گیس کی لوڈشیڈنگ ،لکڑیوں ،کوئلوں اور ایل پی جی کے استعمال میں اضافہ

گیس کی لوڈشیڈنگ ،لکڑیوں ،کوئلوں اور ایل پی جی کے استعمال میں اضافہ

  

لاہور( اپنے نامہ نگار سے) گیس کی بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ کے باعث لکڑیوں ،کوئلوں اور ایل پی جی کے استعمال نے زور پکڑ لیا ہے۔ جبکہ بازاری کھانوں کا استعمال بڑھنے پر بچے اور بوڑھے افراد پیٹ کی بیماریوں سمیت آنتوں، نزلہ و زکام، بخار میں مبتلا ہونے لگے ہیں۔ صارفین جہاں کئی گنا زائد گیس کے بل ادا کر رہے ہیں وہاں مہنگے بازاری کھانے استعمال کرنے پر ڈاکٹروں کو علاج و معالجہ کے لئے خرچ کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ مہنگے داموں لکڑیاں ، کوئلہ اور ایل پی جی خریدنے پر غریب شہری چکرا کر رہ گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر میں گیس بحران میں سنگینی آنے پر گیس کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ گیا ہے ۔ لاہور میں 8 سے 10 گھنٹے گھروں کے چولہے ٹھنڈے رہنا معمول بن گیا ہے جبکہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی گیس کی لوڈشیڈنگ پر احتجاج نے زور پکڑ رکھا ہے۔ لاہور میں گیس کی بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ پر شہری بازاری کھانے استعمال کرنے لگے ہیں جس سے شہری پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہو کر رہ گئے ہیں اور اس کے ساتھ نزلہ و زکام اور بخار کی لپیٹ میں آنے لگے ہیں جس پر ڈاکٹروں کی چاندی ہو گئی ہے جبکہ گیس کی لوڈشیڈنگ کے باعث لکڑی،کوئلہ اور ایل پی جی کا استعمال بھی بڑھ گیا ہے جس کے باعث غریب اور مزدور طبقہ پس کر رہ گیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف گیس کے کئی گنا زائد بل ادا کر رہے ہیں تو دوسری طرف بازاری کھانے استعمال کرنے پر دوائیوں پر خرچ کر رہے ہیں اور اس میں بازار سے کھانے کو کچھ نہ ملے تو مجبوراً مہنگے داموں لکڑیاں، کوئلہ اور بورا کا استعمال کر رہے ہیں جس میں خواتین کاکہنا ہے کہ لکڑی ،کوئلہ اوربورا کے استعمال سے گھروں کے برتن کالے ہوگئے ہیں اور ایل پی جی کا استعمال مجبوراً کر رہے ہیں جس سے جانی و مالی حادثات کا خدثہ بڑھ کر رہ گیا ہے۔ گیس صارفین کا کہنا ہے کہ حکومت گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا سوچتی ہے لیکن گیس کی لوڈشیڈنگ کو دور کرنے کے لئے کبھی کسی قسم کے اقدامات نہیں کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ روز شہر کے اکثر علاقوں میں گیس کا پریشر ٹھیک رہا ہے اور شہری کھانے پکانے کے ساتھ ساتھ گیزر اور گیس ہیٹرز کا بھی استعمال کرتے رہے ہیں جبکہ شہر کی گنجان آبادیاں بالخصوص شمالی لاہور ک ے علاقوں میں گیس کا پریشر 8 سے 10 گھنٹے ڈاؤن رہا ہے۔ جس پر چونگی امر سدھو اور غازی روڈ اور والٹن روڈ کے ارد گرد کی آبادیوں میں بھی گیس کی لوڈشیڈنگ رہی ہے۔ جس پر غازی روڈ کی آبادی عوامی کالونی سمیت اردگرد کی آبادیوں کے درجنوں مکینوں نے گیس کی لوڈشیڈنگ کے خلاف غازی روڈ بلاک کرکے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر مظاہرین میں خواتین نے گھروں کے برتن اٹھا رکھے تھے اور خواتین کا کہنا تھا کہ سردی شروع ہوتے ہی گیس کی لوڈشیڈنگ شروع ہوگئی ہے تین سے چار گھنٹے بجلی چلی جاتی ہے جبکہ 10 سے 12 گھنٹے کے لئے گھروں میں گیس کا پریشر ڈاؤن رہتا ہے اور جب بچے بھوکے سو جاتے ہیں تو گیس کا پریشر بحال ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ساری رات کھانے تیار کرنے میں گزر جاتی ہے اور دن بھر گھروں کے چولہے ٹھنڈے رہتے ہیں۔ اس میں بڑی مشکل سے چاہے کا کپ تیار کیا جا سکتا ہے ۔مظاہرہ میں شامل افراد کا کہنا تھا کہ ارد گرد علاقوں میں ایم پی اے اور ایم این اے حضرات نے سپلائی لائنوں کو اوپر کروایا ہے اور سپلائی لائنوں کے ساتھ ان کے کنکشن کروائے ہیں جس سے ان علاقوں میں گیس کا پریشر بحال ہے۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ ان کے علاقے میں گیس کی صورتحال کو ٹھیک کریں۔ دوسری جانب گیس کی ڈیمانڈ تین گنا سے بھی بڑھ گئی ہے اور گیس کا شارٹ فال 1800 ملین کیوبک فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس میں گیس حکام کا کہنا ہے کہ صبح اور شام کے اوقات میں تین تین گھنٹے گیس کا پریشر بحال کرنے کی مکمل کوشش کی جا رہی ہے۔ ایم ڈی سوئی گیس کمپنی عامر طفیل کا کہنا ہے کہ حالیہ سردیوں میں گزشتہ سال کے موسم سرما کی نسبت صورتحال بہتر ہے تاہم کمپریشر کی شکایت اگلے ڈیڑھ ماہ رہے گی۔

مزید :

صفحہ اول -