چاول کی برآمد میں کمی

چاول کی برآمد میں کمی
 چاول کی برآمد میں کمی

  

پاکستان کی شہرہ آفاق برآمدی نقد آور جنس باسمتی چاول کی برآمد میں گزشتہ پانچ سال 2010-11ء سے 2014-15ء میں 40فیصد تک کمی (اوسط 8فیصدسالانہ) واقع ہوگئی ہے، سب سے زیادہ کمی 44فیصد 2012-13ء میں ہوئی۔پاکستان اپنے باسمتی چاول کی کل برآمدات کا 70فیصد جن 10سرفہرست ممالک کو برآمد کرتا ہے۔ ان میں ایران ،ترکی اور افغانستان کو کی جانے والی چاول کی برآمدات میں مجموعی طور پر 19فیصد کمی ہوئی ہے،جبکہ دیگر7ممالک متحدہ عرب امارات ،اومان،سعودی عرب ،یمن ،مسقط ،برطانیہ ،بلجیم کوکی جانے والی باسمتی چاول کی برآمدات میں بھی مجموعی طور پر40فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ دوسری طرف بھارت سے ایران ،افغانستان اور ترکی کو باسمتی چاول کی برآمد میں نصف عشرے کے دوران مجموری طور پر 109فیصد اضافہ ہوا ہے،جبکہ پاکستان کے 7اہم برآمدی ممالک کو بھارت کی جانب کی جانے والی برآمدات میں مجموعی طور پر 89فیصد اضافہ ہوا ہے ۔باسمتی برآمدات میں یہ مسلسل کمی واضح اشارہ ہے کہ پاکستانی چاول کی برآمدی مارکیٹ میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے اور یہ مارکیٹ بھارت کے قبضے میں جارہی ہے۔پاکستان رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مہیا کردہ اعدوشمار کے مطابق 2010-11ء کے دوران پاکستان نے 11لاکھ 38ہزار میٹرک ٹن باسمتی چاول برآمد کیا ،جبکہ 2014-15ء کے دوران ملکی برآمدات مجموعی طور 40فیصد کمی سے 6لاکھ 77ہزار میٹرک ٹن تک محدود ہوگئی ہیں۔

2010-11ء کے مقابلے میں باسمتی چاول کی برآمد میں بھی 40فیصد کمی ہوئی ،جبکہ بھارت کی جانب سے قطر کی برآمد میں 61فیصد سعودی عرب کی 39،یمن کی 36،اومان کی 26فیصد کی برآمدات میں 55فیصد اضافہ ہوا۔مجمو عی طور پر ان ممالک کو بھارتی چاول کی برآمدات 89فیصدبڑھ گئی ہے ،جس کا اندازہ ان اعداد و شمار سے ہوتا ہے کہ 2010-11کے دوران ان 6ممالک کو بھارت نے7لاکھ 94ہزار میٹرک ٹن چاول برآمد کیا جو 2014-15 ء میں بڑھ کر 14لاکھ 87ہزار میٹرک ٹن تک پہنچ گیا ۔افغانستان ،ایران اور ترکی کو کی جانے والی برآمدات بالترتیب 99فیصد 98فیصد اور 95فیصد کم ہوچکی ہیں۔ان کا حجم 2لاکھ 25ہزار میٹرک ٹن سے کم ہو کر صرف 4ہزار میٹرک ٹن رہ گیا ہے ،جبکہ بھارت کی ان ممالک کو چاول کی ایکسپورٹ 4لاکھ 60ہزار سے بڑھ کر 9لاکھ 60ہزار میٹرک ٹن تک پہنچ گئی ہے۔بھارت کی جانب سے ترکی کی برآمدات میں199،ایران کی 258،جبکہ افغانستان کی برآمدات میں 638فیصد اضافہ ہوا ہے۔پاکستان کے باسمتی چاول کے 10بڑے برآمدی ممالک میں صرف متحدہ عرب امارات واحد ملک ہے جس کو بھارتی برآمدت میں 56فیصد کمی ہوئی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق نصف عشر ے کے دوران متحدہ عرب امارات،افغانستان،ایران،ترکی،اومان ،یمن،سعودی عرب،قطر،برطانیہ،بلجیم کو پاکستانی باسمتی چاول کی برآمدات 3لاکھ 36ہزار میٹرک ٹن کم ہوئیں، جبکہ اس کی نسبت ان ممالک کو بھارت کے چاول کی ایکسپورٹ میں 11لاکھ 94ہزار میٹرک ٹن کا اضافہ ہوا۔محکمہ توسیع زراعت پنجاب کے ذرائع کے مطابق پاکستانی چاول کی بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت برآمدی مارکیٹ متاثر ہونے کی بڑی وجہ ہے۔پاکستان میں ایک طرف پانی اور بجلی کا بحران ہے ،جبکہ اس کے مقابلے میں بھارت کی طرف سے رعائتی نرخوں پر پانی اور بجلی کی فراہمی سے وہاں پیداواری لاگت کم ہوئی ہے ۔بھارت نے چند سالوں میں بہتر کوالٹی کے بیج بھی متعارف کروائے۔باسمتی چاول کے ریسرچ سنٹر کے ذمہ دار سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا 2011ء سے 2014ء کے دوران 3نئے بیج متعارف کروائے گئے ہیں۔چاول برآمد کرنے والے ایک معروف ادارے گارڈرائس کے ایکسپورٹ انچارج کے مطابق پاکستان میں متعارف کرائے گئے بیجوں کی پیدواری صلاحیت کاشت کاروں کے لئے باعث ترغیب نہیں ،جبکہ عالمی منڈی میں پاکستان کی نسبت بھارتی باسمتی کے نرخ میں کمی ہماری برآمدات میں کمی کی بڑی وجہ بنی ہے۔

دوسری طرف ہر سال سردیوں میں سوئی گیس کے گھریلو صارفین کو شدیدمشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جس تیزی کے ساتھ وقت گزرتا جا رہا ہے ؟اسی رفتار کے ساتھ صارفین گیس کے مصائب و الام میں بھی اضافہ ہور ہا ہے ۔کبھی ان کے لئے کئی کئی گھنٹوں کے لیے گیس دستیاب ہی نہیں ہوتی اور اگر اس کی سپلائی بحال کی جاتی ہے تو اس کا پریشر اتنا کم ہوتا ہے کہ اس پر کھانا پکانا تو درکنار، چائے تک تیار کرنا بھی ناممکن ہوجاتا ہے جس سے شہریوں کے روزمرہ معمولات درہم برہم اور زندگی اجیرن ہو کررہ گئی ہے۔اگر ارباب اختیار کو مجبوراً لوڈ شیڈنگ کرنا پڑرہی ہے تو کم از کم وقت کا تعین تو ضرور کردیا جانا چاہیے ۔پہلے گیس کی کمیابی صرف پنجاب اور خیبر پختونخوا کے لیے اذیت بنی ہوئی تھی ، اب یہ سلسلہ سندھ تک پھیل گیا ہے۔گو بعض نئی گیس فیلڈز دریافت کرنے کا اعلان ضرور کیا گیا ہے ،لیکن ان کو چالو کرنے کے لئے کتنے بھاری فنڈز اور کتنا عرصہ درکار ہوگا۔اس کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔بدین اور سندھ کے پہلے سے چالو کنوؤں سے گیس کی دستیابی بھی مسلسل کم ہورہی ہے ،جسے گیس کی بڑے پیمانے پر چوری اور با اثر شخصیات واداروں کی جانب سے کروڑوں نہیں اربوں روپے کے بلوں کی ادائیگی سنگین تر بنا رہی ہے ،ان حالات میں بڑے ناد ہندگان سے بلوں کی وصولی کو یقینی بنانا ضروری ہے ،جبکہ نئے کنکشن دینے سے بھی اجتناب کیا جائے ، لیکن افسوس گیس کی کم یابی ،بلکہ نایابی کے باوجود 3لاکھ نئے گیس کنکشن دیئے گئے ہیں، اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا او ر توانائی کی پیداوار میں اضافے کیساتھ ساتھ آبادی کے دھماکے کو روکنے کی منظم کوشش نہ کی گئی توپھر شہریوں کو بلا انقطاع گیس کی فراہمی کے سارے خواب خواب ہو کر رہ جائیں گے۔

مزید :

کالم -