ڈاکٹر عاصم حسین ذہنی مریض ہیں،سرکاری عہدے کے اہل نہیں :قانونی ماہرین

ڈاکٹر عاصم حسین ذہنی مریض ہیں،سرکاری عہدے کے اہل نہیں :قانونی ماہرین

  

کراچی ( رپورٹ : عامر چوہان ) کرپشن و بد عنوانی کے الزام میں زیر حراست ڈاکٹر عاصم حسین کیس سے متعلق قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں ذہنی مریض قرار دئیے جانے کے بعد وہ آئین و قانون کی رو سے کسی بھی سرکاری عہدے پر فائز نہیں رہ سکتے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق سابق وفاقی مشیر پیٹرولیم و چیئر مین سندھ ہائر ایجو کیشن کمیشن ڈاکٹر عاصم حسین پر اس وقت متعدد سنگین نوعیت کے کیسز زیر سماعت ہیں اسی دوران ان کے وکلاء نے عدالت میں ڈاکٹر عاصم کی ذہنی حالت غیر تسلی بخش قراردی اور عدالت سے ان کے علاج کیلئے استدعا کی جس پر معزز عدالت نے انکی ذہنی کیفیت کی رپورٹ مرتب کرنے کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا جس کے بعد جناح ہسپتال کے پانچ رکنی میڈیکل بورڈ میں شامل پروفیسر ہارون اور پروفیسر اقبال آفریدی ،قائمقام انچارج پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر رخسانہ ستار،ریڈیولوجی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر طارق محمود اور ڈاکٹر رضا ۔کے۔ رضوی نے ڈاکٹر عاصم حسین کی ذہنی حالت کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے رپورٹ نیب کو بھجوا دی اس ساری صورتحال کے باوجود ڈاکٹر عاصم بدستور چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے عہدے پر فائز ہیں اور سندھ حکومت نے انہیں ہٹانے اور ان کے کیس کے حوالے سے کوئی حکم نامہ واعلامیہ جاری نہیں کیا ہے۔اس حوالے سے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے معروف قانون داں و سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن یاسین آزاد نے کہا ہے کہ جب کوئی میڈیکل بورڈ کسی بھی شخص کی ذہنی کیفیت کو غیر تسلی بخش قرار دے تو مذکورہ شخص چاہے سرکاری عہدے پر کیوں نہ ہو وہ نااہل ہوجاتا ہے اگر بات کی جائے ڈاکٹر عاصم حسین کیس کی تو میڈیکل بورڈ کی جانب سے ان کی ذہنی حالت غیر تسلی بخش دئیے جانے کے بعد سندھ حکومت کو چاہئے کہ فوری طور پر انہیں چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے عہدے سے ہٹائے جبکہ سپریم کورٹ کے وکیل عبدالرشید نے بتایا کہ قانون میں ایسی کوئی شق موجود نہیں ہے جس کے تحت ذہنی امراض میں مبتلا شخض کو اعلیٰ عہدے پر رکھا جائے اور انہیں تمام سرکاری مراعات بھی دی جائیں چونکہ ڈاکٹر عاصم حسین ذہنی مریض ہے اور ان میں خود کشی کرنے کے امکانات بھی تھے اس لئے ان کے وکیل نے عدالت سے علاج کروانے کی استدعا کی تھی مگر قانون کی نظر میں ایک ذہنی مریض شخص کوئی بھی سرکاری عہدہ نہیں رکھ سکتا ہے لیکن ڈاکٹر عاصم حسین ذہنی مریض ہوتے ہوئے بھی ہائر ایجوکیشن بورڈ کے چیئر مین ہیں جن کا ذہنی مرض ثابت ہونے کے باوجودانہیں اب تک اس عہدے سے ہٹایا نہیں گیا ہے۔ اس حوالے گفتگو کرتے ہوئے ایڈوکیٹ لیاقت علی خان نے کہا کہ ذہنی مرض میں مبتلا شخص آئین و قانون کے مطابق سرکاری عہدے پر تعینات رہنے کا اہل نہیں ہے۔ ڈاکٹر عاصم کیس کے حوالے سے بات کی جائے تو میڈیکل بورڈ کی جانب سے ان کی ذہنی حالت غیر تسلی بخش قرار دی گئی ہے لیکن تاحال سندھ حکومت نے انہیں اب تک برخاست نہیں کیا ہے ۔اس ضمن میں روزنامہ پاکستان نے متعدد بار ترجمان وزیر اعلیٰ ہاؤس سے رابطے کی کوشش کی مگر ان سے رابطہ نہیں ہو سکا ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -