سندھ اسمبلی،جام مہتاب حسین ڈاہر کے بیان پر احتجاج اور شورشرابہ

سندھ اسمبلی،جام مہتاب حسین ڈاہر کے بیان پر احتجاج اور شورشرابہ

  

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) سندھ اسمبلی میں پیر کو اپوزیشن ارکان نے اس وقت زبردست احتجاج اور شور شرابہ کیا ، جب وزیر صحت جام مہتاب حسین ڈاہر نے تھر کی صورت حال پر بیان دینا شروع کیا ۔ وزیر صحت نے کہا کہ میڈیا میں تھر میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 105 بتائی جا رہی ہے لیکن اصل تعداد 39 ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں تو چاہتا ہوں کہ ایسا پاکستان بن جائے کہ کوئی نہ مرے لیکن اللہ کی مرضی کے آگے کچھ نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ تھر کے دور دراز علاقے میں ڈاکٹرز جانے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ اس صورت حال میں بھی ہم نے ہر اسپتال میں امراض اطفال کے ڈاکٹرز اور خواتین گائنی کالوجسٹس کو تعینات کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تھر میں اصل مسئلہ قبل از وقت زچگی کا ہے ۔ 98 فیصد زچگی دائیوں کے ذریعہ ہوتی ہے ۔ 80 سے 90 فیصد بچوں کا پیدائش کے وقت وزن 1 سے 2 پاؤنڈ کے درمیان ہوتا ہے ۔ اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ وزیر صحت تھر کے معاملے پر بیان دے رہے ہیں لیکن یہ بہت اہم مسئلہ ہے اور اس مسئلے پر ارکان بات کرنا چاہتے ہیں ۔ ان کے ذہنوں میں بہت سارے سوالات ہیں ۔ ان کی بات سن کر پھر حکومت کی طرف سے کوئی بیان دیا جائے ۔ وزیر صحت نے کہا کہ دعا کے وقفے کے دوران متعدد ارکان نے تھر کا مسئلہ اٹھایا تھا ۔ اس لیے میں بیان دے رہا ہوں ۔ اس پر متعدد اپوزیشن ارکان کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ پہلے ہم اس مسئلے پر بات کرنا چاہتے ہیں ۔ اپوزیشن ارکان کے شور شرابے کے دوران وزیر صحت نے اپنا بیان جاری رکھا اور کہا کہ اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کو بٹھایا جائے اور پھر بات کی جائے ۔ میںٰ آئیں بائیں شائیں نہیں کروں گا ۔ جن لوگوں کو میڈیکل کا ذرا بھی علم نہیں ہے ، وہ اس معاملے کو اچھال رہے ہیں ۔ اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ ایوان یہ چاہتا ہے کہ اس مسئل پر بحث کی جائے ۔ اس کے لیے کوئی وقت مقرر کر لیا جائے ۔ اپوزیشن ارکان نے اپنا شور شرابہ جاری رکھا ۔ اسپیکر نے کہا کہ ایوان کو مچھلی بازار نہ بنایا جائے اور اس معاملے پر بحث کے لیے کوئی وقت مقرر کر لیا جائے تاہم یہ طے نہ ہو سکا کہ یہ بحث کب ہو گی ۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے سے پہلے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے جام مہتاب ڈاہر نے کہا کہ رواں ماہ کے 25 دنوں کے دوران تھرپارکر میں 39 بچوں کی اموات ہوئی ہیں اور اس سلسلے میں الیکٹرونکس اور پرنٹ میڈیا میں آنے والے اعداد و شمار میں کسی قسم کے حقائق نہیں ہیں۔ تھرپار کا اپنا ایک کلچر ہے اور یہ کئی صدیوں پرانا کلچر ہے، جسے اتنی جلدی تبدیل نہیں کیا جاسکتا اور جلد شادی ،وقت سے پہلے بچوں کی پیدائش، وہاں کی خواتین کا فیلڈ میں شادی کے بعد اور دوران زچگی کام کرتے رہنا اور دائی کے ذریعے بچوں کی پیدائش اس کے حقیقی اسباب ہیں۔ تھرپارکر میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف دن رات وہاں کے لوگوں کی خدمت کررہا ہے تاہم کوئی بچہ ایسی حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہو، جس کا بچنا ممکن نہ ہو تو اس میں ڈاکٹروں یا حکومتوں کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں ہے۔صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ یکم جنوری سے 25 جنوری کی صبح 8 بجے تک تھرپارکر میں 25 دنوں کے دوران 5 سال سے کم عمر 39 بچوں کی اموات ہوئی ہیں، جن میں مٹھی میں 34 ، چھاچڑوں میں 3 اور نگرپارکر میں 2 بچوں کی اموات ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض میڈیا ان ہلاکتوں کو کئی گنا زیادہ بتا رہا ہے، جو کہ حقیقت کے منافی ہے۔ جام مہتاب ڈہر نے کہا کہ تھرپارکر کا کلچر صوبے کے دیگر علاقوں کی نسبت کافی علیحدہ اور پرانا ہے اور اس کلچر کو فوری طور پر کوئی بھی تبدیل نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ آغا خان اسپتال، لیاقت نشینل اسپتال سمیت مختلف نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیکل سے وابستہ ٹیموں نے تھرپارکر کا دورہ کیا ہے اور اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ یہاں کے کلچر کے باعث یہاں بچوں کی پیدائش قبل ازوقت (Premeture) ہوتی ہے اور اس کا سبب لڑکیوں کی شادی کم عمری مین ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پیدا ہونے والے بچوں میں زیادہ تر بچوں کا وزن صرف ڈیڑھ سے دو پوانڈ ہوتا ہے اور قبل ازوقت پیدائش اور کلچر کے تحت دائیوں کے ہاتھوں ڈیلیوری بھی مختلف انفیکشن کا سبب بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں زیادہ تر اموات ایسے بچوں کی ہورہی ہے، جو مکمل طور پر انفیکشن میں مبتلا ہوکر داخل کرائے جاتے ہیں اور ان کا بچنا ناممکن ہوتا ہے۔ صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ محکمہ صحت اور سندھ حکومت تھرپارکر میں تمام تر طبی سہولیات کی فراہمی میں دن رات کوشاں ہے اور ہمارے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف دن رات مریضوں کی تیماداری میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت نے تھرپارکر میں جہاں تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے اقدامات کئے ہیں وہاں عوام میں شعور کو بیدار کرنے کے لئے بھی آگاہی مہم کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -