تھانہ کلچر میں تبدیلی ۔ مسرت بی بی کی آپ بیتی

تھانہ کلچر میں تبدیلی ۔ مسرت بی بی کی آپ بیتی
 تھانہ کلچر میں تبدیلی ۔ مسرت بی بی کی آپ بیتی

  

پولیس کا سب سے بڑا مسئلہ عوام کے دل میں پولیس کے لئے نفرت کا تاثرہے۔ اس نفرت کی کئی وجوہات ہیں۔ جن میں ایک تھانہ کلچر۔ دوسری پولیس کا عوام کے ساتھ رویہ۔ اور تیسرا یہ کہ پولیس کوئی عوام کو خوش کرنے کا ادارہ نہیں۔ بلکہ لوگ پولیس کے پاس کسی نہ کسی تکلیف میں ہی آتے ہیں۔ مدعی مقدمہ بھی اپنے مسئلہ کے حل کے لئے پولیس سے غیر قانونی کام کی توقع رکھتا ہے تا کہ اس کا مسئلہ فوری حل ہو جائے۔ اور ملزم بھی پولیس سے غیر قانونی کام کی توقع رکھتا ہے تا کہ وہ اپنے جرم کی سزا سے بچ سکے۔ اس طرح جب فریقین کی توقع پوری نہیں ہو تی تو وہ پولیس سے نالاں نظر آتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ پولیس سب کام قانون کے مطابق کر رہی ہے۔ یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے پولیس کا نظام تفتیش نہایت خراب ہے۔ اور عوام کو پولیس سے انصاف نہیں مل رہا۔ حالانکہ پولیس عوام کو سستا اور فوری انصاف فراہم کرنے کا پہلا دروازہ ہے۔ اگر ہم اس کو ٹھیک کر لیں تو نطام انصاف کی آدھی خرابیاں خود بخود ٹھیک ہو جائیں گی۔

یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ عرف عام میں یہی کہا جاتا ہے کہ پولیس کی نہ دوستی اچھی نہ دشمنی۔ بس ان سے دور ہی رہنا چاہئے۔ اسی طرح لوگ تھانے جانے سے بھی ڈرتے ہیں۔ تھانوں کے حوالہ سے بھی معاشرہ میں خوفناک تاثر پایا جاتا ہے۔ کہ یہ کہا جا تا ہے اللہ کرے کبھی تھانے جانے کی ضرورت نہ ہی پیش آئے۔ پنجاب کی موجودہ حکومت نے تھانہ کلچر کی تبدیلی کے لئے کافی اقدامات کئے ہیں۔ جس سے کافی حد تک تھانہ کلچر تبدیل ہوا ہے لیکن ابھی وہ حقیقی تبدیلی نہیں آئی۔ جس کی جستجو کی جا رہی ہے۔

سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) امین نے لاہور کے تمام تھانوں میں ایڈمن افسروں کو تعینات کیا ہے۔ میرے ایک دوست کا اس پر دلچسپ تبصرہ ہے۔ اس کے مطابق ایڈمن افسروں کا تقرر ایسا ہے جیسے آپ کسی ہوٹل کا ایک خوبصورت استقبالیہ بنا دیں۔ اور وہاں بہت خوش اخلاق سٹاف رکھ دیں۔ چاہے ہوٹل کی باقی سہولیات معیاری نہ ہی ہوں۔ لیکن اچھی استقبالیہ بھی ہوٹل کی بہت سے خامیوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ اس طرح ایڈمن افسر کا تجربہ جس قدر کامیاب ہو تا جائے گا۔ پولیس کی باقی خامیوں پر بھی کافی حد تک پردہ پڑتا جائے گا۔ یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ ایڈمن افسران لاہور کے تھانہ کلچر میں ایک معنی خیز تبدیلی لانے میں کامیاب ہو ئے ہیں۔ اس سے کم ازکم یہ تعین تو ہو گیا کہ امین وینس کا سفر درست سمت میں ہے۔

پولیس افسران کو میڈیا کے لوگوں سے ہمیشہ ایک گلہ رہتا ہے کہ وہ ان کی منفی باتوں کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ لیکن اگر پولیس نے کوئی اچھا کام کیا ہو تو اس کو میڈیا میں جگہ نہیں ملتی۔ اس طرح میڈیا میں صرف منفی باتیں ہی رہ جاتی ہیں۔ لہذا وہ کچھ بھی کر لیں میڈیا ان کا امیج ٹھیک نہیں ہونے دیتا۔ اس ضمن میں میڈیا کی یک طرفہ پالیسی کو پولیس بھی اتنی ہی نفرت سے دیکھتی ہے۔ جتنی ہمارے خیال میں عام آدمی پولیس سے نفرت کرتا ہے۔ لہذا میڈیا کی اس یک طرفہ پالیسی کے بت توڑتے ہوئے ایک مسرت نامی خاتون سے ہونیو الی گفتگو لکھ رہا ہوں۔

مسرت بی بی کا کہنا تھا کہ قریبا دو ہفتے قبل لبرٹی مارکیٹ گلبرگ میں اپنی بیٹی عائشہ جس کی عمر 16 سال ہے کے ہمراہ شاپنگ کے لئے گئی میری بیٹی ذہنی طورپر تھوڑی کمزور ہے اور وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھڑک اٹھتی ہے اس روز بھی دکان میں شاپنگ کرتے ہوئے اسے ایک سوٹ پسند آیالیکن میں نے اسے کہا کہ جو سوٹ پچھلی دکان میں دیکھا تھا وہ اس سے زیادہ بہتر تھالہذا تم ساتھ والی دکان سے وہ سوٹ لے لو اور میں آکر پیمنٹ کرتی ہوں ۔تھوڑی دیر بعد جب میں اس دکان پر گئی تو دیکھا کہ میری بیٹی وہاں نہیں تھی تو میں پریشان ہو گئی اور بیٹی کو کافی تلاش کیا لیکن جب وہ نہ ملی تو میں نے تھانے جانے کا سوچا لیکن میری ہمت نہیں پڑ رہی تھی کیونکہ پولیس کے بارے میں میراتاثراچھا نہ تھا اور میرے نزدیک پولیس والے ظالم اور بد تمیزہوتے ہیں لیکن مجبوراً ہمت کر کے تھانہ گلبرگ گئی تو وہاں محمد علی نامی پولیس ایڈمن افسر نے مجھ سے جس طرح برتاؤ کیا اور جس طرح مجھے حوصلہ دیا کہ ماں جی آپ نہ گھبرائیں ہم آپ کی بیٹی آپ کو ضرور ڈھونڈ دیں گے پھر جس طرح پولیس والوں نے بھاگ دوڑ کر کے میری جوان بیٹی کو تلاش کر کے دیا اس نے پولیس والوں کے بارے میں میرے تمام خیالات کو غلط کر دیا۔ پولیس والے اتنے اچھے ہونگے میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا اور تھانہ گلبرگ کے ایڈمن افسر محمد علی نے جس طرح دلچسپی اور لگن کے ساتھ ہمت کر کے میری بیٹی کو تلاش کیا میرے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں جن سے میں پولیس کا شکریہ ادا کروں ۔میں نے جب ان سے پوچھا کہ اماں جی آپ کبھی اس سے پہلے بھی تھانے گئیں یا کسی پولیس والے سے آپ کا واسطہ پڑا تو انہوں نے جواب میں کہا کہ بیٹا میں تو نہ پہلے کبھی کسی تھانے گئی اور نہ ہی کسی پولیس والے سے کوئی واسطہ تھا تو میں نے کہا کہ اماں جی آپ پولیس والوں کو اتنا برا کیوں سمجھتی تھیں تو انہوں نے بتایا کہ لوگ پولیس کو برا کہتے تھے اور پولیس کا بڑا ظالمانہ چہرہ پیش کرتے تھے اس لئے میرا تاثر بھی پولیس کے لئے غلط ہو گیا تھا۔

مسرت بی بی کی یہ داستان ویسے تو ایک عام داستان ہے۔ لاہور جیسے بڑے شہر کی بڑی بڑی مارکیٹوں میں ایسے واقعات اکثر ہوتے ہیں۔ ہر پولیس افسر محمد علی بھی نہیں۔ لیکن اگر ایک محمد علی بھی ہے تو قابل تحسین ہے۔ اگر ہم ایسا ہی کرلیں کہ جب بھی کوئی کسی پریشانی یا مصیبت میں تھانے جائے تو اس سے اخلاق سے پیش آیا جائے تو بھی پولیس کا امیج جلد ٹھیک ہو سکتا ہے۔ اگر پولیس سمجھتی ہے کہ ایڈمن افسروں کا تجربہ کامیاب ہو گیا ہے تو اسے پورے پنجاب میں پھیلانا چاہئے۔ شاید اسی طرح بہتری کی راہ چل نکلے۔

مزید :

کالم -