اختیارات کا ناجائز استعمال، نیب کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور افسران کیخلاف انکوائریاں ری اوپن کرانے کا غور

اختیارات کا ناجائز استعمال، نیب کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور افسران ...

  

لاہور(ارشد محمود گھمن )نیب نے اربوں روپے کی قومی میگا کرپشن میں ملوث بااثر وفاقی و صوبائی ادارں کے کرپٹ اعلیٰ افسران ،سابق و موجودہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے اختیارات کے ناجائز استعمال کیخلاف داخل دفتر کی جانیوالی انکوائریوں کو ری اوپن کر کے کرانے پر غورجبکہ چئیرمین نیب کی ہدیات پر پہلے ہی خود احتسابی ونگ اور نیب ویجیلنس سیل قومی احتساب بیوروکو کرپٹ افسران کے خلاف اندروں خانہ رپورٹ تیار کر کے چیئرمین نیب کو بھجواتے ہیں جن کی رپورٹ پر پہلے ہی 8کرپٹ افسران کو کرپشن کے الزام میں معطل کیا گیا ہے جن کو صیغہ راز میں رکھا جا رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق با وثوق ذرائع سے معلوم ہو ا ہے کہ چیئرمین نیب قمر الزمان چوہدری نے چاروں صوبوں کے علاوہ صوبہ پنجاب کے اضلاع لاہور،نارووال،شیخوپورہ،سیالکوٹ،گوجرانوالہ،گجرات،ملتان ،راولپنڈی،جہلم کے سابق و موجودہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور قومی صوبائی وزراء اور اداروں ،واپڈا،پی آئی اے سوئی نادرن گیس،کوآپریٹو سوسائٹیز و دیگر اداروں میں اربوں روپے کی کی جانیوالی میگاکرپشن میں ملوث سرکاری وریٹائرڈ افسران کے خلاف کارروائی کرنے کا دائرہ کار وسیع کر لیا ہے ۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ چیئرمین نیب نے تمام صوبوں کے ڈی جیز سے رپورٹس منگوا لی ہیں ۔ایسے اراکین قومی وصوبائی اسمبلی جن کے خلاف ترقیاتی فنڈز وغیر ہ کے متعلق تحقیقات جاری تھیں اور کسی وجہ سے داخل دفتر کر دی گئی ہیں ان کو دوبارہ ری اوپن کر کے ایماندار افسران سے تحقیقات کرانے پر غور کیا جا رہا ہے جبکہ نیب نے موجود ایسے افسران جن کے خلاف کرپشن کے شواہد ملے ہیں ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے اور معطل کیے جانیوالے افسران سے اربوں روپے کی انکوائریاں واپس لے کر نئے افسران سے بھی کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -