کیا جنرل راحیل شریف کے اعلان سے قیاز آرائیوں کا سلسلہ رک جائیگا؟

کیا جنرل راحیل شریف کے اعلان سے قیاز آرائیوں کا سلسلہ رک جائیگا؟

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

اس چند سطری اعلان کے بعد کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف اپنی مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے اور انہیں توسیع میں کوئی دلچسپی نہیں، اُن ’’شیخوں‘‘ کی امیدوں پر گھڑوں پانی پڑگیا ہے جنہوں نے نہ جانے کیا کیا ارمان پال رکھے تھے۔ پاکستان کے پہلے سپہ سالار جنرل ایوب خان کے عہدے کی مدت میں توسیع کی ایسی روایت پڑی کہ بعد کے برسوں میں بھی اس پر عمل ہوتا رہا۔ انہیں اس وقت کے وزیراعظم ملک فیروز خان نون نے توسیع دی تھی۔ جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف نے تو اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا اس لیے وہ صدر کے حکم سے آرمی چیف کی مدت میں خود ہی توسیع کرتے رہے، بلکہ مؤخر الذکر تو متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے ساتھ معاہدہ کرکے بھی مکر گئے تھے اور ان کا کہنا تھا چونکہ متحدہ مجلس عمل نے اپنے عہد کی پاسداری نہیں کی، اس لیے وہ بھی اس عہد کے پابند نہیں رہے۔ ممتاز قانون دان ایس ایم ظفر نے بطور سینیٹر اپنے ماہ و سال کی جو داستان لکھی ہے اس میں انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ انہوں نے جنرل پرویز مشرف کو بار بار مشورہ دیا تھا کہ انہوں نے وردی اتارنے کا جو وعدہ ایم ایم اے کے ساتھ کیا ہے انہیں وہ وفا کرنا چاہئے‘ لیکن جنرل کے پاس اپنے دلائل تھے، وہ وعدہ پورا نہ کرنے کے حق میں ہوگئے تھے اور اس کا ذمہ دار ایم ایم اے کو قرار دیتے تھے، یہ داستان دلپذیر جس کسی نے تفصیل سے پڑھنی ہو وہ جناب ایس ایم ظفر کی ضخیم کتاب کا مطالعہ کرسکتے ہیں، ہم تو یہ گزارش کر رہے تھے کہ ہمارے جن سپہ سالاروں ے خود کو صدارتی منصب پر بھی فائز کرلیا، انہوں نے چیف آف آرمی کا منصب بھی سنبھالے رکھا۔ جنرل ضیاء الحق نے تو تادم آخر یہ عہدہ اپنے پاس رکھا جبکہ جنرل پرویز مشرف نے ایک مرحلے پر وردی اتارنے کا فیصلہ کرکے جنرل اشفاق پرویز کیانی کو اپنا جانشین بنادیا تھا، جنہیں چیف آف آرمی سٹاف کی کمان کی علامت ’’کین‘‘ سپرد کرتے ہوئے اُن کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے، اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ وہ وردی کو اپنی کھال قرار دیا کرتے تھے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو تین سال کی توسیع وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے دی اور یوں وہ چھ سال تک اس عہدۂ جلیلہ پر فائز رہے۔ جنرل کیانی کے بعد جنرل راحیل شریف نے فوج کی کمان سنبھالی اور اپنے اس منصب پر فخر کا اظہار کیا کہ وہ دنیا کی بہترین فوج کے کمانڈر ہیں۔

جنرل راحیل شریف نے سال رواں میں، نومبر کے مہینے میں ریٹائر ہونا ہے، لیکن بہت عرصہ پہلے سے یہ بحث چل رہی ہے کہ انہیں ان کے عہدے میں توسیع ملنی چاہئے۔ جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ برس ستمبر میں اپنے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا تھا کہ جنرل راحیل شریف کو ان کے عہدے میں توسیع ملنی چاہئے ورنہ سب کچھ رائیگاں چلا جائے گا۔ باریک بینی سے دیکھا جائے تو آرمی چیف کو جب عہدے میں توسیع ملتی ہے تو فوج میں اعلیٰ رینکس کی ترقیوں کا سارا عمل رک جاتا ہے، اس لحاظ سے فوج میں ترقی کے منتظر سینئر افسروں کی خواہش تو یہی ہوتی ہوگی کہ ہر افسر اپنے مقررہ وقت پر مقررہ قواعد کے تحت ریٹائر ہو جائے تاکہ اس کی جگہ نئے سینئر لوگ لے سکیں اس طرح نیچے تک ترقیوں کا عمل جاری و ساری رہے، جنرل راحیل شریف کے فیصلے سے یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

جنرل راحیل شریف کے عہدہ سنبھالنے کے تھوڑے عرصہ بعد ہی کچھ لوگوں نے توسیع کی بات شروع کردی حالانکہ یہ قبل از وقت تھی۔ اس سارے عرصے میں یار لوگ توسیع کے حق میں دلائل لاتے رہے، جس کا نقطہ عروج جنرل پرویز مشرف کا بیان تھا، لیکن ادھر کچھ عرصے سے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے توسیع کی مخالفت شروع کر رکھی تھی، پہلے تو آصف علی زرداری نے کہا کہ آپ تو تین سال بعد چلے جائیں گے ہم یہیں رہیں گے، پھر اس بیان کی تاویلیں اور وضاحتیں سامنے آنے لگیں، جس بیان کی چنداں ضرورت نہ ہو اس کی وضاحت اسی طرح کرنی پڑتی ہے، قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر چودھری اعتزاز احسن توسیع کی مخالفت کرچکے ہیں اور اس سلسلے میں متعدد بار ان کے بیانات بھی سامنے آچکے ہیں۔ بعض سابق فوجی افسروں کا خیال ہے کہ جنرل راحیل شریف نے اپنے فیصلے کا اعلان کرکے افواہوں کا سلسلہ روک دیا ہے اور قیاس آرائیوں کے دروازے بند کردیئے ہیں۔ جنرل راحیل شریف کا ارادہ سامنے آنے کے باوجود بعض عالی دماغ اب بھی چاہیں گے کہ وہ اپنے ارادے پر نظرثانی کرلیں اور توسیع لے لیں، اس سلسلے میں آپ سوشل میڈیا کو وزٹ کریں تو آپ کو طرح طرح کے خیالات سے واسطہ پڑے گا، عین ممکن ہے جنرل پرویز مشرف باضابطہ طور پر یہ درخواست کردیں کہ آرمی چیف کے فیصلے پر نظرثانی ہونی چاہئے، نظرثانی کی گنجائش تو بہرحال ہوتی ہے لیکن جنرل صاحب نے اپناارادہ واضح کردیا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا عمران خان جب کرکٹ کھیلتے تھے تو انہوں نے ایک دن اچانک ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا، اُن کے مداحین کی خواہش اور کوشش تھی کہ وہ ابھی کھیلتے رہیں، اپیلیں بھی سامنے آتی رہیں لیکن آپ کو معلوم ہے خان صاحب من موجی ہیں وہ اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے، تاآنکہ اس وقت کے صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق نے بھی ان سے اپیل کی کہ وہ ابھی مزید کھیلیں جس پر عمران خان نے ارادہ بدل لیا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ارادے تو بدل بھی سکتے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ جنرل راحیل شریف نے اس مرحلے پر یہ اعلان کرنا کیوں ضروری سمجھا کہ وہ اپنے عہدے کی مدت پوری کرکے ریٹائر ہو جائیں گے، غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ عرصے سے اس ضمن میں ایک متنازعہ بیان بازی شروع ہوگئی تھی۔ جس کا سلسلہ رکنے میں نہیں آ رہا تھا، حالانکہ یہ ساری بحث ہی قبل از وقت ہو رہی تھی اور اسے بعض مخصوص اذہان اپنے مخصوص انداز میں سوچ رہے تھے، اب بھی قیاس آرائیاں کرنے والے تو شاید اپنی پسند کے تبصرے جاری رکھیں لیکن جنرل راحیل شریف نے دوٹوک بات کرکے اس کا راستہ ضرور روک دیا ہے تاہم لوگ اپنی تسلی کیلئے جو چاہیں کہتے رہیں۔

مزید :

تجزیہ -