آرمی چیف کے ملازمت میں توسیع نہ لینے کے فیصلہ پر افسوس ہوا ،پرویز مشرف

آرمی چیف کے ملازمت میں توسیع نہ لینے کے فیصلہ پر افسوس ہوا ،پرویز مشرف

  

 اسلام آباد(این این آئی)آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق صدر جنرل(ر)پرویز مشرف نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی طرف سے مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کے فیصلہ پر افسوس ہوا تاہم یہ ان کا ذاتی حق ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں، مولانا عبدالعزیز نے خود داعش کے ساتھ اپنے تعلقات کا اظہار کیا عجیب بات ہے کہ حکومت اس پراقدامات نہیں کررہی،ہمارے فیصلوں کی بنیاد سب سے پہلے پاکستان ہونا چاہئے ۔سانحہ چار سدہ میں ’’را‘‘ اور افغان خفیہ ایجنسی ملوث ہیں،حافظ سعید دہشت گرد نہیں، مسعود اظہر دہشت گرد ہے مگر اس حوالے سے حکومت پاکستان ایکشن لے،اسے بھارت کے حوالے نہیں کیاجانا چاہئے ۔ پیر کو پارٹی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹرمحمد امجد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر قوم کا مورال بلند کیا ہے۔وہ ایک محب وطن اور قابل جرنیل ہیں اسی لئے انہوں نے ملکی حالات کو خوش کن جہتوں سے روشناس کروایا۔ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ملک کو بہتری کے راستے پر لے جانے کی بھرپورصلاحیت رکھتے ہیں۔اس لئے ان کے مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کے فیصلے پر افسوس ہوا۔انہوں نے کہا کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے کہ توسیع لیں یا نہ لیں تاہم ہمیں اپنے فیصلے سب سے پہلے پاکستان کی بنیاد پر کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ چارسدہ میں باچا خان یونیورٹی پر حملہ میں بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان خفیہ ایجنسی کا ہاتھ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ حافظ سعید دہشت گرد ہیں۔مسعود اظہر ایک دہشت گرد ہے جس نے ان پر بھی حملہ کیاتھا۔انہوں نے کہا کہ مسعود اظہر کے خلاف حکومت کو خود ایکشن لینا چاہئے نہ کہ اسے بھارت کے حوالے کردیا جائے۔انہوں نے کہا کہ مساجد آباد ہونے کے لئے بنائی جاتی ہیں اور کوئی بھی مسلمان یہ کبھی نہیں سوچ سکتا کہ کسی مسجد کو بند کردیا جائے۔ میں کبھی کسی مسجد کے خلاف نہیں ہوسکتا تاہم لال مسجد کی اوٹ میں بیٹھے کچھ عناصر حکومتی رٹ کو چیلنج کررہے ہیں۔ مولانا عبدالعزیز نے خود داعش کے ساتھ اپنے تعلقات کا اظہار کیاہے عجیب بات ہے کہ حکومت اس پراقدامات نہیں کررہی۔

پرویز مشرف

مزید :

علاقائی -