ذہن سازی بذریعہ نصاب سازی

ذہن سازی بذریعہ نصاب سازی
ذہن سازی بذریعہ نصاب سازی

  

سفاک دہشت گردوں نے ایک بار پھر ہمارے علم و آگہی کے ایک مرکز، ہماری ایک یونیورسٹی کو اپنے ناپاک عزائم کا نشانے بنانے کی گھناؤنی کوشش کی ہے ۔درندہ صفت دہشت گردوں کا ہدف یہ تھا کہ وہ پورے ملک میں خوف و ہراس کی وہی فضا پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں جو 16دسمبر2014ء کو سانحہ پشاور کے بعد پیدا ہوئی تھی، ملک بھر کے تعلیمی ادارے کئی روز کے لئے بند کردیئے گئے تھے ،لیکن خدا کا شکر ہے کہ سانحہ باچا خان یونیورسٹی نے پوری قوم میں بالعموم اور طلباء برادری میں بالخصوص خوف وہراس پیدا کرنے کی بجائے دہشت گردی کے خلاف ایک نیا جذبہ پیدا کردیاہے۔ملک بھر کے طلباء اس طرح کے واقعات کو دہشت گردی کے خلاف جذبات میں شدت پیدا کرنے کے لئے ایک مہمیز تصور کر رہے ہیں۔ اس سانحہ نے پوری قوم کو ایک بار پھر متحدو یکجا کردیا ہے۔ باچا خان یونیورسٹی کے سانحہ کے بعد ایک بار پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا ہم ضربِ عضب کے حوالے سے مقرر کئے گئے اپنے اہداف کامیابی سے حاصل کررہے ہیں یا نہیں اور یہ کہ کیا طالبان ایک بار پھر متحد تو نہیں ہو رہے؟

راقم کا یہ خیال ہے کہ آپریشن ضربِ عضب کی ناقابل یقین کامیابیوں کے بعد دراصل ہمارے دشمن بھارت اور افغان حکومت میں شامل پاکستان مخالف عناصربوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں اور اسی بوکھلاہٹ کے عالم میں وہ پاکستان دشمن عناصر کی بڑھ چڑھ کر مدد کررہے ہیں۔ باچا خان یونیورسٹی حملے کے ماسٹر مائنڈ کو بھارتی قونصل خانے کی طرف سے جاری کردہ 30لاکھ روپے کی رقم کے ثبوت بھی ہمارے اداروں کو مل چکے ہیں ۔ملافضل اللہ کوحاصل افغان انٹیلی جنس ایجنسی کی بھرپور مدد سے بھی سبھی آگاہ ہیں،لیکن سوال یہ ہے کہ امریکہ جو بظاہر پوری دنیا میں دہشت گردی کے خلاف کوششوں کی حمایت کرتا ہے،ہماری بار بار درخواستوں کے باوجود مولوی فضل اللہ کو کیوں نشانہ نہیں بنا رہا ؟ یہ بات بعید از قیاس ہے کہ امریکہ اور افغان حکام پاکستان کو مطلوب سب سے بڑے دہشت گرد پر قابو پانے سے قاصر ہیں۔

سوال دراصل یہ ہے کہ ان حالات میں ہماری پالیسی کیا ہونی چاہیے ؟۔۔۔ ہمیں جس قسم کی جنگ کا سامنا ہے وہ ہمہ جہتی ہے اور ہمارے سامنے دشمن بھی کوئی ایک نہیں۔بلکہ ان کی کثیر تعداد ہے۔ بھارت،افغانستان ، امریکہ ، ایران ، روس، تحریک طالبان۔۔۔ ان میں سے کون ہے جو چاہتا ہے کہ پاکستان میں امن واپس آسکے۔ دوسری طرف ہماری اپنی صفوں میں بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو آج بھی دہشت گردوں کی مذمت کرتے ہوئے بے شمار اگر مگر استعمال کرتے ہیں ۔کون نہیں جانتا کہ اسلام آباد کے مرکزمیں لال مسجد پر قابض ایک شخص دہشت گردی کے ان واقعات کی مذمت کرنے سے کھلم کھلا انکار کر رہا ہے۔ ان صاحب کی سفاکیت کا اندازہ لگائیے کہ 140معصوم فرشتوں کی شہادت کے بعد جب دنیا کا ہر صاحبِ دل مغموم تھا تو یہ صاحب ہمیں یہ بھاشن دے رہے تھے کہ ٓاپریشن ضرب عضب کو فوری بند کردیا جائے اور اپنے بچوں کے ان قاتلوں کو گلے سے لگا کر ان کے فہم دین کو پوری قوم پر بزور طاقت مسلط کردیا جائے، لیکن افسوس کہ ریاست اور اس کے طاقتور ادارے اتنے بے بس ہیں کہ جس شخص کو سخت ترین سزا دی جانی چاہیے تھی وہ آج بھی اپنے کج فہم خیالات سے معصوم لوگوں کی ذہن سازی میں مصروف ہے۔اہلِ علم افراد کو آگے بڑھ کر پاک فوج اور اپنے دیگر خفیہ اداروں کی مدد سے ایسے عناصر کی بیخ کنی کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔اس ضمن میں ہماری یونیورسٹیاں یقیناًایک نہایت اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

مقامِ شکر ہے کہ گزشتہ دنوں پنجا ب ہائر ایجوکیشن کمیشن اور یونیورسٹی آف ایجوکیشن کے زیرِ اہتمام سانحہ باچا خان یونیورسٹی کے حوالے سے جو تعزیتی ریفرنس منعقد کیا گیا،اُس میں کئی سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں کے سربراہان نے شرکت کی اور اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ طلباء و طالبات اور اساتذہ کو دہشت گردی کے خلاف ہر اول دستے کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سرگرم چیئرمین ڈاکٹر نظام الدین اور ایجوکیشن یونیورسٹی کے صاحب بصیرت وائس چانسلر ڈاکٹر رؤف اعظم نے اس بنیادی نکتے پر زور دیا کہ ہمیں نصاب سازی کے ذریعے بھی دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ راقم اس بات سے سو فیصد متفق ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ اگر ہم دہشت گردی کے عفریت کو قابو کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے نوجوانوں کی ذہن سازی کے لئے نصاب سازی پر خصوصی توجہ دیناہوگی ،ہمیں اپنے نصاب میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو بطور ایک مضمون شامل کرنا ہو گا۔ اس سلسلے میں اگر ہم مایہ ناز سکالر جاوید احمد غامدی اور ان جیسے دوسرے اہلِ دانش کی مدد حاصل کرسکیں تو ہمارا یہ کام آسان ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر کے مفکرین اس بات پر متفق ہیں کہ تعلیم کے ذریعے کسی بھی فرد ، سماج اور قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تعلیم کی نوعیت کیا ہوگی ؟۔۔۔یقیناًہر سماج اپنے قومی مقاصد کو مدِنظر رکھ کر اپنے لوگوں کے لئے نصابِ تعلیم کا اہتمام کرتا ہے ، آج ہمارے سماج کا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ بن چکا ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں گزشتہ کئی عشروں سے پھیلے تعصب اور عدم رواداری کی لعنت کو کیسے ختم کر سکتے ہیں اورکیونکر ہم اپنے لوگوں کو اسلام کا وہ روشن چہرہ دکھا سکتے ہیں، جس کے مطابق ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔اس کے لئے ہمیں اپنے نصاب تعلیم میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ حکومت سے بھی یہ اپیل کرنا چاہتاہوں کہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے نصاب سازی کا جو حق صوبوں کو تفویض کردیا گیا ہے،وہ فوراً واپس لیا جائے تاکہ موجودہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم ایک متفقہ نصاب تیار کر سکیں جو ہمیں ایک روشن خیال قوم کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر سکے۔ حکومت سے التجا ہے کہ نصاب سازی کے حوالے سے ایک کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے،تاکہ نصاب کاباریک بینی سے جائزہ لے کر اسلامی تعلیمات کے حوالے سے پراگندہ خیالات کے حامل لوگوں کی ذہن سازی ممکن ہوسکے۔

مزید :

کالم -