مزید :

کالم -