شکریہ راحیل شریف

شکریہ راحیل شریف
 شکریہ راحیل شریف

  

پاک فوج کے ترجمان جنرل عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع بارے قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں، آرمی چیف نے کہا ہے،’’ پاکستان کی فوج ایک عظیم ادارہ ہے، میں توسیع پر یقین نہیں رکھتااور مقررہ تاریخ پر ریٹائر ہو جاؤں گا۔ دہشت گردی کی بیخ کنی کے لئے کوششیں پوری طاقت سے جاری رہیں گی۔ پاکستان کا قومی مفاد سب سے بالاتر ہے اور اس کی ہر قیمت پر حفاظت کی جائے گی‘‘ ۔ یہ پیغام واضح ہے اور مجھے آرمی چیف کا شکریہ اس لئے ادا کرنا ہے وہ اصول اورمیرٹ کی طرف بڑھتے پاکستان پر میرایقین بڑھا رہے ہیں۔ یہاں تو ایک کلرک ریٹائر ہونے پر تیار نہیں ہوتا اور وہ تو اس ملک میں آرمی چیف ہیں جہاں ماضی میں بار بار توسیع لینے کی روایات موجود ہیں۔ یہاں مجھے اپنی برادری پر یقین ہے کہ وہ پاکستان کے قومی مفاد کے سب سے بالاتر ہونے اور اس کی ہر قیمت پر حفاظت کی من مانی تشریح ضرور کرے گی ابھی بھی دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر توسیع کی پیش کش کوقبول کرنے کو ہی پاکستان کا سب سے بالاتر قومی مفاد کہا جائے گا۔

ہمارے ہاں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ہمیشہ سے ہی ایک ہاٹ ایشو رہا ہے۔ابھی کچھ ہی برس پرانی بات ہے جب جنرل اشفاق کیانی نے اپنی مدت ملازمت میں توسیع قبول کر لی تھی اور ان سے بھی پہلے ہماری فوج کے پانچ سربراہان معینہ اور مقررہ مدت سے زیادہ اپنے عہدے پر براجمان رہے ہیں۔ میرا گمان ہے کہ یہ تعداد زیادہ بھی ہوسکتی تھی کہ جنرل وحید کاکڑ کو اس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے یہ پیش کش کی تھی۔ اس بارے دو روایات موجود ہیں، ایک یہ کہ جنرل وحید کاکڑ نے خود ہی یہ پیش کش قبول کرنے سے انکا رکر دیا تھااور دوسرے یہ کہ معاملہ کچھ زیادہ ہی سیاسی ہو گیا تھا۔ مجھے وہ دن یاد ہے جب میں میاں نواز شریف کی ماڈل ٹاؤن میں رہائش گاہ پر کارکنوں سے خطاب کے بعد گنتی کے کچھ سینئر صحافیوں کے ساتھ ان کے رہائشی حصے کے ڈرائنگ روم میں موجود تھا۔ اس وقت الیکٹرانک میڈیا نہیں ہوتا تھا لہٰذا میڈیا ٹاک مچھلی منڈی نہیں ہوا کرتی تھی۔اپنے روئیوں میں بہت ہی خوبصورت صحافی پرویز بشیر نے سوال کیا تھا کہ حکومت جنرل وحید کاکڑ کو مدت ملازمت میں توسیع دینا چاہ رہی ہے تو میاں نواز شریف اپنے مخصوص انداز میں اس سوال کو ٹال گئے تھے، صاف ظاہر ہورہا تھا کہ وہ تبصرہ نہیں کرنا چاہ رہے۔ابھی چائے سرو ہو رہی تھی کہ میاں صاحب کے پولیٹیکل سیکرٹری کرنل ریٹائرڈ طاہر خیلی ایک بریف کیس لے کر اچانک ڈرائنگ روم میں وارد ہوئے تھے۔ انہوں نے میاں نواز شریف کے کان میں کچھ سرگوشیاں کی تھیں اور بریف کیس کے اندر سے ایک گلابی رنگ کا اردو میں ٹائپ کیا ہوا کاغذ نکال کر انہیں پڑھنے کے لئے دے دیا تھا۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد میاں نواز شریف نے پرویز بشیر کو مخاطب کیا اور کہا، ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ نے جو سوال کیا تھا اس کاجواب لکھ لیں۔ اس کے بعد انہوں نے اپنا بیان دینا شروع کر دیا۔ اس بیان میں جنرل وحید کاکڑ کی مدت ملازمت میں اضافے کی مخالفت کی گئی تھی جس کا اپنا پس منظر موجود تھاجسے مجید نظامی مرحوم بھی بیان کرچکے ہیں۔ مجھے یہ بات اتنی وضاحت سے یاد ہے کہ کاغذ سے پڑھتے ہوئے میاں نواز شریف ایک پیراگراف چھوڑ گئے تھے اور بعد میں انہوں نے کہا تھا کہ میری اس بات کو اس مقام پرلکھ لیں جو فلاں بات سے پہلے اور فلاں بات کے بعد بنتی ہے۔ یہ دن مجھے اس لئے بھی یاد ہے کہ اس روز میرے بہت ہی مہربان سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی کے گھر بیٹا پیدا ہوا تھا اور وہ وہاں موجود نہیں تھے۔ میرا خیال تھا کہ یہ بیان کہیں اور سے آیا ہے۔ بات کو محتاط کیا جائے تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس بیان کو مسلم لیگ نون کے سپیچ اور کاپی رائٹرز نے تیار کر کے بھیجا تھا۔

یہ ہماری تاریخ کا حصہ ہے کہ ہمارے پہلے مسلمان چیف آف آرمی سٹاف سولہ جنوری انیس سو اکاون کو چار سال کے لئے آرمی چیف بنائے گئے تھے اوراس کے بعد انہیں دو مرتبہ دو، دو برسوں کے لئے توسیع دی گئی اور انہوں نے دوسری مدت پوری ہونے سے پہلے ہی اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ بطور حکمران ایوب خان نے ستائیس جنوری انیس سو اٹھاون کو جنرل موسیٰ خان کو آرمی چیف مقرر کیا اور پھر چار سال کی توسیع دی، وہ 17جون1967 تک عہدے پر رہے حالانکہ موسیٰ خان کے عہدے کی معیاد1962میں ہی ختم ہو رہی تھی۔ جنرل موسیٰ کے بعد ہماری تاریخ کے بدنام ترین جرنیل یحییٰ خان کو نیا کمانڈر انچیف مقرر کیا گیا، ان کا دور 1970 میں ختم ہونا تھامگر انہوں نے اپنا عہدہ سقوط ڈھاکہ کے بعد چھوڑا۔ یہاں کچھ کہانی تبدیل ہوئی جب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے پہلے جنرل گل حسن کوقائم مقام اور پھر مستقل آرمی چیف مقرر کیا مگر پھر عہدے سے ہٹا دیا، انہوں نے جنرل ٹکا خان کو چار سال کی مدت کے لئے مارچ 1972میں آرمی چیف مقرر کیا اور وہ یکم مارچ 1976 کو ریٹائر ہو گئے۔ جب بھٹو مرحوم نے جنرل ضیاء الحق کو میرٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آرمی چیف مقرر کیا تو عہدے کا نام چیف آف آرمی سٹاف اور مدت تین سال کر دی تھی۔ جنرل ضیاء الحق نے ایک سال گزرنے پر ہی اقتدار پر قبضہ کر لیا اور پھربطور صدر مملکت اپنے آپ کو آرمی چیف کے عہدے پر مسلسل توسیع دیتے رہے۔ پھر طیارہ پھٹ گیا۔ غلام اسحاق خان صدر بنے تو انہوں نے پہلے جنرل جہانگیر کرامت کو چیف آف آرمی سٹاف مقرر کیا جو اپنی مدت پوری ہونے پر ریٹائر ہو گئے اورا س کے بعد جنرل آصف نواز کا چناؤ کیا گیا جو اپنی مدت پوری ہونے سے قبل انتقال کر گئے۔ غلام اسحاق خان نے تیسرا آرمی چیف جنرل عبدالوحیدکاکڑ کو مقرر کیا۔ان کے حوالے سے ایک چشم دید کہانی میں بیان کر چکا ہوں۔ جنرل جہانگیر کرامت جیسے پروفیشنل فوجی کو اپنی مدت پوری کرنے سے کچھ پہلے عہدہ چھوڑنا پڑا جب انہوں نے نیشنل سیکورٹی کونسل کی تجویز پیش کی اور میاں نواز شریف نے ایک طاقت ور وزیراعظم ہونے کے بھرم میں ان سے استعفیٰ لے لیا۔ نواز شریف نے بھی بھٹو مرحوم کی طرح سینئر جرنیلوں کو نظرانداز کرتے ہوئے پرویز مشرف کو آرمی چیف بنادیا۔ یہ تو ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے کہ جب انہوں نے نواز حکومت کا تختہ الٹا تھا ۔ وہ بھی اپنے آپ کو صدر بنانے کے بعد2007 تک بطور آرمی چیف توسیع دیتے رہے۔

بس ! ہماری تاریخ کچھ ایسی ہی رہی ہے۔ جنرل ریٹائرڈ اشفاق پرویز کیانی کو بھی اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے آصف علی زرداری کی ہدایت پر سوات ، مالاکنڈ اور وزیرستان میںآپریشن جاری ہونے کی بنیا د پر عہدے میں توسیع دی تھی اور اب تو اس سے کہیں زیادہ اہم اوربڑا آپریشن ، ضرب عضب جاری ہے۔ میں نے ابھی چند ہی روز قبل ایک اینکر کی یہ تحریر پڑھی ہے جس میں اس نے جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کو پاکستان کے مستقبل کے ساتھ جوڑ دیا۔ ویسے تو جنرل راحیل شریف آرمی چیف رہیں یا کوئی نیا آجائے، میری ذات کو اس سے کوئی نفع نقصان نہیں ہے مگر مجھے اتناضرورکہنا ہے کہ جنرل راحیل شریف نے جس فوج کو عظیم ادارہ کہا ہے ، یقینی طور پر اس میں ٹیلنٹڈ اور پروفیشنل جرنیلوں کی کمی نہیں ہوسکتی جو اسے آگے لے کرچل سکیں۔ یہ تو گمان ہی نہیں کیا جا سکتا کہ جنرل راحیل شریف کے بعد یہ فوج خالی ہوجائے گی۔ یہ عین ممکن ہے کہ میاں نواز شریف یا ان کے قریبی ساتھی خود کو جنرل راحیل شریف کے ساتھ زیادہ آرام دہ محسوس کریں اگر وہ اگلے عام انتخابات تک آرمی چیف رہیں۔جب کم زوراور کم فہم سیاسی قیادت کی طرف سے دہشت گردوں سے مذاکرات پر زور دیا جا رہا تھا ایسے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوٹوک فیصلے نے ہی نہیں،دھرنوں کے دوران غیر سیاسی اور پروفیشنل کردار نے یقینی طور پر ان کا قد بہت بڑا کر دیا ہے ورنہ کزنوں کی جوڑی نے مارشل لاء کے لئے راہ پوری طرح ہموار کر دی تھی۔

نوٹ: میں نے بہت سوچا کہ اس کالم کا عنوان شکریہ راحیل شریف کی بجائے کچھ اور رکھوں کہ اسی عنوان کے تحت چند روز قبل بھی ’شہریاراں‘ لکھا تھا ۔عنوان تو بہت سوجھے مگر اس سے بھلا کوئی پایا ہی نہیں، کوئی دوجا بھایا ہی نہیں۔

مزید :

کالم -