اعلیٰ افسروں کی سزاؤں سے دلبرداشتہ سینکڑوں تھانیداروں نے ریٹائرمنٹ کیلئے درخواستیں دیدیں

اعلیٰ افسروں کی سزاؤں سے دلبرداشتہ سینکڑوں تھانیداروں نے ریٹائرمنٹ کیلئے ...

  

 فیصل آباد(بیورورپورٹ)فیصل آباد میں سنگین کرائمز پر قابو پانے میں کامیاب نہ ہونے پر نالاں اعلیٰ پولیس افسران کی طرف سے ماتحت افسروں و ملازمین کو تنزلیوں‘ شوکاز نوٹسز اور دیگر مختلف سزاؤں سے دلبرداشتہ تقریبا ایک سو تھانیداروں نے اپنی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے لئے درخواستیں دے دیں تاہم صورتحال کو بھانپتے ہوئے ان درخواستوں پر فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا جبکہ بہت سے ماتحت افسران و ملازمین کسی ’’کھڈے لائن‘‘ پوسٹوں پر تعیناتیوں کو ترجیح دیتے دکھائی دے رہے ہیں اس سلسلے میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق اعلی پولیس حکام ڈکیتی و راہزنی کی سنگین وارداتوں پر کنٹرول کرنے‘اشتہاری ملزمان کی گرفتاریوں میں تساہل‘قتل‘اغواء‘ سنگین واقعات میں فوری رسپانس نہ ملنے پر‘ تھانوں میں خلاف میرٹ فیصلوں اور ناقص تفتیشوں جیسے معاملات بارے مختلف مواقع پر بہتری کے لئے ہدایات جاری کرتے چلے آ رہے ہیں لیکن ان کی کوئی قابل ذکر اصلاح نہ ہو سکی جس پر اعلی حکام نے اردل رومز میں سماعت کے بعد سخت سے سخت سزاؤں کا عمل شروع کر دیا جس کے نتیجے میں انسپکٹر‘ تھانیدار اور دیگر ملازمین نسبتا کم ذمہ دار‘ کم جوابدہ اور ’’کھڈے لائن‘‘ پوسٹوں میں ’’پناہ‘‘لینے کیلئے تگ و دود کرنے لگے ان کی دلبرداشتگی اور خوفزدگی کی کیفیت نے کرائمز میں کمی کی بجائے مزید اضافہ کر دیا اس دوران اس صورتحال سے نالاں بعض پولیس حکام بھی بروقت اور صحیح حکمت عملی نہ اپنا سکے جیسا کہ SOPگارد ڈیوٹی پر تعینات ایک تھانیدار ایک ایس پی کے زیر عتاب آ گیا اس نے اس ایس پی کی گرفت سے باہر جانے کیلئے کسی نہ کسی طرح اپنا تبادلہ کسی دوسری جگہ کروا لیا اسی تھانیدار کو دو مرتبہ اچانک چیک کیا گیا مگر وہ صحیح ڈیوٹی دیتا پایا گیا اسی ایس پی نے تیسری مرتبہ چیک کیا تو اس کا ماتحت کانسٹیبل واش روم جانے کی وجہ سے ڈیوٹی پر موجود نہ تھا‘ پھر وہ گرفت میں آ ہی گیا اور پھر معطل ہو گیابالآخر اس نے ریٹائرمنٹ کیلئے ہی درخواست دے دی بات بات پر دلبرداشتہ قسم کی سزائیں پانے والوں میں جڑانوالہ کے تھانیداروں پہلے نمبر پر اور اقبال ٹاؤن کے دوسرے نمبر پر حکمت عملی اعلی حکام کی ناکام یا ماتحت پولیس افسران و ملازمین کی کرپشن زدہ نااہلی دونوں صورتوں میں سب سے زیادہ متاثر عام لوگ ہی ہو رہے ہیں۔

مزید :

علاقائی -