اوباما ہی نہیں، فرانسیسی صدر نے بھی ڈو مور کا مطالبہ کر دیا، قابل غور

اوباما ہی نہیں، فرانسیسی صدر نے بھی ڈو مور کا مطالبہ کر دیا، قابل غور

  

تجزیہ : چودھری خادم حسین:

سلامتی کونسل کے دو مستقل اراکین اور دو بڑے ملکوں کے صدور نے الگ الگ بیانات میں ایک ہی بات کی ہے اور یہ پاکستان سے ڈو مور کے مطالبے والی ہے۔ فرانس کے صدر نے بھارت کے دورے کے دوران بھارت میں ہوتے ہوئے اور امریکی صدر بارک اوباما نے بھارتی میڈیا سے انٹرویو کے دوران پاکستان کی جدوجہد کو نسلیم بھی کیا تاہم ساتھ ہی پاکستان میں دہشت گردوں کی موجودگی کا بھی کہہ دیا مطلب یہ کہ دونوں صدور کے بیانات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد ہیں۔ اگر ان کی اس بات کو ڈپلومیٹک زبان کا درجہ دیں تو پھر واضح طور پر یہی مطلب نکلتا ہے کہ دہشت گردی پاکستان کے اندر سے ہے یوں یہ بھارتی موقف کی تائید ہے۔ فرانسیسی صدر نے تو یہ بھی کہا کہ پاکستان پٹھان کوٹ حملے کے مجرموں کو کٹہرے میں لائے۔ دوسری طرف ہمارے وزیر اعظم نے لندن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بہت واضح انداز میں کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بھرپور کوشش کر رہا ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے۔ وزیر اعظم نے سانحہ باچا خان یونیورسٹی چار سدہ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ حملہ آور افغانستان کی سرزمین سے آئے۔ انہوں نے افغان حکومت کو تو بری الذمہ قرار دیا لیکن یہ ضرور کہا کہ افغان حکومت کو خود کارروائی کرنا چاہئے۔

وزیر اعظم نے بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی اظہار خیال کیا اور یہ بتایا کہ ہمسایوں سے اچھے اور خوشگوار تعلقات ان کا مشن ہے۔ انہوں نے ملک کے اندر اقتصادی ترقی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اب دنیا مان رہی ہے۔ یہ صورت حال از خود واضح ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کی اہمیت اور اس کی جغرافیائی حیثیت کو تسلیم کئے جانے کے باوجود بھی بھارتی پلہ بھاری ہے اور دنیا کے بڑے ممالک بھی ادھر توجہ مبذول کئے ہوئے ہیں۔ یہ ہماری خارجہ پالیسی میں کچھ کمی کے باعث ہے کہ ہم خود دہشت گردی کا شکار ہیں۔ قربانیاں دے رہے ہیں۔ ان کو مانا بھی جاتا ہے۔ اس کے باوجود ہم کو قابل اعتماد نہیں گردانا جار ہا۔ وزیر اعظم کو اس طرف توجہ دینا ہو گی اور اپنی جماعت میں سے کسی اہم اور ذہین شخصیت کو یہ وزارت دینا چاہئے تاکہ دنیا میں پاکستان کا مقدمہ موثر طور پر پیش کیا جا سکے۔ یہ افسوسناک ہے کہ امریکی اور فرانسیسی صدور بیک وقت یہی بات کہہ رہے ہیں۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس محاذ پر ٹھوس کام نہیں کیا حالانکہ حکمرانوں کو چاہئے تھا کہ ٹھوس حقائق کے ساتھ دنیا کو یہ باور کرائیں کہ پاکستان کس بری طرح متاثر ہے اور کن حالات میں مقابلہ کرتا چلا آ رہا ہے۔ صرف پاکستان کے اندر الزامات کا جواب دینا ہی کافی نہیں موثر عملی کام کی ضرورت ہے۔

حکمران جماعت کو بہر حال تنقید کا سامنا ہوتا ہے اور اسے برداشت بھی کرنا چاہئے بلکہ اصولاً تنقید ہی میں سے خیر کے پہلو نکالنا ہوتے ہیں۔ اب چار سدہ یونیورسٹی کے سانحہ کے بعد زیادہ شدید تنقید پنجاب کے حوالے سے ہو رہی ہے کہ یہاں دہشت گردی کے اڈے ہیں اور صوبائی حکومت کارروائی سے گریز کر رہی ہے، پنجاب میں سی ٹی ڈی متحرک ہے اور بہت سے لوگ گرفتار یا حراست میں لئے گئے اس کے باوجود اطمینان بخش کارروائی نہیں ہوئی۔ اب تو لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کا بہت چرچا ہے اور ان کے لئے وزیر داخلہ کا نرم گوشہ بیان کیا جا رہا ہے۔ مولانا کے بیانات موجود ہیں جن سے ان کے ارادوں کا اظہار ہوتا ہے تاہم حکومت کارروائی سے گریزاں ہے اس حوالے سے حکمت کی سمجھ نہیں آتی۔ اسی قسم کے اعتراضات اور حوالوں کے باعث امریکہ اور فرانس کے صدر کو ڈومور کہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھا جائے اور مثبت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ پنجاب میں اب تک جو گرفتاریاں ہو چکیں وہ زیادہ تر غیر موثر ہیں کہ ایسے حضرات پکڑ میں آئے ہیں جو نظریاتی طور پر متاثر ہیں۔ یہ درست ہے کہ بعض سہولت کارمل گئے ہیں لیکن زیادہ تر نظریاتی قسم کے حضرات ہیں۔

ایک امر بالکل واضح ہے کہ پاکستان میں بھاری ترین اکثریت انتہا پسندی کی مخالف ہے۔ حکومت کو اب راسخ العقیدہ علماء کرام کی خدمات بھی حاصل کرنا ہوں گی کہ ذہنی تفکر سے آزاد کرنا ضروری ہے اور انتہا پسندی کے خلاف بھی مہم شروع ہونا چاہئے۔

مزید :

تجزیہ -