سالانہ بنیادوں پر نئے گھریلو کنکشن بھی گیس لو ڈ شیڈ نگ کی بڑ ی وجہ ہے

سالانہ بنیادوں پر نئے گھریلو کنکشن بھی گیس لو ڈ شیڈ نگ کی بڑ ی وجہ ہے

  

لاہور( اپنے نامہ نگار سے ) چند سالوں سے قدرتی گیس کی طلب کی صورتحال بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر خراب ہو رہی ہے اس کی بنیادی وجہ سالانہ بنیادوں پر نئے گھریلو صارفین کے کنکشن کا نیٹ ورک میں شامل ہونا ہے۔ جس کی بدولت سردیوں کے مہینوں میں سسٹم میں 80سے100 ایم۔ایم۔سی۔ ایف۔ڈی (ملین کیوبک فیٹ روزانہ ) طلب کا اضافہ ہوتا ہے جبکہ گیس کی رسد میں ہر سال اوسطاََ 160ایم۔ایم۔سی۔ایف۔ڈی کی کمی واقع ہوتی ہے۔ چنانچہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کو ہر سال اوسطاََ اضافی 250ایم۔ایم۔سی۔ایف۔ڈی کا شارٹ فال درپیش ہوتا ہے۔ اس شارٹ فال کو پنجاب میں توانائی ، سیمنٹ، سی۔این۔جی، صنعت اور فرٹیلائزر کے شعبہ جات میں’’نیچرل گیس ایلوکیشن اینڈ مینجمنٹ پالیسی2005‘‘ اور اس میں آنے والی ترامیم کے مطابق لوڈ مینجمنٹ (گیس تخفیف) کے ذریعے قابو پانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ گھریلو اور کمرشل صارفین کو حتی المکان گیس کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ یہاں یہ بات بھی ملحوظِ خاطر رہے کہ آئین کی دفعہ 158کی روشنی میں پشاور ہائیکورٹ کے دئیے گئے فیصلے کے مطابق خیبر پختونخوامیں گیس کی سپلائی میں کوئی تخفیف (لوڈ مینجمنٹ) نہیں کی جا رہی ہے۔موسم سرما میں سوئی ناردرن کے پاس گھریلو اور کمرشل صارفین کے سوا تمام شعبہ جات کے لئے گیس کی تخفیف کے سوا کوئی راستہ نہیں رہ جاتا۔ تاہم ان تمام شعبہ جات کو گیس کی معطلی کے باوجود پنجاب کے گھریلو اور کمرشل صارفین کی کل طلب تقریباََ 1000ایم۔ایم۔سی۔ایف۔ڈی ہے جبکہ پنجاب کے لئے موجودہ رسد 600ایم۔ایم۔سی۔ایف۔ڈی ہے۔ چنانچہ وہ صارفین جو گیس کی مین لائن سے دور واقع ہیں ان کو گیس کے کم پریشر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان تکنیکی رکاوٹوں سے نمٹنے کے لئے کمپنی نے سسٹم میں بہتری کے لئے مختلف اقدامات کئے ہیں جن میں لائن لوپنگ (دباو کم کرنے کے لئے اضافی لائن ڈالنا) ، سروس لائن کا کنکشن بہتر بنانا اور کم پریشر کی شکایات کے سدباب کے لئے اسپیشل ٹیموں کا قیام شامل ہیں۔ محکمہ کی تکنیکی ٹیمیں اس مخصوس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے دن رات کام کر رہی ہیں۔ تاہم، صارفین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اضافی گیس درکار ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ سردیوں کے موسم میں کچھ شعبوں/ صارفین کو گیس کی فراہمی مہیا رکھی جاتی ہے۔ ان میں توانائی اور فرٹیلائزر سیکٹر کے صارفین شامل ہیں جن کو خام یا کم بی۔ٹی۔یو (BTU) یا کم حرارات والی گیس فراہم کی جاتی ہے جو سوئی ناردرن کے نیٹ ورک پر موجود دوسرے شعبوں کو فراہم نہیں کی جا سکتی۔ یہ مختص شدہ پائپ لائن 180سے 240ایم۔ایم۔سی۔ایف۔ڈی گیس فراہم کر رہی ہے۔ علاوہ ازیں، سوئی ناردرن ایک معاہدے کے تحت اینگرو فرٹیلائزر کو 15ایم۔ ایم۔سی۔ایف۔ڈی گیس فراہم کرنے کی پابند ہے۔ اس کے علاوہ سیمنٹ سیکٹر کو بھی قریب 12ایم۔ایم۔سی۔ایف۔ڈی گیس فراہم کی جاتی ہے جس میں7 تا 8 ا یم۔ایم۔سی۔ایف۔ڈی صوبہ خیبرپختونخواہ میں واقع تنصیبات کو فراہم کی جاتی ہے جبکہ بقایا 4تا 5 ایم۔ایم۔سی۔ایف۔ڈی پنجاب میں واقع سیمنٹ تنصیبات کی رہائشی کالونیوں کو گھریلو صارفین کی مد میں مہیا کی جاتی ہے۔کچھ شعبہ جات اور صارفین نے ری۔گیسیفائڈ ایل۔این ۔جی(RLNG) کی سپلائی کا انتخاب کیا ہے ان میں توانائی کے شعبہ میں میسرز راوش (M/S Rousch)، فوجی کبیروالہ، کوٹ ادو، سیف، سفائر (Sapphire) ، اورینٹ اور ہال مور ، فرٹیلائزر کے شعبہ میں میسرز پاک عرب (M/S Pak Arab) اس کے علاوہ صنعتی اور سی۔این۔جی کے شعبہ سے صارفین کی کثیر تعداد نے RLNGسپلائی کا انتخاب کیا ہے اور ان کو RLNG کی سپلائی دستیاب شدہ بنیادوں پر مہیا کی جا رہی ہے۔ اس تبدیلی نے قدرتی گیس کی مجموعی طلب میں کمی واقع کی ہے تاہم گھریلو صارفین کو یہ سہولت مہنگی ہونے کے باعث فراہم نہیں کی جا رہی ہے۔ سوئی ناردرن یہ بتانا مناسب سمجھتی ہے کہ حالیہ دنوں میں ہم سردی کی شدید لہر سے گزر رہے ہیں جس نے گیس کی طلب میں اضافہ کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ اس مد میں سوئی ناردرن اپنے تمام گھریلو صارفین سے اپیل کرتی ہے کہ وہ گیس کے آلات کا کم سے کم استعمال کریں تاکہ دوسرے گھریلوصارفین کو کھانا پکانے کے لئے گیس کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ اس کے علاوہ گھریلو صارفین سے یہ بھی اپیل کی جاتی ہے کہ وہ گیس کمپریسر اور ہیٹر کا استعمال ہرگز نہ کریں کیونکہ یہ جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔

نئے گھریلو کنکشن

مزید :

علاقائی -